سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے امیر معاویہ (رضی اللہ عنہ) پر لعنت کی. (الکامل)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر روافض شیعہ کا الزام نمبر 46

🔺شیعہ الزام👇👇
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے امیر معاویہ (رضی اللہ عنہ) پر لعنت کی. (الکامل)

🔹الجواب اہلسنّت🔹
علامه محب الدين ألخطیب لکھتے ہیں:
بلاشبہ اسلامی تاریخ کی تدوین بنو امیہ کے زوال اور (بنو عباس) کی سلطنت قائم ہونے پر (جن کو بنو امیہ کے محاسن و مفاخر کا ذکر بالکل نہیں بھاتا تھا) شروع ہوئی تاریخ اسلامی کی تدوین تین قسم کے گروہوں نے شرع کی

🔸ایک گروہ وہ تھا جو
اعداء بنو امیہ کے تقرب کے پیش نظر اشعار کہتا اور کتابیں لکھا کرتا تھا

🔸دوسرا گروہ، وہ تھا جو اپنے زعم باطل میں یہ خیال کرتا تھا کہ دین مکمل نہیں ہوتا اور قرب الٰہی حاصل ہوتا ہے جب تک کہ حضرت ابوبکر و عمر و عثمان اور تمام عبد شمس ، بنوامیہ (رضوان اللہ علیہم اجمعین ) کی شہرت کو داغدار نہ کیا جائے

🔸 اور تیسرا گروہ اہل انصاف و اہل د ین کا تھا جیسے طبری، ابن عساکر ابن کثیر ان کے نقطہ نظر میں انصاف یہ تھا کہ ہر مذہب و مسلک کے اہل خبر مثلاً جلے بھنے رافضی ابومخنف لوط بن یحییٰ اور معتدل قسم کے سیف بن عراقی کی خبریں جمع کر دی جائیں اور شاید ان میں سے بعض اربابِ اقتدار کی رضا جوئی کے پیش نظر
اس پر مجبور ہو گئے ہوں اور ان میں سے اکثر نے اپنی خبر راویوں کے نام ذکر کر کے لکھی ہے تا کہ ہر خبر کے راوی پر بحث کر کے (اس کی صحت یا عدم صحت) پر بصیرت حاصل کر لی جائے۔
(العواصم من القواصم حاشیہ صفحہ ١٧٧)

علامہ محب الدین الخطیب کی اس بات سے با خوبی واضح ہوتا ہے کہ بنوامیہ کے بارے تاریخی کا مواد محض دشمنی پر مبنی اور خلاف حقیقت گھڑا ہوا ہے
ان تینوں گروہوں کی نشاندہی جن کی علامہ محب الدین نے فرمائی کوئی بھی بنو امیہ کے خلاف لکھنے سے محفوظ اور بچا ہوا نہیں اقتدار کی طاقت نے تاریخ میں جو تصرف کیا ہے اس کے بعد کم ازکم بنو امیہ کے اخبار و احوال پر تحریرات ضرور اعتماد سے خالی ہو گئی ہیں.

♦️مذکورہ اعتراض بھی الکاہل فی التاريخ سے حاصل شدہ ھے. جو جھوٹ کا پلندہ اور روایات و روایت کے پیمانہ پر بے کار ثابت ہوتا ہے
روایتاً تو اس طرح کہ یہاں مکمل صفحہ پر اس کی سند موجود نہیں اور بے سند خبر اور وہ بھی تاریخ کی، جبکہ وہ خبر بھی امووی صحابی رضی اللہ عنہ کے خلاف ہے اور یہ معلوم ہے کہ جس عہد میں یہ تاریخ لکھی گئی.
وہ بنو عباس کا دور تھا جو بنوامیہ کے خلاف سخت عداوت رکھتے تھے تو ایسی صورت میں بے سند روایت کے جھوٹا اور موضوع ہونے کی یہی کافی دلیل ہے اور درایتاً اس طرح کہ ایک صحابی پر لعنت کرنا جبکہ لعنت کرنے سے اللہ کا دین سختی کے ساتھ منع کرنا ہے بھلا ایک صحابی یہ کام کرے عقل اس کو بھول نہیں کرتی کہ صحابہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے تربیت یافتہ لوگ تھے جو دین کا درد اور پاس لحاظ ان کو تھا وہ اور کسی کو نہیں ہوسکتا اگر وہ خود ہی احکامات الٰہی کے پاس دار نہیں تھے تو پھر اور کون ہوسکتا ہے؟