سابق شیعہ عالم ڈاکٹر سید صادق تقوی

معاصر ایرانی قرآنی فکر رکھنے والے ایک استاذ کا تعارف!

جن کی کتاب” حقیقی مذہب جعفریہ ” کافی مشہور ہوا اور اردو میں اس کا خلاصہ اہل سنت میگزین نے بھی پیش کیا

*ڈاکٹر سید صادق تقوی*

ڈاکٹر سید صادق تقوی کا شمار بھی ایرانی اہل توحید اور قرآنی فکر رکھنے والوں میں کیا جاتا ہے۔اور آپ پر ایرانی مجتہدین و علماء نے تنقیدی مضامین لکھے ہیں۔آپ 1913 یا 19 14 عیسوی میں ہیدا ہوئے۔آپ کے والد کا نام سید جعفر تھا۔

جب آپ 13 سال کے ہوئے تو آیت اللہ سید اسد اللہ خرقانی جیسے موحد،قرآنی مجتہد اور اتحاد امت رکھنے والے کے افکار سے متاثر ہوئے۔اور بہت سارے خرافات و بدعات کے خلاف آپ کای ذھن سازی ہوئی۔

آپ نے اپنے ابتدائی علوم سے 1937 تک میڈیکل کے علوم حاصل کیے،اور دانتوں کے ڈاکٹر(ڈینٹسٹ) بن گئے۔

1944 میں حزب تودہ سے بھی وابستہ رہے۔اور تنکابن میں اس کے فعال ذمہ دار رہے۔بعد میں اس سے الگ ہوئے۔

انقلاب ایران سے قبل کئی بار مختلف الزامات کے تحت گرفتار رہے خصوصا اس لیے کہ ڈاکٹر کا دعوی تھا کہ ہر زمانے میں ایک امام زمانہ ہونا چاہیے،اور جو بھی حقیقی دین کی طرف بلائے وہ وقت کا امام ہے۔اس لیے ان کے مخالف شیعوں نے ان کو یہ کہ کر گرفتار کروایا کہ ڈاکٹر صادق خود کو اپنے زمانے کا مہدی کہتا ہے۔

1951 عیسوی میں آپ نے “مکتب جدید اسلام” کے نام سے مجلہ نھضت اسلام جاری کیا جس میں یہ بتایا کہ اب تک ہمارے علماء جس چیز کو اسلام کا نام دیتے ہیں وہ قدیم ہے اس لیے صدر اول کے اسلام کو پھر سے واپس لانے کی ضرورت ہے جس کو انہوں نے “مکتب اسلام جدید” کا نام دیا۔

نومبر 1967 عیسوی میں آپ کا رسالہ موازین مذھب حقہ جعفری پیش ہوا۔جس میں یہ بتایا کہ آج جس مذھب جعفری پر شیعہ عمل پیرا ہیں وہ حقیقی نہیں ہے۔

انقلاب ایران کے بعد مجلس خبرگان میں بھی رہے اور بعد میں کینڈا چلے گئے۔

1985 تک آپ خیابان گرگان میں ڈاکٹر کے طور پر متعین رہے۔

1989 میں دادگاہ انقلاب نے اہل سنت کے ساتھ روابط اور سنی وہابی ایجنٹ کہ کر گرفتار کیا۔

آپ نے اپنے اور اپنے ہم فکروں کی تحریک کو نہضت اسلام،گروہ مہتدیان،اور جمعیت ہدایت مل کا نام دیا۔

آپ کے تفسیر و ترجمہ قرآن مجلہ رنگین کمان میں بھی شائع ہوتے رہے۔

آپ کے شاگردوں کو اور ماننے والوں کو “گروہ مہتدی” کہا جاتا ہے اور آج بھی ان کی کثیر تعداد ایران اور باہر ممالک میں ہیں۔

جس وقت ایران میں نماز جمعہ پڑھنے کا باقاعدہ تصور نہ تھا اور امام زمانہ کے انتظار میں لوگ تھے،آپ نماز جمعہ پڑھاتے تھے اور بلیغ انداز میں قرآن کی روشنی میں خطبہ دیتے تھے۔

