سابق شیعہ مجتہد استاذ احمد کاتب

أحمد الكاتب ( اصل نام عبد الرسول عبد الزهرة)

13 جون 1953 عیسوی کو کربلا،عراق میں پیدا ہوئے۔

والد کا نام عبد الزهراء بن عبد الأمير بن الحاج حبيب الأسدي تھا۔اور والدہ کا نام شكرية بنت عباس بن علوان الهر تھا۔آپ کے والد عبدالزھراء جب 20 سال کے تھے اس وقت ان کی شادی آپ کی والدہ شکریہ بنت عباس سے ہوئی۔اور دونوں نے اپنی نکاح میں یہ عہد کیا کہ وہ اپنی زندگی کو دین کی خدمت کرنے میں وقف کرین گے۔

احمد کاتب نے مدارس 60 کی دھائی میں مدارس حفاظ القرآن الحكيم الابتدائية الدينية کربلا میں داخلہ لیا۔

آپ کے آباء و اجداد تسبیح اور تربت حسینی کی تجارت مرقد حسینی اور عباس کے درمیان شاہراہ پر کرتے تھے۔

آپ کا گھر شارع امام علی ع کے پاس موجود تھا۔

جس وقت عراق میں ملکی نظام کو تبدیل کرنے کے لیے اسلامی تحریک سید محمد شیرازی کی قیادت میں جاری تھی احمد کاتب کے والد اس تحریک کے سرگرم نوجوان تھی۔

آپ کے والد الحرم الحسيني میں السيد مهدي الشيرازي یا مرقد عباس بن علی السيد محمد رضا الطبسي میں مساجد میں نماز پڑھنے کو محلے کی مسجد میں نماز پڑھنے پر ترجیح دیتے تھے۔

احمد کاتب کہتے ہیں کہ کربلا میں 200 کے قریب شیعہ مساجد تھے اور صرف 1 یا 2 مساجد اہل سنت کی تھیں جو کہ حکومتی افراد نماز پڑھنے کے لیے استعمال کرتے تھے،اور اذان کی عبارت،یا صبح کی اذان یا اوقات نماز سے مجھے معلوم ہوجاتا تھا کہ یہ اہل سنت لوگ ہیں۔

    پانچ سال کی عمر میں آپ کے والد نے ابجد اور قرآن پڑھنا سکھایا۔

  سات سال کی عمر میں مدرسة أهلية إسلامية حديثة (مدرسة الأمام الصادق) میں آپ کے والد نے آپ کو داخلہ کرانے گئے ۔جس کے مدیر الخطيب السيد مرتضى القزويني تھے۔ لیکن کم عمری کے باعث داخلہ نہ مل سکا۔

1960 میں شارع عباس میں ایک گھر میں آپ منتقل ہوئے محلہ باب خان میں۔شیخ عبدالکریم نامی اہل علم سے لکھنا پڑھنا اور گنتی سیکھ لی،قرات قرآن پر جہاں توجہ دی جاتی۔ 3 سال تک وہاں رہے۔

مدرسة حفاظ القرآن الكريم جسے السيد مهدي الشيرازي نے سال 1960 ع میں قائم کیا تھا، الشيخ محمد ضياء الزبيدي وہاں کے انچارج تھے،1963  میں احمد کاتب نے یہاں داخلہ لیا۔ یہاں آپ نے قرآن، تفسیر، تاریخ اسلامی، اخلاق ، فقہ اور حساب پڑھا۔اور وہاں شيخ جعفر الهادي والشيخ كميل عبد الكريم والسيد عبد الحسين الفائزي والشيخ عبد الحسين والسيد إبراهيم الموسوي آپ کے اساتذہ تھے جو عمامے پہنتے تھے۔

