رسول اللہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو فدک دیا یا نہیں؟؟

رسول اللہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو فدک دیا یا نہیں؟؟
شیعہ کی طرف سے پیش کی جانے والی تمام روایات کا تحقیقی جائزہ

یاد رہے مسئلہ فدک پر شیعہ اس بات کے مدعی ہیں ، کہ ” فدک ” سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ کیا گیا تھا،
اس کے ساتھ ہی وہ یہ دعوی بھی کرتے ہیں ، کہ اہل سُنت کی معتبر کُتب احادیث کی صحیح روایات میں یہ واقعہ موجود ہے!

میرا تمام دنیاء شیعیت کو کھلا چیلنج ہے، اھل سُنت کی مُستند و معتبر کُتب سے ” ہبۂ فدک ” پر ایک بھی صحیح روایت پیش کردیں ، جس کے راوی ، شیعہ ، رافضی ، کذاب ، دجال ، نہ ہوں ، میں ایک لمحے میں مذہب شیعیت قبول کرلونگا!
البتہ شیعہ دوستوں نے آج تک اپنی کُتب میں جو روایات ہبہ کی پیش کی ہیں ، یا کُتب اھل سُنت کی طرف ان کی نسبت کی ہے ، ان روایات کے ایک ایک راوی کو ائمۂ جرح و تعدیل کی کُتب سے شیعہ اور کذاب ثابت کرونگا ان شاء اللہ!
پوری دنیا کے شیعہ مل کے بھی ہبہ کی ایک روایت بھی ایسی ثابت نہیں کرسکتے ، جس کے راوی شیعہ نہ ہوں،
بلکہ ان کی کُتب میں جس روایت پر انہیں بڑا ناز و فخر ہے ، اور جھوٹ بولتے ہوئے وہ روایت ” صحابئی رسول سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی طرف مختلف طُرُق سے منسوب کرتے ہیں ، اس کے بھی آخری راوی صحابئی رسول ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نہیں بلکہ وہ بھی ایک شیعہ راوی ہے ، جس کی کنیت کبھی تو ابو سعید ہوتی تھی ، کبھی تو یہ صاحب ابو نضر کی کنیت اختیار کرتے ہیں ، کبھی ابو ہشام اور کبھی ابو سعید ، اس سے روایت کرنے والے اس کے شاگرد بھی اسی کی طرح شیعہ ہیں ،
شیعہ دوستوں کے مجتھدین نے مسئلۂ فدک پہ جو معرکة الآرا کتب لکھی ہیں پہلے ان کی تفصیل؛
آج کے زمانہ میں اردو میں لکھی جانے والی تمام کتب ان کُتب کا چربہ ہیں۔
سید شریف مرتضی المعروف علم الھدی کی تصنیف ” شافی ”
ابو جعفر طوسی کی ” تلخیص شافی ”
جلال الدین حسن بن یوسف بن علی مطھر حلی کی ” کشف الحقائق و نہج الصدق ”
ثقة الاسلام علی بن طاؤس حلی کی ” طرائف فی معرفت مذاہب الطوائف ”
قاضی نوراللہ شوستری کی ” احقاق الحق ”
ملا باقر مجلسی کی بحار الانوار جلد 8
اور پھر اسی کا خلاصہ فارسی زبان میں ” حق الیقین ” اور ” حیات القلوب ” میں
مولوی دلدار علی لکھنوی کی ” عماد الاسلام ”
مولوی محمد پرقلی کی ” تشئید المطاعن ”
مجتھد سید محمد کی ” طعن الرماح ”
سید محمد باقربن سید محمد موسوی کی ” بحر الجواھر”
اسماعیل بن احمد علوی طبرسی کی ” کفایة المؤحدین فی عقائد الدین ”
مقرب الخاقان مرزا محمد تقی کی ” ناسخ التواریخ ” وغیرہ ہیں ، جن میں تفصیل سے ” فدک ” کی بحث کی گئی ہے،
ان تمام کتب جن کے نام اوپر ذکر کئے گئے ہیں ، ان میں سے ” کشف الحق ” میں پہلے ” میراث ” کا دعوی کیا گیا ہے، پھر ” ہبہ ” کا،
بقیہ تقریبا تمام کتب میں پہلے ہبہ کا دعوی کیا گیا ہے،
عمادالاسلام میں مجتھد مولانا دلدار علی صاحب لکھتے ہیں ، کما یقول المسئلة الرابعة ان فاطمة ھل ادعت الخ؛