آپ کے شاگرد اور ہم فکر نماز میں سجدگاہ (تربت) نہیں رکھتے تھے۔

اذان میں علی ولی اللہ کی شہادت دینا غالیوں کی بدعت قرار دیتے تھے۔

اور اذان میں حی علی خیر العمل کہنے کو آپ جائز نہیں سمجھتے تھے کہ اس کا معنی متناسب نہیں، کیونکہ آپ کے نزدیک نماز ایک خوب عمل ہے لیکن خیر العمل نہیں۔

آپ وضو میں پاؤں پر مسح کرنے کو خلاف قرآن سمجھتے ہیں اور آپ اور آپ کے ہم فکر وضو میں پاؤں دھوتے ہیں۔

آپ خود کو سنی نبوی و شیعہ نبوی کہتے تھے۔

آپ خلیدہ عمر و علی کے درمیان کسی قسم کی تفریق کرنے کے قائل نہ تھے،کیونکہ دونوں ہی خلیفہ تھے اور اختلاف پیدا کرنے کی بجائے وحدت ہی بہترین راستہ ہے۔

آپ آیت اللہ برقعی کے دوستوں میں سے تھے اس لیے برقعی ان کا ذکر کرتے ہیں اور بت شکن کے آکر میں ان کی ایک تحریر نقل کی ہے۔ اور اس کے علاوہ دور حاضر کے ایرانی قرآنی فکر رکھنے والے اسکالر ید اللہ بختیاری نژاد جوانجمن اسلامی میں ہفتے میں ایک بار تقریر کرتے ہیں ان کے بھی دوست تھے۔

اس کے ساتھ مصطفی طباطبائی حفظہ اللہ کے ساتھ بھی روابط تھے۔

لیکن آپ نے ان تمام سے مختلف امور پر اختلاف رائے بھی رکھا جس پر تحریریں بھی موجود ہیں کہ ان سے متفق نہیں بعض موضوعات پر۔

دینی امور خصوصا عقائد میں قرآن کو کافی سمجھتے ہیں۔

رائج ایرانی انقلاب کے خلاف تھے ،اور روحانیت(دینی پیشوا) کے قائل نہ تھے کہ یہود کے ہم مثل مسلمان بن جائیں گے۔

1985 عیسوی میں آپ زاہدان میں موجود تھے کہ ایرانی پاسدارن نے آپ کو گرفتار کیا۔اور آپ کو جیل میں رکھا گیا۔

1970 عیسوی میں آپ کی کتاب فرعون،ابراہیم ،یوسف،و موسی پر پابندی لگی،جس کی وجہ یہ لکھی ہوئی تھی:

“اکثر دعاؤں کو گھڑی ہوئی قرار دیا ہے۔۔۔ یہ مولف شیعوں اور کتب شیعہ سے عناد رکھتا ہے،اور اپنی دشمنی کو یہ کتاب لکھ کر ظاہر کیا ہے۔”

کتابیں:

یوں تو آپ کی کتب اور مقالاجات کافی ہیں لیکن مشہور کتب یہ ہیں:

1- موازین مذهب حقه جعفری

2-مواد اساسی حکومت در اسلام

3-یک روش جدید برای از بردن کلیہ اختلافات

4-دستور علی در راہ اتحاد شیعہ و سنی

5-جبر است یا اختیار؟

6- معجزات علمی قرآن

7-اعمال حج و فلسفہ آن

8-پیشگوئی وضع امروز

9-شرح پیغمبری ابراہیم و یوسف و موسی

10-کشتی نجات بشریت در اثبات نبوت وخاتمیت پیغمبر اسلام

11-چگونہ نماز بخوانیم

12۔دو از دہ قاعدہ رفع اختلاف مسلمین وقوانین ارث اسلام

13۔اصلاح آسان و کامل

15،اثبات علمی وجود خدا و آخرت

16- ترجمہ و تفسیر قرآن بہ ترتیب نزول سورہ ھا

17- راہ صحیح رفع اختلاف مسلمین

1994 عیسوی میں آپ کی وفات ہوئی۔