آپ کے والد کٹر مذھبی شخص تھے اور مجالس میں ضرور ساتھ  لے کر جاتے، گھر میں بھی نھج البلاغہ سے خطبہ شقشقیہ پڑھنے کا اہتمام کرتے۔ اور آپ فرماتے ہین کہ میرے والد نے مجھے 12 سال کی عمر میں جو کتاب سب سے پہلے پڑھنے کو دی وہ المراجعات عبدالحسین شرف الدین کی کتاب تھی۔ اس کے بعد جواد مغنیہ کی کتاب پڑھنے کو دی، بعد میں بحار الانوار بھی پڑھنے کو دیا۔ گھر میں ایک چھوٹی سی لائبریری تھی ، اس میں لماذا اخترت مذهب أهل البيت شيخ محمد أمين الانطاكي کی کتاب بھی تھی جو سنی سے شیعہ ہوا تھا۔ ہمارے مدرسے میں الشيخ محمد نديم الطائي بھی تھے جو موصل سے تعلق رکھتے تھے اور سید مرتضی قزوینی کے ہاتھوں کربلا کی زیارت کے موقع پر مذھب شیعہ قبول کیا تھا۔ ان سب باتوں کی وجہ سے مجھے کامل یقین تھا کہ شیعہ مذھب ہی حق اور حقیقی اسلام ہے اور مجھے ان ہمسایوں پر حیرت اور غصہ آتا کہ یہ کیوں ہمارا مذہب قبول نہیں کرتے اور بضد ہیں اپنے مذہب پر۔

10 سال کی عمر سے تھوڑ عرصہ قبل ہی سامرا گئے کیونکہ علي الهادي والحسن العسكري وسرداب غيبة الإمام المهدي کی زیارت کرنی تھی۔ وہاں مکان اہل سنت سے کرائے پر لیتے تھے۔

14 سال کی عمر میں آپ نے حوزہ علمیہ میں داخلہ لیا۔ السيد سید محمد حسینی شیرازی نے آپ کو علماء کا لباس عمامہ و جبہ پہنایا۔ اور درج خارج کے دروس میں شرکت کی۔ آپ نے الشيخ عبد الحميد المهاجر کے پاس بھی ذانو تلمیذ کیا۔

مجالس ، کتب، لیکچرز وعظ اور مجلات میں بس تاریخ صدر اسلام ہی مجھے پڑھنے کو ملتا سقییفہ و شوری اور ظلم سیدہ فاطمہ ع اور آئمہ پر خلفائے زمان کی طرف سے۔ اور اس سے متعلق آیات اور احادیث سنتا۔

آپ السيد محمد الشيرازي کے مقلد تھے۔

اور 80 کی دہائی میں السيد محمد الشيرازي کے وکیل شرعی بنے۔

استاد احمد الکاتب 80 کی دہائی میں آیت اللہ سید محمد حسینی شیرازی کے وکیل شرعی تھے ، جہاں ان کو “علامہ حاج شیخ احمد کاتب” کے القابات سے یاد کیا گیا ہے۔

بسم الله الرحمن الرحيم

الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على محمد وآله الطاهرين.

وبعد فإن فضيلة العلامة الحاج الشيخ أحمد الكاتب دام عزه، وكيل عني في تصدي الأمور الحسبية، وقبض الحقوق الشرعية،خاصة سهم الإمام عليه السلام، وصرف إلى مقدار الثلث في المصارف المقررة، وإيصال الباقي إلينا.

والمرجو منه أن يهتم لنشر الإسلام وهداية الأنام، ويتصدى للأمور الشرعية بكمال الاحتياط الذي هو سبيل النجاة.

والله الموفق المستعان.

محمد الشيرازي

(الختم)

ملاحظة: الوكالة بدون تاريخ، ولكنها صادرة في أواسط الثمانينات من القرن العشرين.

جب 1965 ع میں شیخ شیرازی ہندوستان گئے تو وہاں کے لوگوں کو آگ کا ماتم کرتے دیکھا تو ان کو یہ چیز پسند آئی اور کربلا میں اس عمل کو پھیلایا۔lلیکن سید محسن الحکیم نے فتوی دیا لیکن یہ عمل حرام ہے۔1966  میں شیرازی جماعت اور حزب الدعوہ مین تطبیر کے موضوع پر سخت اختلاف درپیش ہوا۔