یعنی چوتھا مسئلہ یہ ہے، کہ آیا فاطمہ رضی اللہ عنھا نے پہلے میراث کا دعوی کیا تھا ، یا ہبہ کا ؟ یا پہلے ہبہ کا دعوی اور پھر میراث کا؟ اھل سنت کے کلام سے یہ معلوم ہوتا ہے ، پہلے میراث کا دعوی کیا گیا تھا پھر ہبہ کا ، اور امامیہ اس کے برعکس کہتے ہیں۔
اس عبارت سے مجتھد صاحب یہ باور کرانا چاہتے ہیں ، کہ ہبہ کا دعوی اہل سنت کے نزدیک بھی صحیح ہے،
حالانکہ اھل سنت کی کسی معتبر اور صحیح روایت سے ہبہ کا دعوی ثابت ہی نہیں ، اور اھل سنت اس بات کو مانتے ہی نہیں ، کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا نے ہبہ کا دعوی بھی کیا تھا ، اس لئے وہ عمارت جو اس روایت کی بناء پر شیعہ دوستوں نے کھڑی کی ہے ، کہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا سے شھادت طلب کی گئی تھی اور ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے گواہی نامکمل ہونے کے سبب وہ شھادت رد کردی تھی،
حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دھلوی اپنی شہرہ آفاق تصنیف ” تحفۂ اثنا عشریہ ” میں تیرھویں اعتراض کا جواب دیتے ہوئے رقم طراز ہیں؛
جواب اس اعتراض کا یہ ہے، کہ حضرت زھراء رضی اللہ عنھا کا دعوٰئ ہبہ اور گواہی میں جناب علی وام ایمن یا بروایت دیگر جناب حسنین رضی اللہ عنھم کو پیش کرنے کی روایات افتراء اور جھوٹ ہے ، کیونکہ اہل سُنت کی کتابوں میں اس معاملہ کی کسی عنوان کوئی روایت موجود نہیں ، لہذا اس کا سہارا لےکر اھل سُنت پر الزام لگانا اور ان سے جواب طلب کرنا نادانی اور دھاندلی ہے۔
” روایاتِ ہبۂ فدک کی حقیقت ”
سب سے قبل چوتھی صدی ہجری کی اھل تشیع کی جس کتاب ” شافی ” میں تفصیل سے ” فدک ” کے مسئلہ کو لکھا گیا ہے ، اس میں صرف ایک روایت ہبہ کے بارہ میں پیش کی گئی ہے، اس روایت کا خلاصہ یہ ہے ، کہ جب قرآن مجید کی آیت ” وَاٰتِ ذَا الۡقُرۡبٰى حَقَّهٗ ” سورہ اسراء آیت نمبر 26 نازل ہوئی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ” فدک ” حضرت فاطمہ کو ہبہ فرمادیا، ( حالانکہ یہ آیت مکہ میں نازل ہوئی اور فدک تو سن سات ھجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملا اس آیت پر ائمۂ معصومین کے اقوال بھی ذکر کئے جائیں گے ان شاءاللہ ) یہ وہی روایت ہے ، جس کے آخری راوی ابو سعید ہیں جن کو ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہا اور سمجھایا جاتا ہے، اس کے علاوہ ” شافی ” میں اور کوئی روایت ہبہ کی مذکور نہیں؛
اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے ، کہ سید شریف مرتضی علم الھدی جیسے اعلی پائے کے شیعہ مجتھد کو اھل سنت کی کسی معتبر کتاب سے اور کوئی روایت نہیں ملی ، وگرنہ وہ اسے ضرور ذکر کرتے، ( یہ موصوف چوتھی صدی ھجری کے مجتھد ہیں ،
” تلخیص شافی ” میں بھی اس روایت کے علاوہ کوئی اور روایت ہبۂ فدک کی مذکور نہیں،
” کشف الحق ونہج الصدق ” میں بھی صحیح سند کے ساتھ کوئی اور روایت مذکور نہیں ،
” طرائف ” میں ایک روایت بشر بن ولید اور واقدی اور بشر بن غیاث کے واسطہ سے پیش کی گئی ہے، اس کے علاوہ ایک اور روایت سید الحفاظ بن مردویہ کی نقل کی گئی ہے،
