نواسہ رسول سیدنا حسن رضی اللہ عنہ

❤️سلسلہ تعارف اصحاب رسولﷺ❤️

🔵نواسہ رسول سیدنا حسن رضی اللہ عنہ🔵

🔹نام مبارک: آپ کا نام مبارک “حسن”

🔹کنیت :”ابو محمد”
آپ کا یہ نام خود سردار انبیاء حضور تا جدار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھا تھا۔
اور آپ سے پہلے دنیا میں کسی بچے کا نام ”حسن” نہیں رکھا گیا۔

🔹نسب مبارک :علامہ ابن اثیر جزری رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں کہ
:حضرت سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا نسب مبارک یہ ہے۔”حسن بن علی بن ابی طالب بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف القر شی الہاشمی”آپ کی والدہ ماجدہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی ہیں جو دنیا کی تمام عورتوں کی سردار ہیں۔

🔹تاریخ پیدائش: آپ ۱۵/شعبان المعظم سن ۳/ ہجری میں مدینہ منورہ کی سر زمین پر پیدا ہوئے۔

🔹فضائل ومناقب: کتب احادیث میں بہت ساری روایتیں مو جود ہیں جس سے آپ کی عظمت شان بخوبی واضح ہوتی ہے، اور ساتھ ہی آپ کی حیات مبارکہ کے مختلف حالات کا بھی پتہ چلتا ہے۔یہاں پر بطور اختصار کچھ روایتیں نقل کی جاتی ہیں ۔

[1] سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:جب حسن کی پیدائش ہوئی تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فر مایا: مجھے میرا بیٹا دیکھاؤ،تم نے اس کا کیا نام رکھا ہے؟
میں نے کہا “حرب”حضور نے فر مایا: نہیں وہ”حسن “ہے۔ پھر جب حسین پیدا ہوئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فر مایا: مجھے میرا بیٹا دیکھاؤ، تم نے اس کا کیا نام رکھا ہے؟ میں نے کہا”حرب” حضور نے فر مایا: نہیں وہ”حسین” ہے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: پھر جب تیسرے لڑکے کی پیدائش ہوئی تو حضورﷺ تشریف لائے اور فر مایا: مجھے میرا بیٹا دیکھاؤ، تم نے اس کا کیا نام رکھا ہے؟ میں نے کہا”حرب”حضور نے فر مایا: نہیں وہ”محسن” ہے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر مایا: میں نے اپنے بیٹوں کا نام ہارون علیہ السلام کے بیٹوں کے نام” شبّر، شبّیر، مبشّر، پر رکھا ہے۔
[المستدرک علی الصحیحین للحاکم،کتاب معرفۃ الصحابہ،ومن مناقب الحسن والحسین ابنی بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، حدیث:۴۷۷۳]

[2] حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ :نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ،حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو اپنے کاندھے پر بیٹھا ئے ہو ئے تھے،تو ایک شخص نے کہا:اےبچے کتنی اچھی سواری ہے جس پر تو سوار ہے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا:یہ بھی تو دیکھو کہ وہ سوار کتنا اچھا ہے۔
[جامع تر مذی،کتاب المناقب،باب مناقب الحسن والحسین رضی اللہ عنہما،حدیث:۳۷۸۴]

[3] حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ آپ کے اہل بیت میں آپ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا: حسن اور حسین۔راوی بیان کرتے ہیں کہ : آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہاسے کہتے”میرے دونوں بیٹے کو بلاؤ۔{جب سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما کو لایا جاتا}تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں صاحبزادوں کو سونگھتے اور اپنے ساتھ چمٹا لیتے۔
[جامع تر مذی،کتاب المناقب، باب مناقب الحسن والحسین رضی اللہ عنہما،حدیث :۳۷۷۵]