سید حسن شیرازی نے 1963 مین ایک کتاب لکھی جس کا عنوان تھا “کلمۃ الاسلام” ۔اس کتاب میں جمہوریت اور انتکابات کو رد کیا تھا اور فقہاء و مراجع کو عصر غیبت میں مثالی قیادت قرار دیا تھا۔اور وہاں انہوں نے اہل سنت کو “نظریہ شوریٰ” اور شیعہ کو “نظریہ نص و تعین” کے مکاتب قرار دے کر مرجعیت کی قیادت کی طرف دعوت دی۔

حزب الدعوہ کو “خالصی گروپ” شیخ محمد کالصی کی وجہ سے ان لوگوں نے دیا، اور انہوں نے بہت ساارے بدعات کو جو رد کیا تھا، یا وحدت اور اسلامی افکار کے حامل جو تھے یا جمعہ کے قائم کرنے کے حق میں اور اذان سے شہادت ثالثہ کو نکال رہے تھے اس وجہ سے شیرازیوں نے ان کو “خالصی گروپ” کہا۔ یعنی حزب الدعوہ کو “خالصیہ” قرار دیا کہ یہ سنیون سے قریب ہیں اور شیرازی گروپ عزاداری کے مراسم، زنجیر اور تطبیر پر زور دیتے تھے وہ جمعہ نہیں پڑھتے تھے۔ کربلا اور عراق میں چونکہ شیرازی تحریک مشہور تھی اس لیے ان کے ماننے والوں کی تعداد بھی بڑھتی جا رہی تھی۔ اور بعثی حکومت اور شاہ ایران کے درمیان تعلقات 1969 میں کشیدگی پیدا ہوئی ۔۔۔اور 1969 میں سید محمد شیرازی کو حکومت نے پکڑ لیا اور 9 مہینے قید رکھنے کے بعد رہا کیا۔

1969 میں کاتب کے استاد سید مجتبی شیرازی نے ان کو اپنے بھتیجے سید ھادی مدرسی سے متعارف کرایا۔

اسی زمانے میں احمد کاتب نے ایک کتاب امام حسین سے متعلق لکھی جو کہ ان کی سب سے پہلی تالیف تھی،اس کا عنوان تھا “الحسين كفاح في سبيل العدل والحرية”۔ ان کی مظلومانہ شہادت کے متعلق اور اور بیروت سے سنہ 1970 عیسوی میں یہ کتاب شایع ہوئی سید ھادی مدرسی کی کاوش سے۔

اب استاذ کاتب نے سیاسی لیکچرز دینا شروع کیا،اور عزائے حسینی اور انقلاب کے ھوالے سے دروس دیے اور اشعار کو فروغ دیا۔ آپ فرماتے ہیں کہ ہم پکے امامی شیعہ تھے، اسی دوران ہمیں آیت اللہ خمینی سے روابط بڑھانے کا موقع ملا۔ سید مصطفی خمینی اور ان کے ساتھ “سید سمیعی” نامی شخص آیا ہمارے امام بارگاہ میں ایک دینی تقریب کے موقع پر،اور ہم نے ان کی مہمان نوازی کی۔ پھر انہوں نے امام خمینی کے لیکچرز جو کہ ولایت فقیہ یا حکومت اسلامی کے متعلق تھے ان سے متعارف کرایا۔

اور ہمیں یہ لیکچرز اور افکار اپنے نظریات کے عین مطابق لگا جس کے ہم داعی تھے سالوں سے۔ اس لیے ہماری اسلامی تحریک اور انقلاب اسلامی ایران کی تحریک کا 10 سال تک رابطہ رہا۔

1970 ع میں سید محسن الحکیم کی وفات ہوئی۔

اور 1971 میں احمد کاتب کی دوسری تالیف “الحسين كفاح في سبيل العدل والحرية” شائع ہوئی۔ اس کتاب میں دو اہم تحریکوں عراق کی 20 کی دہائی میں تحریک اور ایران میں تنباکو کی حرمت کی تحریک کے متعلق تفصیل سے گفتگو اور احاطہ کیا۔

چونکہ احمد کاتب لکھنے میں مہارت رکھتے تھے اسی لیے مجلہ “المجاھدون” نے ان کو اپنے تنظیمی رسالہ لکھنے کے لیے درخواست کی چنانچہ آپ اس میں لکھتے رہے۔

