رافضیوں کا فرضی امام غائب اصل حقائق بمعہ ثبوت (حصہ اوّل) مولانا علی معاویہ

[بارہویں کا آپریشن]

پارٹ # 1

السلام علیکم دوستو

جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ رافضی خصوصا سیف الاسلام اور ان کے ھم مذھب، سیدنا معاویہؓ کے خلاف پوسٹس چلاتے رہتے ہیں اور ہم ان کے جوابات دیتے رہتے ہیں۔

لیکن اب ہم اعتراض کریں گے اور ان کوجواب دینا ہوگا۔

آج سے میں ان کے امام غائب عرف بارہویں عجل اللہ اجله (اللہ جلدی اس کو ختم کرے) پر اعتراضات کرونگا اور یہ سب مل کر ان اعتراضات کا جواب دیں گے۔

[بارہواں قران کے مطابق کافر]

شیعہ کی معتبر کتاب بحار الانوار جلد 45 صفحہ 295 پر ایک روایت ہے کہ

عن الهروي قال: قلت لابي الحسن الرضا عليه السلام يا ابن رسول الله ما تقول في حديث روي عن الصادق عليه السلام أنه قال: إذ اخرج القائم قتل ذراري قتلة الحسين عليه السلام بفعال آبائها ؟ فقال عليه السلام: هو كذلك فقلت: وقول الله عزوجل ” ولا تزر وازرة وزر اخرى ما معناه ؟ قال: صدق الله في جميع أقواله، ولكن ذراري قتلة الحسين يرضون بفعال آبائهم، ويفتخرون بها، ومن رضي شيئا كان كمن أتاه، ولو أن رجلا قتل بالمشرق فرضي بقتله رجل بالمغرب لكان الراضي عند الله عزوجل شريك القاتل وإنما يقتلهم القائم عليه السلام إذ اخرج لرضاهم بفعل آبائهم

امام علی رضا ؒ سے امام جعفرؒ کی روایت کے بارے میں پوچھا گیا کہ جب قائم (بارہواں) نکلے گا تو حسینؓ کے قاتلوں کی اولادوں کو ان کے آباء کے فعل کی وجہ سے قتل کرے گا،تو امام رضا نے فرمایا کہ ایسا ہی ہے۔ تو راوی نے کہا کہ اللہ کا قول ھے کہ ’’کوئی بھی کسی دوسرے کے گناھ کا بوجھ نہیں اٹھائے گا‘‘ اس کا کیا معنی ہے؟ امام رضا نے فرمایا کہ اللہ کی ہر بات سچ ہے لیکن حسینؓ کے قاتلین کی اولادیں اپنے آباء کے اس فعل سے راضی ہیں اور اس پر فخر کرتے ہیں، اور اگر کوئی کسی چیز سے راضی ہو یہاں تک کہ اگر کسی نے مشرق میں کسی کو قتل کیا اور اس قتل سے مغرب میں بیٹھا شخص راضی ہے تو وہ اللہ کے نزدیک اس قاتل کے ساتھ شریک ہے، تو قائم ان کو اس لئے قتل کریں گے کہ وہ اپنے آباء کے اس کام پر راضی ہیں۔

اب دیکھیں ان کا بارہواں صدیوں بعد قاتلین حسین کے اولادوں کو قتل کرے گا جو قران کے خلاف ہے۔

اللہ سورہ بنی اسرائیل آیت 33 پر فرماتےہیں کہ

وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهِ سُلْطَانًا فَلَا يُسْرِفْ فِي الْقَتْلِ إِنَّهُ كَانَ مَنْصُورًا

جو مظلوما قتل کیا گیا ھم نے اس کے وارث کو اختیار دیا ہے، اور وہ قتل کرنے میں حد سے نہ بڑھے۔

تو اللہ قتل میں حد سے بڑھنے سے منع فرما رہے ہیں لیکن بارہواں صدیوں بعد قاتلین حسین کے اولادوں کو مارے گا جن کی اکثریت شیعہ ھوگی۔ (یعنی اپنے فرضی امام کے ہاتھوں مریں گے یہ مردود)

 اللہ نے سورہ مائدہ آیت 44 پر فرمایا ہے کہ

وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ

جو اللہ کے نازل کردہ احکامات کے مطابق فیصلہ نہیں کرے گا وہ کافروں میں سے ہے۔

تو بارہواں قران کے نازل شدہ حکم کے خلاف فیصلہ کرکے قران کے مطابق کافر ہے۔۔

نوٹ۔

آپ نے بحار الانوار کی روایت میں پڑھا ھوگا کہ امام علی رضاؒ فرما رہے ہیں کہ جو بھی کسی قتل میں راضی ہوا اس کو بھی وہی سزا ملے گی، حالانکہ ان کی طرف شیعوں نے یہ جو جھوٹ منسوب کیا ہے وہ بھی نہ قران سے ثابت ہے اور نہ فرمان رسولﷺ سے کہ جو کسی کے قتل پر راضی ہو اس کو بھی قتل کردو۔

اگر شیعہ اس بات کو صحیح سمجھتے ہیں تو پھر کیا شیعہ مولوی اس بات کی اجازت دینگے کہ ان شیعوں کو بھی سیدنا عمر فاروق ا ور سیدنا عثمانؓ کے قتل پر خوش ہونے کی وجہ سے قتل کیا جائے؟؟

دیکھیں کیا جواب آتا ہے رافضیون کی طرف سے۔