” بحار الانوار ” میں ملا باقر مجلسی نے وآت ذی القربی کی تفسیر میں یہ تو لکھا ہے ، کہ ” آیت کے شان نزول میں بہت سی روایات بہت سے اھل سنت و شیعہ مفسرین نے بیان کی ہیں ، شیعہ مجتھد شیخ طبرسی سے ایک روایت بغیر سند کے ذکر کرتے ہیں ، حالانکہ مجتھد طبرسی نے اس روایت کے راویوں کا ذکر کیا ہے ، مجلسی صاحب نے اس روایت کے راوی چھوڑ دئے، صرف ابو سعید خدری کا ذکر کیا،
لیکن طبرسی صاحب نے راوی ذکر کئے ہیں ، سلسلۂ سند یوں ہے۔
اخبرنا السید ابو حمید مھدی بن نزارالحسنی قرآة قال حدثنا الحاکم ابوالقاسم بن عبداللہ الحسکانی قال حدثنا الحاکم الوالد ابو محمد قال حدثنا عمر بن احمد بن عثمان بغداد شفاھا قال اخبرنی عمر بن الحسین بن علی بن مالک قال حدثنا جعفر بن محمد الاحمصی قال حدثنا حسن بن حسین قال حدثنا ابو معمر بن سعید جیشم وابو علی القاسم الکندی ویحی بن یعلی وعلی بن مسھر عن فضیل بن مرذوق عن عطیة الکوفی عن ابی سعید الخدری قال لما نزلت الخ
احباب اس روایت کے آخری تین راوی ” فضیل بن مرذوق ” عطیة الکوفی ” ابو سعید الخدری ” کو ذہن نشین کرلیں،
دوسری روایت جو ملا باقر مجلسی صاحب نے لکھی ہے اس کے راوی درج ذیل ہیں،
محمدبن العباس عن علی بن العباس المقانعی عن ابی کریب عن معاویہ عن ” فضیل بن مرذوق ” عن عطیة ” عن ابی سعید الخدری ”
تیسری روایت سید ابن طاؤس کی کتاب سعد السعود سے مجلسی صاحب نقل کرتے ہیں ، اس روایت کے آخری تین راوی بھی ” فضیل بن مرذوق ” عطیة الکوفی ” ابو سعید الخدری ” ہیں ،
قاضی نوراللہ شاستری نے اپنی کتاب ” احقاق الحق میں بھی اسی روایت کو ذکر کیا ہے۔
عماد الاسلام میں جو روایت سید الحفاظ ابن مردویہ سے ذکر کی گئی ہے، اس کے آخری راوی بھی ” فضیل بن مرذوق ” عطیة الکوفی ” ابو سعید ” یہی تین ہیں ، فرق صرف اتنا ہے کہ ” آخری راوی کا نام صرف ابو سعید لکھا ہے ابو سعید الخدری نہیں ”
دوسری روایت ” کنزالعمال ” شیخ علی متقی سے بیان کی ہے اور اسی روایت کو ” حاکم نے اپنی تاریخ میں بیان کیا ہے ، اور ساتھ یہ بھی لکھا ہے ،
” تفرد به ابراھیم بن محمد بن میمون عن علی بن عابس بن النجار۔
یعنی اسے صرف ابراھیم بن محمد بن میمون نے علی بن عابس بن نجار سے روایت کیا ہے۔
اسی کتاب میں تیسری روایت علامہ سیوطی کی تفسیر در منثور سے نقل کی گئی ہے،
اسی کتاب میں چوتھی روایت ” معارج النبوت ” سے نقل کی گئی ہے،
ان چاروں روایات کو نقل کرنے کے بعد مصنف صاحب ایک جملہ ارشاد فرماتے ہیں ،
وقال السید المرتضی فی الشافی وقد روی من طریقة مختلفة غیر طریق ابی سعید۔
سید مرتضی ” شافی ” میں لکھتے ہیں ابو سعید کے علاوہ اور بھی کئی طریقوں سے یہ روایت مروی ہے،
لیکن حیرت کی بات تو یہ ہے ، اپنے اس دعوی کی دلیل کے طور پہ کسی اور مختلف الاسناد روایت کو ذکر نہیں کرتے ،
چوتھی صدی ھجری سے لے کے پندرھویں صدی ھجری تک جتنے لوگوں نے اھل تشیع میں سے ” فدک ” کے موضوع کو اپنی اپنی تصانیف میں لکھا ہے، یا اھل سنت کی چند کتب سے جن روایات کا تذکرہ کیا ہے ، اس کے علاوہ ان کے پاس ” ہبۂ فدک ” میں اور کوئی روایت نہیں ، اگر ہوتی تو ضرور باالضرور اس کا تذکرہ کرتے،