ایک سال بعد یعنی 1972 میں احمد کاتب کی تیسری کتاب جو “الإمام الصادق معلم الإنسان” کے عنوان سے تھا،اور اس کتاب میں انہوں نے امامت الہی اہل بیت ع،اسلامی قیادت اور فقہاء یا مراجع کی قیادت کا ذکر کیا۔

اس کے بعد احمد کاتب نے چوتھی کتاب لکھی “عشرة – واحد = صفر” کے نام سے ، یہ کتاب اہل بیت ع کی امامت جس کو میں اسلام کا اہم جزو سمجھتا تھا، لکھی۔ اس کتاب میں موضوع امامت کو اگر میں ترک کرتا تو کچھ بھی پھر نہ بچتا۔ اور اس کتاب میں میں نے بھی ان آیات کا سہارا لیا جو کہ عام طور پر شیعہ امامت کے حوالے سے ان کی زبان پر ہوتی ہے یعنی یا ایھا الرسول بلغ ۔۔الخ اس کو وہ لوگ علی ع کی امامت کی تبلیغ کے طور پر لیتے ہیں۔ اور ہماری تنظیم نے اس کتاب کو فورا بیروت سے شائع کرنے کا اہتمام کیا۔ اور انہوں نے مختلف جگہوں پر اس کتاب کو پھیلایا، خصوصا نوجوانوں میں اس کی سرکولیشن بہت ہوئی۔

سید محسن حکیم کی وفات کے بعد بعثی حکومت نے ایرانی نیٹ ورک کو ختم کرنے کے لیے بہت بڑی کاروائی کا آغاز کیا عراق میں نجف، کربلا اور کاظمیہ و بصرہ میں۔ پس میرے 5 ہزار کے قریب ہم وطن عراق سے ہجرت کر کے دیگر ممالک چلے گئے، اور اسی عرصے میں سید محمد شیرازی نے خود کو بھی تنہا پایا اور 1971 میں وہان سے کویت ہجرت کی، ان کے ساتھ ان کے بھائی اور تقی مدرسی بھی تھے اور اپنی جگہ کاظم قزوینی کو چھوڑا۔ اور مرحوم حاج علی محمد نے 5 بنیادی شعبوں میں تنظیم کو تقسیم کیا۔

اور اس کے اگلے سال بعثی حکومت نے سید کاظم قزوینی، شیخ عبدالزھراء الکعبی، شیخ ضیاء الزبیدی اور شیخ عبدالحمید مہاجر کو بھی اور بہت سارے نوجوانوں کو گرفتار کیا اور بغداد کے مشرق میں موجود جیل میں بھرنے کا انتظام کیا۔ اور میرا نام بھی مطلوبہ افراد کی فہرست مین تھا اور میں خود کو جاسوسون سے بچا کے رکھ سکتا تھا لیکن میں نے سوچا کہ مجھے اب عراق سے باہر جانا چاہیے۔ اور سب سے پہلے 1973 میں میں بحرین چلا گیا،اس کے بعد کویت اور شام اور پھر وہاں سے لبنان پہنچا۔

1979 ع میں ایران مین انقلاب کا طہور ہوا۔

عراق میں ہماری تنظیم کے افراد الھرکہ اسلامیہ 1963 سے ایرانیون کے ساتھ تھے، ہماری ان کی آئڈیولوجی ملتی تھی۔ اور ایران کے انقلاب کا آنا ہمارے لیے بہت بڑی کامیابی تھی۔ اور 16 دنون بعد میں کویت سے تھران گیا اور امام خمینی کو مبارک باد دینے والے وفد کے ساتھ شامل ہوا۔

احمد کاتب جو تحریک اسلامی عراق کے پرجوش حمایتی تھے اور عراق میں انقلاب اسلامی کی خواہش رکھتے تھے۔ بعثی حکومت کی طرف سے اشتہاری قرار دینے کے بعد کویت چلے گئے،اور وہان سے انقلاب اسلامی ایران کے بعد ایران میں مقیم رہے۔”عراق اليوم يبحث عن حسين” استاذ احمد الکاتب کے کتابچہ کا نام تھا جو کہ انہوں نے کویت سے شائع کیا تھا، اور انہوں نے ایران واپس جا کر اس پروگرام کو پھیلایا بلکہ استاد کاتب نے کزھ نعرے بلند کیے انقلاب ایران و عراق کے حوالے سے “اليوم إيران وغدا العراق” کے عنوان سے۔ السيد محمد الشيرازي جو استاذ احمد کاتب کے لیڈر تھے وہ پھر کویت سے ایران آئے اور عراقی حکومت کے خلاف تحریک کا آغاز کیا۔