[4] حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑ ھے اور آپ نے {حضرت سیدنا حسن رضی اللہ عنہ}کے بارے میں ارشاد فر مایا:بے شک یہ میرا بیٹا سردار ہے۔اللہ تعالی اس کے ذریعے مسلمانوں کی دو بڑی جماعت کے درمیان صلح کرادے گا۔
[جامع تر مذی،کتاب المناقب، باب مناقب الحسن والحسین رضی اللہ عنہما،حدیث :۳۷۷۳]

[5] حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:میری والدہ نے مجھ سے پو چھا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کتنے دنوں بعد جاتے ہو۔میں نے کہا کہ:اتنے اتنے دنوں سے میرا آنا جانا چھوٹا ہوا ہے۔اس پر وہ ناراض ہو گئیں۔تو میں نے کہا کہ:اچھا، اب آپ مان بھی جائیے۔میں آج ہی حضور کی خدمت میں حاضر ہو کر نماز مغرب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ادا کروں گا ،اپنی اور آپ کی مغفرت کی دعا کرنے کی درخواست کروں گا،حضرت حذیفہ کہتے ہیں:میں گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز مغرب ادا کیا،پھر حضور عشاء تک نماز میں مشغول رہے،عشاء پڑ ھنے کے بعد جب آپ لوٹے تو میں آپ کے پیچھے ہو لیا ،حضور نے جب میری آواز سنی تو فر مایا:کون؟حذیفہ،میں نے کہا:جی ہاں،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا: تمہیں کیا کام ہے؟
اللہ تمہاری اور تمہاری والدہ کی مغفرت فر مائے۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا:بے شک ایک فر شتہ جو آج رات سے پہلے کبھی زمین پر نہ آیا،آج اس نے اپنے رب سے اس بات کی اجازت مانگی کہ وہ مجھے سلام کرے اور مجھے اس بات کی خوشخبری دے کہ:فاطمہ جنتی عورتوں کی سردار ہے اور حسن ،حسین جنتی جوانوں کے سردار ہیں۔۔
[جامع تر مذی،کتاب المناقب، باب مناقب الحسن والحسین رضی اللہ عنہما،حدیث :۳۷۸۱]

🔹مختصر حالات زندگی: حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ بڑے حلیم،کریم اور متقی و پر ہیز گار تھے ،انہوں نے اپنی زندگی میں دو بار اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں خرچ کردیا ۔اس کے علاوہ جب بھی راہ خدا میں مال لٹانے کی باری آئی تو انہوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ ایک روایت کے مطابق آپ نے ۵۰/مرتبہ پیدل حج کیا۔وہ کہتے تھے کہ:مجھے اپنے رب سے حیاء آتی ہےکہ میں اس سے ملاقات کروں اور اس تک پیدل چل کر نہ جاؤں۔

🔹 رمضان سن 40/ہجری میں اپنے والد ماجد حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد خلیفہ ہوئے،چالیس ہزار سے زیادہ مسلمانوں نے آپ کے دست حق پرست پر بیعت کیا۔اور آپ نے چھ یا سات مہینے تک عراق،خراسان،حجاز اور یمن وغیرہ پر حکومت کیا ۔پھر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ملک شام سے آپ کے خلاف فوج کشی کی ،آپ نے بھی اپنی فوج اُتاری اور جب دونوں فوجیں آمنے سامنے ہوئیں اور قریب تھا کہ جنگ کی آگ بھڑک جائے تو آپ نے سوچا کہ :کوئی فریق دوسرے پر اس وقت تک غالب نہ ہوگا جب تک کہ دونوں طرف سے بہت سارے مسلمانوں کا خون نہ بہہ جائے ۔یہ سوچ کر آپ نے حضرت امیر معاویہ کی طرف یہ پیغام بھیجا کہ :وہ اس شرط پر حکومت ان کے سپرد کرنے کے لئے تیار ہیں کہ ان کے بعد خلافت ہمارے پاس رہے اور یہ کہ ہمارے والد کے زمانے میں مدینہ ،حجاز اور عراق کے لوگوں کے پاس جو کچھ تھا اس کا مطا لبہ نہیں کریں گے ۔حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان شرائط کو منظور کر لیا اور اس طرح سے غیب داں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معجزہ ظاہر ہوا کہ:آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے بارے میں ان کے بچپنے ہی میں فر مایا تھا کہ”یہ میرا بیٹا سردار ہے ،اللہ تعالی اس کی وجہ سے مسلمانوں کی دو عظیم جماعتوں میں صلح کرا دے گا”۔جس ذات کے لئے حضور نے فر مایا ہو کہ: یہ سردار ہے اس کی عظمتوں کا اندازہ بھلا کون لگا سکتا ہے۔

