سب سے پہلے امیر معاویہ نے نماز کی تکبیرات کوگھٹایا (موطا امام مالک کتاب الدلائل)

شیعہ اعتراض

سب سے پہلے امیر معاویہ نے نماز کی تکبیراتِ کو گھٹایا۔ (موطا امام مالک کتاب الدلائل)

الجواب :

یہ عبارت اصل کتاب کی نہیں بلکہ حاشیہ کی عبارت ہے۔ اول عبارت کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔

امام احمد کی روایت ہے کہ سب سے پہلے (اٹھتے بیٹھتے ) تکبیر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کم کیں جب وہ بوڑھے ہو گئے چنانچہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ضعیف ہو گئے تھے تو آواز کمزور ہوگئی تھی ممکن ہے بلند آواز سے نہ پڑھتے ہوں بلکہ آہستہ آواز سے پڑھتے ہوں اور طبرانی نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ پہلے معاویہ رضی اللہ عنہ نے تکبیریں کہنا چھوڑیں۔ ابوعبیدہ کہتے ہیں کہ پہلے زیاد نے تکبیریں کہنا چھوڑیں تھیں یہ پہلی بات کے خلاف نہیں کہ زیاد نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر چھوڑیں ہوں 

اتنی بات مذکورہ بالا صفحہ سے واضح ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ تکبیر (اونچی آواز سے) چھوڑنا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی اتباع میں تھا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا عمل سنت خلفائے راشدین کا حصہ ہے۔ لہذا اس صفحہ میں کہ جہاں واضح طور پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا ذکر موجود ہے ، اس کے باوجود حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ذمہ لگانا  کہ انہوں نے تکبیریں (بلند آواز سے ) چھوڑیں‘ درست نہیں۔

نماز میں تکبیرات سوا تکبیر اولٰی کے فقہاء کے نزدیک فرض نہیں سنت ہیں اور اگر سنت نماز یا کسی دوسرے عمل میں متروک ہو جائے تو بھی نمازی صحیح ہو جاتی ہے۔ اگرچہ ترک سنت کا نقصان ہوگا۔

اگر کبھی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے نماز میں جہراً تکبیر عند السجود وغیرہ رہ گئی تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ انہوں نے تکبیریں ہی چھوڑ دیں اور اگر بالفرض رہ بھی گئیں تو عذر پر یہ واقعه محمول ہوگا کیونکہ آخری وقت میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ علیل ہونے کی وجہ سے معذور ہو گئے تھے۔ ایسی صورت میں جب کہ ترک قیام وغیرہ کی نماز میں اجازت ہے۔ تو سنت کو عذر کی وجہ سے چھوڑنے سے بھی نماز باطل نہ ہوگی