1985 عیسوی میں سید مدرسی نے استاد احمد کاتب سے گزارش کی کہ وہ “حوزة الإمام القائم” میں بطور استاذ پڑھائیں، جس میں سعودیہ، افغان، عراقی اور خلیجی طلباء موجود تھے۔ یہ تھران میں مامازند کے علاقے میں موجود تھا۔ جعفر النمیری کی حکومت کے خاتمے کے بعد سوڈان میں ایک اسلامی تحریک آغاز کرنے کا ارادہ کیا۔ اور احمد کاتب شام، قاہرہ سے ہوتے ہوئے خرطوم پہنچ گئے۔ اور وہاں 40 دن رہے۔ اور وہاں لوگوں میں شیعت کی تبلیغ کی جس کے سبب کئی لوگوں نے شیعہ مذھب قبول کیا۔

اور حوزہ امام قائم میں جب آپ استاد تھے تو 100 دروس اس موجوع پر دئے ولایت فقیہ پر۔

لیکن ایرانی قانون یا آئین کو پڑھ کر اور بعض خلاف اسلام فیصلوں ، رئس جمہوریہ بنی صدر اور رئیس وزراء بازرگان کے اختیارات کو دیکھ کر احمد کاتب فرماتے ہیں کہ وہ متذبذب ہوگئے، اور انہوں نے سید محمد شیرازی سے کہا کہ اس موضوع پر مجھے کچھ کتب دیں، تو انہوں نے بعض مجہول کتابیں دیں، لیکنن ان کتب کو پڑھ کر استاذ کاتب کے دل میں مزید شکوک پیدا ہوگئے، اور انہوں نے یہ دیکھنے کی کوشش کی کہ۔۔۔

آخر یہ “ولایت فقیہ ” کا تصور آیا کہاں سے،اور کب شیعت میں اس کا آغاز ہوا؟؟

اب استاذ کاتب کے ذھن میں دو نظریات پر تحقیق اہم ٹھرا،ایک غیبت کبری اور دوسرا ولایت فقیہ۔

چنانچہ جب آپ 1990 عیسوی میں امام رضا کی زیارت کے لیے مشہد خراسان گئے۔ وہاں سید جواد شہرستانی ایک لائبریری کے مدیر تھے ، اس لائبریری میں 100 کے قریب ان کتب کا مطالعہ کرنے لگے جو کہ غیبت کبری یا فقہ جعفری امامی اثنا عشری کے متعلق تھیں۔اور ان کو وہاں دو اہم نظریات کو دیکھ کر حیرت ہوئی:

ایک نظریہ تقیہ و انتظار مہدی

دوسرا نظریہ:امام مہدی کے نائب فقہاء

استاذ کاتب کو تاریخی کتب پڑھ کر معلوم ہوا کہ یہ 200″ سال پہلے کا ایک نظریہ “ہے، جس کے بانی المحقق الشيخ علي عبد العالي الكركي تھے جو طہامسپ کے شاہ صفوی کے دور کے عالم تھے۔ااور ان سے پہلے کی شیعت میں ظہور امام زمانہ سے پہلے کسی حکومت کے بنانے کی مذمت موجود تھی اور اس کے بعد استاذ کاتب نے آیت اللہ خمینی کے کافی آراء سے اختلاف کیا۔

استاذ کاتب کہتے ہیں کہ جب میں نے یہ دیکھا کہ ولایت فقیہ دراصل “امامت الہی ” کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ تو “فلسفہ تقیہ و انتظار” سے متعلق ہے تو میں پریشان ہوا کیونکہ اس سے قبل تو میں سمجھتا تھا کہ ولایت فقیہ یا مرجعیت دینی ایک ایسا نظام ہے جو کہ امام مھدی نے سیاسی نظام کے طور پر دیا ہے اور اگر ولایت فقیہ ہی ایک نظام تھا تو قدیم شیعہ علماء نے اس سے منع کیوں کیا اور کیوں وہ تقیہ و انتظار میں اپنی زندگی بسر کرتے تھے؟

