سانحہ کربلا کی بنیاد امیر معاویہ (رضی اللہ عنہ) نے رکھی۔ (تشکیل جدیدالبیان اسلامیہ)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر روافض شیعہ کا الزام نمبر 42

🔺شیعہ الزام👇👇
سانحہ کربلا کی بنیاد امیر معاویہ (رضی اللہ عنہ) نے رکھی۔
(تشکیل جدیدالبیان اسلامیہ)

🔹الجواب اہلسنّت🔹
علامہ اقبال نے یہاں تقدیر کا غلط مطلب بیان کرنے والوں پر نکیر کی ہے جو تقدیر کی بنا پر قوت عمل سے دوری اختیار کرتے اور اسباب کو اختیار کرنے سے عاجز ہو جاتے ہیں۔
حالانکہ تقدیر کا یہ مفہوم ہرگز نہیں کہ قوت عمل سے عاجزی اختیار کر کے بزدلی کو گلے کا ہار بنا لیا جائے۔ بلکہ قوت عمل اور اسباب کا اختیار کرنا اور جہد و کاوش و کوشش کرنا بذات خود تقدیر کا حصہ ہے، علامہ اقبال نے اس بزدلی کا علاج کرنے اور سستی و کاہلی کا جو مرض عامۃ الناس میں سرایت کرنے لگ گیا اس نظریاتی زخم پر مرہم لگانے کی کوشش کی ہے۔
البتہ علامہ اقبال کا تمام تر مواد تاریخ کی وہی روایات ہیں جو رطب ویابس کا مجموعہ ہیں۔ علامہ اقبال کوئی اسماء الرجال کے فن سے واقف شخص کا نام نہیں جو تاریخی روایات میں ابومخنف وغیرہ جیسے کذاب اور جھوٹی روایات کو گھڑ گھڑ کر تاریخ میں بکھیرنے والے شخص کے مکمل احوال سے آگاہ ہوتے ۔ اس لیے انہوں نے تاریخ کی کتابوں پر اعتماد کر کے جو جانا سو لکھ دیا۔ اب روایات میں کون سی بات غلط اور کون سا راوی جھوٹا اور کذاب ہے اس سے آگاہی فن رجال کے ماہر اور محقق کو ہے۔ اس کا کام ہے کہ وہ وضاحت کر دے کہ علامہ نے یہ بات تاریخ سے نقل کر دی ہے مگر تاریخ سے حاصل شده یہ مواد غیر معتبر لوگوں کو وضع کیا ہوا اور خود تراشیدہ ہے۔ واقعات کی دنیا میں اس کا وجود ایسا ہی ہے جیسا کہ عنقاء کا وجود۔