میں پہلے وہ تمام روایات نمبر وار پیش کروں گا ، جو ہبہ کے متعلق اھل سنت یا اھل تشیع کی کتب میں موجود ہیں ، پھر ان کو روایت کرنے والے راویوں کا کچا چٹھا بیان کروں گا ان شاء اللہ۔
یہ روایات جس طریقۂ اسناد سے بھی پیش کرلیں ، اس کا آخری راوی ” ابو سعید ” ہے جسے کہیں ” ابو سعید الخدری ” کے نام سے ذکر کیا گیا ہے اور کہیں صرف ” ابو سعید ”
ایک ہی شخص اس پردۂ زنگاری میں چُھپا ہوا ہے ، اسی کے مختلف رنگ دوسروں نے لئے ہیں ، یہ ایک ہی گندا دریا ہے ، جس سے جھوٹ ، دجل ، اور فریب کی مختلف نہریں نکلی ہیں ،
اسے آسان کرنے کے لئے میں یوں سمجھاتا ہوں
روایت نمبر 1 ) جسے سید الحفاظ ابن مردویہ سے طرائف میں نقل کیا گیا ہے ، اس میں ساتویں ، آٹھویں اور نویں راوی ” ” فضیل بن مرذوق ” عطیة الکوفی ” ابو سعید ” ہیں
روایت نمبر 2) بحار الانوار میں بغیر سند کے اور تفسیر مجمع البیان طبرسی میں تفصیل سے سند کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے، اس کے بارھویں ، تیرھویں اور چودھویں راوی ” فضیل بن مرذوق ” عطیة الکوفی ” ابو سعید ” ہیں؛
روایت نمبر 3) یہ روایت بھی بحار الانوار میں سید ابن طاؤس کی کتاب ” سعد السعود ” سے نقل کی گئی ہے ، اور ابن طاؤس نے اسے تفسیر محمد بن علی بن مروان سے نقل کیا ہے، اس روایت کے نویں ، دسویں ، اور گیارھویں راوی بھی ” فضیل بن مرذوق ” عطیة الکوفی ” ابو سعید ” ہیں؛
روایت نمبر 4 ) بھی بحار الانوار میں ذکر کی گئی ہے اس کے پانچویں ، چھٹے ، اور ساتویں راوی بھی ” فضیل بن مرذوق ” عطیة الکوفی ” ابو سعید ” ہیں؛
روایت نمبر 5) جو ” کنزالعمال ” سے عماد الاسلام میں نقل کی گئی ہے، اسے ” حاکم ” کی تاریخ میں سے لیا گیا ہے ، اس کا سلسلہ بھی ابو سعید پہ ختم ہورہا ہے ؛
روایت نمبر 5 ) جو ” عماد الاسلام میں ” تفسیر در منثور سیوطی ” سے نقل کی گئی ہے، اس میں سند کا حوالہ نہیں دیا گیا، لیکن ” طعن الرماح ” میں اسی روایت کے ساتھ یہ ذکر کیا گیا ہے، کہ ” بزار ” ابو یعلی ” ابن حاتم ” اور ابن مردویہ نے اسے ابو سعید الخدری سے روایت کیا ہے؛
روایت نمبر 6) بحار الانوار میں ذکر کی گئی ہے، جس میں مامون الرشید کی طرف منسوب کیا گیا ہے، کہ اس نے عبید اللہ بن موسی سے ” فدک ” کا حال تحریرا دریافت کیا تو اس نے وہ روایت جس کا ذکر مھدی بن نزار نے کیا ہے ، لکھ بھیجی تو مامون الرشید نے ” فدک ” اولاد فاطمہ کو لوٹا دیا تھا، اس روایت کے آخری تین راوی بھی ” فضیل بن مرذوق ” عطیة الکوفی ” ابو سعید ” ہیں ؛
روایت نمبر 7 ) جسے طرائف میں بشر بن ولید ، واقدی ، بشر بن غیاث سے بیان کیا گیا ہے ، اور اسی کو قاضی نوراللہ شوستری نے احقاق الحق میں وقدی کے حوالہ سے ذکر کیا ہے ، اس روایت کی اسناد ذکر ہی نہیں کی گئیں ؛
روایت نمبر 8 ) جسے معارج النبوة ” اور ” مقصد اقصی ” سے عماد الاسلام میں نقل کیا گیا ہے ان کے آخری راوی بھی ” فضیل بن مرذوق ” عطیة الکوفی ” ابو سعید ” ہیں؛