اس لیے میرے لیے اب ضروری ہو گیا تھا کہ “غیبت کبری” کے متعلق تصویر واضح ہو کہ 260 ہجری سے 329 ہجری محمد بن علی صمیری کی وفات تک نیابت خاصہ کے دور میں سیاسی نظام کیا رہا ہے،اور یہ نواب کیا سیاسی نظریہ رکھتے تھے۔

اور پھر یہیں سے غیبت صغری پر سوچنے کے حوالے سے میرے اندر جرات پیدا ہوئی اور میری سوچ “الامام محمد بن الحسن العسكري” کے وجود پر سوالات اور شبہات کی طرف گامزن ہوا۔

استاد کاتب کہتے ہیں میں ایک شیعہ دینی گھرانے میں پیدا ہوا،میں نے حوزہ علمیہ میں دینی تعلیم سطوح کے حاصل کیے،پھر میں نے اعلی تعلیم یعنی درس خارج میں بھی کئی سال شرکت کی،اور پھر مین ایک شیعہ سیاسی تنظیم کا اتنا عرصہ حصہ رہا جس کی بنیاد ہی وجود مھدی منتظر تھی، اور میں نے 15 کے قریب کتابیں بھی آئمہ اہل بیت ع اور شیعہ امامی عقائد کے حوالے سے لکھی تھین، اور میں اس مذھب کی دعوت کے لیے مصروف رہا اور سوڈان میں ایک شیعہ تحریک کو شرعو کیا، لیکن مجھے ابھی یہ معلوم نہ تھا کہ امام مھدی کے وجود اور عدم وجود پر شیعہ میں بہت سارے اختلافات اور نطریات ہیں کہ جن کے بار میں میں شک بھی نہیں کر سکتا تھا اور میں ان کے وجود کو حقیقت سمجھتا تھا۔

میرے لیے سب سے زیادہ دکھ کی بات یہ تھی کہ تمام بزرگان فرقہ جیسے شیخ مفید،سید مرتضی،نعمانی،طوسی کوئی دلیل پیش کرنے کی بجائے وجود کو صرف فرضی فلسفوں سے پیش کر رہے تھے۔ان کی پیدائش کے حوالے سے کوئی علمی تاریخی دلیل موجود نہ تھی ان کے پاس۔

اب میں اپنے اندر ایک خوف محسوس کر رہا تھا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ ” *نظریہ امامت الہی* ” صحیح بھی ہے یا نہیں؟؟

جب میری تسلی نہیں ہوئی 12 واں امام کے وجود پر تو میں نے کہا کہ امامت کے حوالے سے ہی تحقیق کر لیتا ہوں۔ چنانچہ میں نے قدیم شیعہ کتب کے حوالے سے اس موضوع کا مطالعہ شروع کیا ،جن کو میں نے اس سے قبل پڑھا نہیں تھا۔ مجھے شیخ نصیرالدین طبرسی کا ایک کتابچہ ملا الباب الحادي عشر کے نام سے، پھر میں نے سید مرتضی کی *کتاب الشافی* کا مطالعہ کیا، پھر میں نے تلخیص الشافی طوسی کو پڑھا، شیخ مفید کی کئی کتابوں کو پڑھا،اور قم،طہران اور مشہد میں امامت کے متعلق جتنی کتب تھیں ان سب کا میں نے مطالعہ کیا۔

مجھے دوسرا بڑا صدمہ اس وقت ہوا جب میں نے مطالعہ کے بعد یہ اخذ کیا کہ امامت الہی کا نظریہ ایک تاریخی اور سیاسی نطریہ ہے جو کہ شیعہ متکلمین نے گھڑا ہے،اور اہل بیت ع سے کچھ بھی اس کا واسطہ نہیں۔بلکہ یہ نظریہ امامت الہی ان کی سیرت و اقوال کے خلاف ہے،اور اس نطریہ کو صرف تقیہ کے ذریعے ثابت کیا جاتا ہے جو کہ باطنی اسماعیلی فرقے کا نظریہ ہے۔ کیونکہ تقیہ کے نام پر باطنی فرقہ والے جو دل چاہے اہل بیت سے منسوب کرتے ہیں کہ وہ حکام سے خوف زدہ ہو کر اصل حقیقت چھپاتے ہیں۔علم غیب اور معجزات سے ان کی امامت ثابت کرتے۔

