سابق شیعہ مجتہد و عالم مرزا عبدالوہاب فرید

ایک سابق شیعہ مجتہد و عالم کا تعارف!

*جناب آقاء مرزا عبدالوہاب فرید تنکابنی* کا نام عموما اہل توحید حلقوں میں لیا جاتا رہا ہے۔ آپ کی مشہور کتاب ” *اسلام و رجعت* ” ہے جس میں آپ نے عقیدہ رجعت کو غالیوں کا عقیدہ اور یہودیوں سے درآمد شدہ قرار دیا نیز بہت سارے خرافات و بدعات کے رد میں اپنی اس کتاب میں لکھا ہے۔

آپ ایران کے مازانداران صوبہ کے شہر رامسر میں 1907 عیسوی میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد خود ایک مجتہد تھے ان کا نام آقای شیخ محمد حسین تھا۔جب کہ آپ کی والدہ کا نام فاطمہ تھا جو کہ ایک مشہور مجتہد آیت اللہ میرزا محمد باقر بن ملا عبدالرزاق کی بیٹی تھی۔پس آپ ایران کے رامسر شہر کے ایک دینی گھرانے میں پیدا ہوئے۔

آپ کے والد کے متعلق کتاب “بزرگان رامسر” میں لکھا ہے کہ محمد حسین بن حبیب اللہ بن قربان علی بن عبداللہ بن منصور خان بن رحیم خان السمامی غریب تنکابنی کے نام سے مشہور تھے۔محمد ھسین ایک فقیہ ،عالم،حکیم،شاعر و ادیب اور فقہ و اصول کے استاذ تھے،نجف گئے 1304 ہجری میں،اور میرزا حبیب اللہ الرشتی،شیخ ہادی طہرانی،میرزا حسین الخلیلی کی شاگردی اختیار کی،اور 1319 ہجری میں واپس رامسر آئے،اور تصنیف و تالیف اور درس و تدریس میں مشغول رہے۔آپ کی 4 یا 5 کتب کا تذکرہ کیا گیا ہے۔

ان کے دو بیٹے تھے : عبدالوہاب فرید،اور محمد غریب۔

آپ نے اپنی دینی تعلیم آپنے علاقے میں ہی حاصل کی خصوصا اپنے والد سے کافی استفادہ کیا۔آپ نے اپنے والد سے فقہ و اصول پڑھا۔مقدمات حجت الاسلام آغا سید یعقوب سجادی سے پڑھا۔

اس کے بعد آپ نے اپنی دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے تہران،اصفہان اور بعد میں قم کا سفر کیا۔اور آپ نے آیت اللہ حاج شیخ عبدالکریم حائری سے اجازہ اجتہاد حاصل کیا۔

کافی عرصہ دانشگاه الهیات و معارف اسلامی میں استاذ کی حیثیت سے پڑھایا جہاں آپ کو بہت ساری انتظامی ذمہ داریاں دی گئیں۔

آپ چونکہ ایک روھانی یا دینی پیشوا تھے اس لیے شروع میں مذہبی لباس عمامہ و عبا و قبا پہنتے لیکن بعد میں 1941 عیسوی میں اس کا پہننا ترک کر دیا کیونکہ ان کے خیال میں یہ پہننا درست نہ تھا جس پر وہ اپنے دلائل رکھتے تھے۔

لیکن گرمیوں میں آپ مسجد سکینہ آباجی جواہردہ میں منبر پر جاتے تھے وعظ و نصیحت کے لیے اور آپ کو سننے والوں کی کافی تعداد ہوتی۔

آپ بہت ہی زیادہ صاحب مطالعہ شخصیت تھے اسی لیے آپ کی ذاتی لائبریری جو آج بھی موجود ہے وہ ایران کی مشہور لائبریریوں میں شمار کی جاتی ہے۔

آپ نے آیت اللہ شریعت سنگلجی کی شاگردی بھی اختیار کی اور بعد میں توحید اور قرآن فہمی کی جانب گامزن ہوئے۔رائج شیعت میں موجود تمام خرافات و بدعات اور غیر اسلامی عقائد کے خلاف کھل کر لکھا اور تقریریں کیں۔