چونکہ یہ روایات مختلف طریقوں سے یا سند کو حذف کرکے بیان کی جاتی ہیں ، تو ہمارے اھل سُنت یہ سوچ کے گھبرا جاتے ہیں ، کہ ایک صحابئی رسول ” ابو سعید الخدری ” کی یہ روایت ہے ، کیسے یہ روایت غلط ہوسکتی ہے، نیز چونکہ ہماری ہی کتب سے یہ روایات نقل کی جارہی ہیں ، اس لئے یہ روایات لازمی صحیح ہونگی ، اس سے اکثر لوگوں کے دماغوں میں شبہ اور خلجان پیدا ہونا شروع ہوجاتا ہے، لیکن ان بیچاروں کو یہ معلوم نہیں ہوتا ، کہ جس نام ابو سعید الخدری سے ان کو دھوکہ دینے کی کوشش کی جارہی ہے، وہ ابو سعید الخدری نہیں بلکہ یہ وہ ابو سعید ہے جو کلبی کے خطاب سے مشہور اور صاحب تفسیر ہے ،
ان صاحب کے بہت سے نام اور مختلف کنیتیں ہیں ، اور اسی وجہ سے لوگوں کو اکثر ان کے نام میں دھوکہ ہو جاتا ہے،
کبھی ان کا نام محمد بن سائب کلبی لیا جاتا ہے، اور کبھی حماد بن سائب کلبی کے نام سے پکارے جاتے ہیں ، ان صاحب کی تین مختلف کنیتیں ہیں ،
نمبر 1 ابو نصر ، نمبر 2 ابو ہشام ، نمبر 3 ابو سعید۔
عطیہ عوفی ان کے خاص الخاص شاگرد ہیں ، اور وہ شیعہ ہیں ، اس قسم کی روایات کو جب بھی عطیہ عوفی اس شخص سے روایت کرتے ہیں ، ایسا انداز اپناتے ہیں ، کہ جس سے لوگوں کو یہ دھوکا ہوتا ہے، کہ عطیہ عوفی ” ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ ” سے روایت کررہے ہیں ، عطیہ عوفی ” حدثنا یا قال ابو سعید کہ کے چُپ ہو جاتے ہیں ، کلبی یا خدری کی تخصیص نہیں کرتے ،
اسماءالرجال کی کتب میں ان استاد شاگرد کا جو تعارف کروایا گیا ہے ، اس سے آپ دوستوں کو صورت احوال سمجھنے میں آسانی ہوگی ،
پہلے میں عطیہ عوفی الکوفی کا تعارف کرواتا ہوں،
اسماءالرجال ( ” دینی علوم کو نہ جاننے والے دوستوں کے لئے وضاحت ” اسماء الرجال اس علم کو کہتے ہیں جس سے روایت کرنے والے راویوں کی مکمل حقیقت پتہ چلتی ہے، کہ وہ کون تھے ؟ کیا تھے ؟ سچے تھے ؟ جھوٹے تھے ؟ وغیرہ وغیرہ ) کی معتبر ترین کتاب ” تقریب التھذیب میں ان حضرت کے تعارف میں یہ الفاظ لکھے گئے ہیں،
کما یقول عطية بن سعد الکوفی یخطی کثیر او کان شیعیا مدلسا۔
ترجمہ ؛ عطیہ بن سعد الکوفی روایت میں غلطی بھی کرتے تھے ، تدلیس بھی کرتے تھے ، اور شیعہ بھی تھے۔
ان صاحب کی روایات تین وجوھات سے ہم اھل سنت کےنزدیک مردود ہے،
نمبر 1) کثیر الخطا ہونے کی وجہ سے ان کی روایات یقین کے قبل نہیں،
نمبر 2) تدلیس کی وجہ سے ان کی روایات پایۂ اعتبار سے ساقط ہیں،
نمبر 3) شیعہ ہونے کے وجہ سے ان کی روایات اھل سُنت کے نزدیک قابل اعتبار نہیں ،
روایت میں خطا کرنا اور شیعہ ہونا ، یہ دو چیزیں تو محتاج بیاں نہیں ، البتہ تدلیس کیا چیز ہے ؟ اور راوی میں یہ عیب کس درجہ کا ہوتا ہے ، یہ قابل بیاں ہے ، تاکہ قارئین کو اندازہ ہوسکے ، کہ مدلس ( تدلیس کرنے والا) راوی کی روایت کس درجہ کی ہوتی ہے،
علامہ ابن جوزی رح اپنی مشہور زمانہ کتاب ” تلبیس ابلیس ” میں لکھتے ہیں،
ومن تلبیس ابلیس علی علماء المحدثین روایة الحدیث الموضوع من غیر ان یبنواانه موضوع وھذا خیانة منھم علی الشرع ومقصودھم تنفیق احادیثھم وکثرة روایاتھم وقد قال النبی من روی عنا حدیثا یری انه کذب فھو احد الکاذبین ومن ھذاالفن تدلیسھم فی الروایة فتارة یقول احدھم فلان عن فلان او قال فلان عن فلان یوھم انه سمع منه ولم یسمع وھذا قبیح لانه یجعل المنقطع فی مرتبة المتصل ۔