پس اہل بیت شوری کے قائل تھے،جب کہ امامت الہی کو قرآن کی آیات کی باطل تاویل اور ایسی حدیث جن کی صحت مشکوک ہے ان سے چابت کیا جاتا ہے۔ پس میں احمد کاتب نے اب یہی نتیجہ اخذ کیا کہ امام عسکری ع بغیر کسی اولاد کے فوت ہوگئے اور نطریہ امامت الہی کا کوئی تعلق نہیں اہل بیت ع سے اور امامت الہی کا نطریہ دوسری اور تیسری صدی کے ایک قلیل شیعہ فرقے اس کے قائل تھے اور میں نے یہی پایا کہ امامت الہی اہل بیت سے جھوٹ و زور کے طور پر منسوب شدہ ہے ، وہ اس سے بری ہیں۔

اب میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ اس نتیجہ کے بعد تو مسئلہ ہی حل ہوا کیونکہ شیعہ و سنی کے نام پر مسلمان جس مشکل میں کئی صدیون سے برسر پیکار ہیں وہ تو “اہل بیت نص کے تحت خلافت کے اصل حقدار تھے” اور “دوسروں نے ان کا یہ حق غصب کیا”۔ اس نظرئے کی بنیاد مل گئی اور یہ کہ امت کی وحدت کا راستہ مل گیا۔

دوسرا یہ کہ نظریہ ولایت فقیہ کی بجائے اصل چیز شوریٰ ہے۔اور یہ امت کا حق ہے کہ وہ اپنا حاکم منتخب کرے اپنی مرضی سے۔

اور ان دو چیزون کی بنیاد پر میرے اندر فکری تبدیلی آئی ۔

اب اس بنیاد پر میرے تعلقات ،میرے سیرت و کردار میں تبدیلی آئی۔

اب چونکہ میں ایرانی نظام ولایت فقیہ کے زیر سایہ زندگی گزار رہا تھا اس لیے اپنے ان افکار و نتائج کو بیان کرنا دوستوں،شاگردون اور اساتذہ کے درمیان کہنا بہت مشکل تھا،اور یہ کوئی آسان کام نہ تھا۔

اب میں نے سب سے پہلے اپنے والد محترم کو بتایا کہ میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں،اور انہوں نے مجھ سے مکمل اتفاق کیا، گویا وہ اس انتظار میں تھے کہ میں یہ کہوں اور وہ بھی میرے نظریات مان لیں۔ لیکن میری والدہ محترمہ نے بہت مشکلات کھڑی کیں، اور وہ پریشان غمگین ہوگئیں،کہ ان کی زندگی بھر کی محنت کا نتیجہ کیا یہ نکلنا تھا کہ اہل بیت ع کی امامت الہی کا انکار کروں؟ لیکن مجھ سے اور میرے والد سے اس موضوع پر بحث مباحثہ کے بعد وہ بھی میرے نظریات کے قائل ہو گئیں، کیونکہ وہ ایک مؤمنہ خاتون تھیں جو اہل بیت ع سے بہت محبت رکھتی تھیں اور وہ بھی آباء و اجداد کی پیروی میں رد عمل دکھا رہی تھیں اور چونکہ انہوں نے میری پرورش ہی امام مہدی کے وجود (اور ان کے سپاہی بننے) اور ان کے انتظار کےعقیدے سے ہی کی تھی، لیکن وہ متعصب نہیں تھیں۔ اب الحمد للہ میرے والد اور والدہ دونوں نے ہی میرے نظریات کو اپنا لیا تھا،مجھ سے متفق تھے اور وہ دونوں ان نطریات کو اپنے دوستون ،رشتہ دارون میں پھیلانے لگے،اور پھر ہمیں بائیکاٹ، اذیتوں اور دشمنی کا سامنا کرنا پڑا۔