[اسد الغابہ،باب الحاء والسین،حسن بن علی رضی اللہ عنہما]

🔹شہادت: حضرت سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی تایخ وصال میں مؤرخین کا اختلاف ہے،ایک قول یہ ہے کہ سن 49/ہجری میں آپ کا وصال ہوا،
اور ایک قول یہ ہے کہ سن ۵۰/ہجری میں ہوا،اور سن ۵۱/ہجری کا بھی قول کیا گیا ہے۔
لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔

آپ کی وفات کا سبب یہ ہوا کہ دشمنوں کی سازش سے آپ کو زہر پلا دیا گیا ،جس کی وجہ سے آپ چالیس دن تک بیمار رہے پھر آپ کا وصال ہو گیا۔ جب بیماری زیادہ بڑھی تو آپ نے اپنے چھوٹے بھائی سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے فر مایا کہ:مجھے تین بار زہر دیا گیا لیکن اس بار سب سے زیادہ شدید زہر تھا جس سے میرا جگر کٹ رہا ہے ۔سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے پو چھا کہ آپ کو کس نے زہر دیا ہے؟تو آپ نے فر مایا:یہ سوال کیوں پوچھتے ہو؟کیا تم ان سے جنگ کروگے۔میں ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں ۔

🚫کچھ لوگوں سے یہاں پر سخت غلطی واقع ہو ئی ،وہ کہتے ہیں کہ حضرت سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی بیوی “جعدہ بنت الاشعث” کو دشمنوں نے بہلا پھسلا کر اپنی سازش کا حصہ بنا لیا اور وہ دشمنوں کے جھانسے میں آکر حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو دھوکے میں زہر پلادی۔یہ بات بالکل جھوٹ اور افترائے محض ہے۔کیو نکہ تمام مؤرخین نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ جب حضرت سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ سے زہر پلانے والے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے کسی کا نام نہ بتایا اور صرف اتنا کہا کہ:میں ان کا معاملہ اللہ پر چھوڑتا ہوں۔تو جب انہوں نےنام نہیں بتایا یہاں تک کہ کسی کے بارے میں اپنی شک کا اظہار بھی نہ فر مایا۔جس کی وجہ سے اس وقت کسی سے قصاص نہ لیا جا سکا تو پھر دوسروں کو کیسے اس کا علم ہوا؟ اس لئے ایک ایسے مقدس امام جن سے اپنا رشتہ جوڑنے پر اس زمانے کی عورتیں ہر دکھ گوارا کرنے کو تیار رہتی تھی ،پھر جنہیں نوجوانا ن جنت کی سردار کی بیوی بننے کا شرف حاصل ہوا ۔ان کے بارے میں ایسا خیال ر کھنا اپنی تباہی اور بر بادی کو دعوت دینا ہے۔اللہ تعالی ہم سب کو صراط مستقیم پر قائم رکھے اور اپنے ان نیک بندوں کے صدقے دارین کی سر خروئی نصیب فر مائے

نوٹ: سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے بارے غلط باتیں جو روافض نے مشہور کر رکھی ہیں ان کے جوابات ہماری ویب سائٹ پر موجود ہیں

پیش کردہ🌹👇👇
🔮سُنی لائبریری ڈاٹ کام
www. sunnilibrary. com
دفاعِ صحابہ و رد رافضیت پر لاجواب عالمی نیو ویب سائٹ 👆👆