ترجمہ؛ یعنی محدثین کو تدلیس حدیث موضوع کو روایت کرنے میں یہ دھوکہ ہوتا ہے، کہ وہ یہ بیان نہیں کرتے ، کہ یہ حدیث موضوع ہے، حالانکہ یہ بات اس کی شرح میں خیانت ہے، اور ان کا اپنی احادیث کا جاری کرنا ، اور کثرت سے روایات کا ہونا مقصود ہوتا ہے، اور پیغمبر ﷺ نے فرمایا، کہ جو شخص میری طرف سے کوئی حدیث روایت کرے، اور وہ یہ جانتا ہو، کہ وہ حدیث جھوٹی ہے، تو وہ خود بھی جھوٹوں میں سے ایک جھوٹا ہے، اور فن حدیث میں روایت کی تدلیس یہ ہے، کہ راوی یہ کہے، کہ فلاں نے فلاں سے فلاں نے کہا فلاں سے ، جس سے یہ وہم دلاتا ہے، کہ فلاں نے فلاں سے سنا ہے، حالانکہ نہیں سنا ، تو یہ بہت بری بات ہے، اس لئے کہ راوی حدیث منقطع کو ( جس کا راوی درمیان سے چھوٹا ہوا ہو ) متصل کے ( جس کے راوی تسلسل سے چلے آرہے ہوں ) برابر کرنا چاہتا ہے۔
عطیہ عوفی صاحب کے متعلق اسماء الرجال کی دوسری معتبر ترین کتاب ” میزان الاعتدال ” میں یوں لکھا ہے۔
عطیه بن سعید العوفی الکوفی تابعی شھیر ضعیف قال سالم المرادی کان عطیة یتشیع وقال احمد ضعیف الحدیث وکان ھیثم یتکلم فی عطیة وروی ابن المدائنی عن یحییٰ قال عطیة وابو ھارون وبشیر بن حرب عندی سواء وقال احمد بلغنی ان عطیة کان یاتی الکلبی فیاخذ عنه التفسیر کان یکتبه بابی سعید فیقول قال ابوسعید قلت یعنی یوھم انه الخدری وقال النسائی وجماعته ضعیف۔
ترجمہ؛ عطیه بن سعد عوفی کوفی تابعی مشہور ضعیف ہے، اور ابو حاتم کہتے ہیں ، کہ ان کی حدیث ضعیف ہے، سالم مرادی کہتے ہیں ، کہ عطیه شیعہ تھا ، امام احمد کہتے ہیں ، کہ وہ ضعیف الحدیث ہے، ہیثم کو عطیه میں کلام ہے، اور ابن مدینی نے یحی سے روایت کی ہے، کہ وہ کہتے ہیں ، کہ عطیه اور ابو ھارون اور بشر بن حرب میرے نزدیک برابر ہیں ( یعنی تینوں کذاب ہیں ) امام احمد کہتے ہیں ، کہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے، کہ عطيه کلبی کے پاس آتے ، اور ان سے تفسیر لیتے ، اور اسے ابو سعید کے نام سے لکھ دیتے ، اور یوں کہتے ، کہ ابوسعید نے ایسا کہا ہے، ذہبی کہتے ہیں ، کہ اس سے مراد یہ ہے، کہ ان کا مقصود یہ ہوتا ، کہ لوگ یہ سمجھیں ، کہ یہ ابو سعید خدری ( رضی اللہ عنہ ) ہیں ، اور نسائی اور ایک جماعت نے ان کو ضعیف کہا ہے۔
علامہ سخاوی نے بھی رسالہ منظومہ جزری میں جو اصول حدیث میں باب من له اسماء مختلفة ونعوت متعددة میں جہاں کلبی کا ذکر کیا ہے ، وھاں یہ لکھا ہے، وھو ابو سعید الذی روی عنه عطیة العوفی موھما انه الخدری ۔
کہ یہی کلبی ابو سعید کی کنیت سے بھی پکارے جاتے ہیں ، اور عطیه عوفی ان سے جو روایت کرتے ہیں ، وہ اسی کنیت سے یعنی قال ابو سعید کہ کے روایت کرتے ہیں ، تاکہ لوگوں کو یہ خیال ہو، کہ یہ ابو سعید الخدری ہیں۔
ابو سعید صاحب کے شاگرد رشید عطیه عوفی الکوفی صاحب کے جو حالات مختصرا اسماء الرجال کی کتب سے میں نے بیان کئے ، ان سے روز روشن کی طرح یہ حقیقت عیاں ہوجاتی ہے، کہ ہبہ کی روایات سیدنا ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ سے نہیں ، بلکہ ابو سعید کلبی صاحب کا گھڑا ہوا افسانہ ہے ، جو بزعم خود مفسر بھی تھے،