1945 عیسوی میں آپ نے اپنی تحقیق و تالیف کے علاوہ کچھ کتابوں کے ترجمے بھی شائع کیے۔آپ کی بہت ہی متنازعہ اور ہلچل مچانے والی کتاب”اسلام و رجعت” ہے،جس میں عقیدہ رجعت کو یہودی اور غلات شیعہ کا عقیدہ قرار دیا۔یہ کتاب سنہ 1939 عیسوی میں شائع ہو۔

اس کے علاوہ آپ نے کتاب “اسلام چنانکه بود” بھی لکھا جس میں فرقہ پرستی کی بجائے اور خود کو شیعہ یا سنی کہنے کی بجائے خالص اسلام صدر اول کی طرف واپسی کی دعوت دی۔

ایک غیر مسلم مولف لرد اویبوری کی کتاب روش زندگی کا فارسی ترجمہ کیا۔

اس کے علاوہ کافی کتب لکھیں ،اور مختلف مجلوں میں آپ نے اپنی تحریریں شائع کیں خصوصا آپ نے مجلہ ہمایون علی اکبر حکمی زادہ میں چند ہی قسطیں لکھی تھیں کہ ہر طرف سے شیعہ علماء نے اس مجلہ پر دباؤ بڑھانا شروع کیا،اس مجلہ میں اپنی تحریروں میں انہوں نے واضح طور پر لکھا ہے کہ شیعوں اور سنیوں میں اس وقت تک اتحاد ہو ہی نہیں سکتا جب تک شیعہ شیعہ ہے اور سنی سنی ہے،یہ اتفاق و اتحاد صرف اس وقت ہوگا جب خالص اسلام و قرآن کی طرف پلٹیں،خود کو صرف مسلمان کہیں۔نیز آپ نے فرمایا کہ اتحاد بھلا کیسے ہو سکتا ہے کیونکہ شیعہ اہل سنے کے خلفاء اور صحابہ کو گالیاں دیتے ہیں یا لعنت کرتے ہیں جو کسی بھی انسان صاحب انصاف کو قبول نہیں ہو سکتا،دیگر ایسے عقائد و اعمال شیعوں میں ہیں جن کی وجہ سے ان کو کافر کہا جاتا ہے ان تمام کا تعلق غلات سے ہے جو رائج شیعت کا حصہ بن چکا ہے۔آپ نے ایسے سخت انداز میں شیعوں کو مخاطب کیا کہ خود علی اکبر حکمی زادہ صاحب اسرار ہزار سالہ کو بھی کہنا پڑا کہ آئندہ آپ مجلہ میں نہپیں لکھیں گے۔

میزے خیال میں جس قدر نرمی اہل سنت کے ساتھ اچھے تعلقات کے لیے عبدالوہاب فرید نے دکھائی ہے اس قدر شاید ہی آج تک کسی نے دکھائی ہو۔

آپ نے اپنی زمین وقف کی تاکہ ایک دینی مدرسہ بنائیں،اور لائبریری کے لیے بھی زمین وقف کی۔آکر 14 مارچ 1982 عیسوی میں آپ کی وفات ہوئی۔

آپ اپنے لائبریری کے انٹری دروازے کے پاس دفن ہیں۔

آپ کا کتابخانہ “کتابخانه فرید رامسر” کے نام سے مشہور ہیں جس میں سینکڑوں کتب موجد ہیں،اور کافی زیادہ قلمی نسخے بھی ہیں۔

کتابخانه فرید رامسر

آپ کے خلاف کافی شیعہ مجتدین اور علماء نے کتب لکھی ہیں جن میں سے محدث همداني نے ایک کتاب سلاسل الحديد على عنق العنيد عبد الوهاب فريد بھی لکھی۔جب کہ رجعت کے خلاف جو آپ نے کتاب لکھی اس کا بھی کافی علماء نے جواب لکھا ہے۔