اب میں نے دوسرے شخص جن سے اپنے نطریات کو بیان کیا وہ مرجع سید محمد شیرازی تھے، میرے متعلق لوگوں نے ان کو بتایا تھا کہ ان کے نظریات یہ ہیں اب،تو قم میں ان سے ملاقات کی مین نے،وہ مجھے کہنے لگے کہ اہل بیت ع سے دشمنی کرنے والوں کا معاشرے میں یہ یہ حال ہوگا اور فدک کے حوالے سے انکار کرنے والے کے بھیانک نتائج کے متعلق بتایا کہ اس کا یہ حال ہوا تھا، میں نے کہا فدک تو افسانوی چیز ہے، امامت الہی تو عقیدے کا ایک اہم ستون ہے ، اور وہ مجھے کہنے لگے کہ اس پر دوبارہ غور کروں ۔ تفصیل سے ان کے ساتھ بحث کرنے کا وقت نہ ملا لیکن میں نے ان سے کہا کہ میں اپنا کتابچہ آپ کو بھیج دیتا ہوں آپ بھی پڑھ لیں۔

تیسرے شخص جن سے میں نے اس موضوع کو چھیڑا وہ میرے استاد سید تقی مدرسی تھے،اور میں نے اپنی تحقیق ان کے سامنے رکھ دی اور میں نے ان سے کہا کہ امام مہدی کا وجود کیسے ثابت کریں گے؟ اور مجھے کوئی ایسی دلیل دیں جس کا احاطہ میں نے نہ کیا ہو یا مجھے معلوم نہ ہوا ہو۔

انہوں نے کہا کہ امام مھدی دراصل امورغیب میں سے ہیں۔میں نے کہا کہ امور غیب میں سے کیسےَ جب کہ ملائکہ پر ایمان،جنت و دوزخ پر اگر ہم مسلمان ایمان رکھتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا ذکر قرآن میں آیا ہے تب ہمارا یہ ایمان ہے۔اور جس چیز،امام مھدی، کا قرآن میں ذکر نہیں وہ امور غیب کیسے بنا۔۔۔؟ اور بزرگ علماء نے اس پر ایمان کو فرضی فلسفہ بتایا ہے تو یہ امور غیب کیسے؟ انہوں نے گھڑی کی طرف دیکھا اور کہا کہ اس موضوع پر تم مجھے خط کے ذریعے لکھ کر بھیج دو میں جواب دے دوں گا،میں نے کہا کہ یہ تو بہت اہم موضوع ہے جب تک یہ مکمل کتاب نہ لکھوں اس وقت تک آپ کو نہیں لکھ سکتا۔

اس کے بعد مین نے اپنے دوستوں کے ایک چھوٹے سے حلقے میں اپنے افکار کو پیش کیا،اور 1992 میں میں نے اپنے وعدے کے مطابق تقی مدرسی صاحب کو اپنی کتاب کا پہلا نسخہ بھیجا۔ان کے علاوہ تقریبا 300 سے 400 شیعہ علماء ،مفکرین اور لیڈروں کو یہ کتاب بھیجی اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ مجھے امام مھدی کے وجود کے نظریہ پر دلیل و برہان سے قائل کریں اور کتاب کو رد کریں۔اور میں نے حوزہ علمیہ قم کے نام بھی مراسلات بھیجے اور ان سب میں میں نے کہا کہ اگر مجھے ایسی دلیل مل جائے جن سے بارہواں امام کا وجود ثابت ہو تو مجھے خوشی ہوگی اور مین اپنی اس تحقیق کو جلا ڈالوں گا۔

اور بعد میں 5 سال کے بحث مباحثوں اور رسائل و کتابت کے بعد 1997 عیسوی میں میری کتاب باقاعدہ طور پر شائع ہوئی امام مہدی کے متعلق، اور علمائے شیعہ سے جو مذاکرات مباحثے ہوئے وہ *حوارات أحمد الكاتب مع العلماء والمراجع والمفكرين حول وجود الإمام الثاني عشر محمد بن الحسن العسكري* کے نام سے 2007 میں شائع کیا۔