اب ان ابو سعید صاحب کی حقیقت بھی دیکھ لی جئے، یہ کس باغ کی مولی ہیں ، تاکہ آپ دوستوں کو یہ معلوم ہوجائے ، کہ یہ صاحب جن پر ھبہ کی تمام روایات کا سلسلہ ختم ہوتا ہے، اول درجے کی جھوٹے ، حدیثیں گھڑنے والے ، اور شیعہ تھے۔
علامہ سخاوی نے رسالہ منظومہ جزری میں لکھا ہے،
ان من امثلة ( ای من له اسماء مختلفة ونعوت متعددة ) محمد بن سائب کلبی المفسر ھو ابو النضر الذی روی عنه ابن اسحاق وھو حماد بن سائب روی عنه ابو اسامه وھو ابو سعید الذی روی عنه عطیة الکوفی موھما انه الخدری وھو ابو ھشام روی عنه القاسم بن الولید۔
ترجمہ؛ کہ ان لوگوں میں سے جن کے مختلف نام ، اور متعدد کنیتیں اور لقب ہیں ، ایک محمد بن سائب کلبی مفسر ہیں ، انہی کی کنیت ابو نضر ہے، اور اس کنیت سے ابن اسحاق ان سے روایت کرتے ہیں ، اور انہی کا نام حماد بن سائب بھی ہے، اور ابواسامہ اسی نام سے ان سے روایت کرتے ہیں ، اور انہی کی کنیت ابو سعید ہے ، اور اسی کنیت سے عطیه عوفی ان سے روایت کرتے ہیں ، تاکہ لوگوں کو اس شبہ میں ڈالیں ، کہ یہ ابوسعید الخدری ہیں ، اور انہی کی کُنیت ابو ھشام بھی ہے، اور اس کنیت سے قاسم بن الولید ان سے روایت کرتے ہیں۔
تقریب التھذیب میں ان حضرت کے بارہ میں یوں لکھا ہے،
محمد بن سائب بن بشیر الکلبی ابو نضرالکوفی النسابه المفسر متھم باالکذب ورمی باالرفض من السادسه مات سنة ماة وست اربعین۔
ترجمہ؛ محمد بن سائب بن بشیر الکلبی ابوالنضر الکوفی نسبت جاننے والے اور تفسیر لکھنے والے جھوٹ اور رفض سے متھم ہیں ، اس کی وفات سن 146 ھجری میں ہوئی۔
میزان الاعتدال میں ان صاحب کے متعلق یوں لکھاہے، ( عربی کی لمبی عبارت ہے اس لئے صرف ترجمہ پیش کرتا ہوں )
محمد بن سائب کلبی جن کی کنیت ابو النضر ہے ، وہ کوفی ہیں ، اور مفسر اور نسب جاننے والے اخباری ہیں ، امام ثوری ان کی نسبت کہتے ہیں ، کہ کلبی سے بچنا چاہئے ، اس پر کسی نے ان کو کہا ، کہ آپ تو خود ان سے روایت کرتے ہیں ، تو انہوں نے جواب دیا ، میں اس کے جھوٹ کو اس کے سچ سے جدا کرنا جانتا ہوں ، اور امام بخاری نے کہاہے ، کہ یحی اور ابن مھدی نے اس کی روایت قابل ترک بتلائی ہے، اور امام بخاری نے یہ بھی کہا ہے، کہ علی نے یحی سے اور انہوں نے سفیان سے بیان کیا ہے، کہ ابو صالح سے جو میں تم سے بیان کروں ، وہ جھوٹی ہے، اور یزید بن زریع نے کلبی سے روایت کی ہے، کہ وہ عبداللہ بن سبا کے فرقہ کا تھا ، اور ابو معاویہ کہتے ہیں ، کہ اعمش نے کہا ہے، کہ اس سبائیہ فرقہ سے بچنا چاہئے ، کیونکہ وہ کذاب ہوتے ہیں ، اور ابن حبان نے کہا ، کہ کلبی سبائی تھا، یعنی ان لوگوں میں سے جو کہتے ہیں ، کہ علی رضی اللہ عنہ مرے نہیں ، اور پھر وہ دنیا کی طرف رجعت کریں گے، اور اسے انصاف سے اس طرح بھر دیں گے ، جیسے کہ وہ ظلم سے بھری ہوئی تھی ، اور جب بھی وہ بادل کو دیکھتے ، تو کہتے ، کہ امیرالمؤمنین ( علی رضی اللہ عنہ ) اسی میں ہیں ، اور ابو عوانہ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں ، کہ میں نے خود کلبی کو یہ کہتے ہوئے سنا ، کہ جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ ﷺ پر وحی بیان کرتے ، اور ایسا اتفاق ہوتا ، کہ آپ رفع حاجت کے لئے بیت الخلاء تشریف لے جاتے ، تو جبرائیل علیہ السلام ، علی رضی اللہ عنہ پہ اس وحی کو املا کرواتے ( یعنی وحی حضرت علی پہ نازل کی جاتی ) احمد بن زہیر کہتے ہیں ، میں نے امام احمد بن حنبل سے پوچھا ، کہ کلبی کی تفسیر دیکھنا درست ہے؟ انہوں نے کہا نہیں ، اور جوزجانی وغیرہ نے کہا ، کہ کلبی بڑا جھوٹا ہے، اور دارقطنی اور ایک جماعت نے کہا، کہ وہ متروک ہے ، یعنی اس کی روایت لینے کے لائق نہیں ہے، اور ابن حبان کہتے ہیں ، اس کا جھوٹ ایسا ظاھر ہے، کہ بیان کرنے کی حاجت نہیں ، اور ان حضرت کی صفات میں سے ایک صفت یہ بھی بیان کی گئی ہے، کئ وہ تفسیر کو ابو صالح سے اور ابو صالح کی روایت ابن عباس سے بیان کرتےہیں ، حالانکہ نہ ابو صالح نے ابن عباس کو دیکھا ، اور نہ ہی کلبی نے ایک حرف بھی ابو صالح سے سنا ہے، مگر جب بھی ان کو تفسیر میں کچھ بیان کرنے کی حاجت ہوتی ، تو اپنے دل سے نکال لیتے ، ایسے کا ذکر کرنا بھی کتاب میں جائز نہیں ، کجا یہ کہ اس کی سند ( کوئی روایت ) لینا۔
تذکرة الحفاظ ( حفاظ الحدیث کا تذکرہ ) میں امام ذہبی نے ان کے فرزند ارجمند ھشام بن کلبی کا جہاں تذکرہ کیا ہے، وہاں ان کے پدر بزرگوار ” محمد بن سائب کلبی ” کو رافضی لکھا ہے، اور ان کے فرزند ارجمند کو حفاظ الحدیث میں داخل بھی نہیں کیا ،
معجم الادبا میں یاقوت حموی نے جہاں محمد بن جریر طبری کے کتابوں کا تذکرہ کیا ہے، وہاں لکھا ہے، کہ طبری نے غیر معتبر تفسیر اپنی تفسیر کی کتاب میں بیان نہیں کی ، اسی لئے کتاب میں کچھ بھی ” محمد بن سائب کلبی ، مقاتل بن سلیمان ، اور محمد بن عمر واقدی کی کتابوں نہیں لیا، کیونکہ یہ لوگ ان کے نزدیک مشکوکین میں سے ہیں ،
امام محمد طاھر نے ” تذکرة الموضوعات ” میں کلبی صاحب کے بارہ میں فرمایا ہے،
قد قال احمد فی تفسیر الکلبی من اوله الی آخره کذب لایجعل النظر فیه
ترجمہ؛ امام احمد نے تفسیر کلبی کے بارہ میں کہا ہے، کہ تفسیر کلبی اول تا آخر جھوٹ ہے، اس کی طرف نظر بھی نہیں کرنی چاہئے۔
یہ حالت ہے جناب ” ابو سعید ” کی جن کو ابو سعید الخدری ( صحابئی رسول کہ کے پیش کیا جارہا ہے،
عقیدہ کے اعتبار سے پکے سبائی اور رافضی ، اور صداقت ایسی ، کہ جن جن کو زندگی میں کبھی نہ دیکھا ، نہ سنا ، ان سے روایات کرتے ہیں ، اور اپنے آپ کو ان کا شاگرد بنا کے پیش کرتے ہیں ، ان کے اعتبار کی یہ کیفیت ہے، کہ طبری جیسا شخص بھی اپنی تفسیر میں ان سے روایت لینا جائز نہیں سمجھتا ، اور یہی صاحب ہیں ” ہبۂ فدک کی حدیث ” کے گھڑنے والے ، اور اسے پیش کرنے والے ، جسے ان کے شاگرد رشید ” عطیه عوفی الکوفی ” صاحب جو خود بھی شیعہ اور مدلس ہیں ، اپنے مذہبی عقائد کی حمایت میں ان سے روایت کرتے ہیں ، اور ان کے دیگر نام اور کنیتیں چھوڑ کے ” حدثنا ابو سعید ” یا قال ابو سعید ” کہہ کے لوگوں کو اس شبہ میں ڈالتے ہیں ، کہ ابو سعید سے مراد ابو سعید الخدری صحابی ہیں،