دعوت ذوالعشیرہ حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق کہاں تھے؟

شیعہ اعتراض  

حضرت ابوبکرو عمر نے دعوت ذوالعشیرہ میں وعدہ نصرت کیوں نا فرمایا؟  کیا یہ دونوں دعوت ذوالعشیرہ میں شامل  تھے اگر شامل نا تھے تو رسول ﷺ کے قریبی کیوں کر ہو سکتے ہیں۔

الجواب

شیعہ کا یہ اعتراض بھی ان کے منہ بولتی جہالت کا ثبوت ہے کیونکہ

دعوت ذوالعشیرہ سے تین سال پہلے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اسلام قبول کرچکے تھے

طبری جلد 2 صفحہ 310

اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ دعوت ذوالعشیرہ سے تین سال بعد اسلام قبول کرتے ہیں مگر ان کے قبول اسلام سے اسلام کو بہت زیادہ تقویت ملتی ہے اور اس پر بہت سارے دلائل قائم کیے جا سکتے ہیں۔

 یہ دعوت ذوالعشیرہ  کے متعلق جو روایات مرقوم ہیں وہ صحت کے درجے کو نہیں پہنچتی جو شیعہ حضرات پیش کرتے ہیں اس لئے ان سے ان کا استدلال باطل مردود ہے

مثلا اس لیے کہ نزول آیت کے وقت بنو عبدالمطلب  کی تعداد 40 نہ تھی ، شیعہ کے مستدل روایت کا واضع “عبدالغفار بن قاسم ابو مریم کوفی” ہے،  شیعہ کی کتب اسماء الرجال میں اس کا تذکرہ موجود ہے۔( تنقیح المقال جلد 2 صفحہ 258)

امام ذہبی اس کے متعلق لکھتے ہیں کہ یہ غیر ثقہ اور رافضی تھا۔

ابن مدینی نے کہا ہے کہ یہ حدیثیں گھڑتا تھا۔

امام بخاری نے کہا ہے کہ محدثین کے نزدیک قوی نہیں تھا ۔

امام نسائی اور ابو حاتم نے اس کو متروک الحدیث کہا ہے امام احمد نے بھی اس پر جرح کی ہے (میزان الاعتدال جلد 2 صفحہ 640)

امام ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے مذکورہ بالا جرح اور ائمہ محدثین کی سخت جرح نقل کی ہے ۔ (لسان  المیزان 4/42)

اس طرح کے کذاب وضاع کی روایت سے استدلال سے شیعہ اپنی حقانیت ثابت کرسکتے ہیں ورنہ بسند صحیح روایت تو شیعہ مذہب باطل ہی ثابت ہوتا ہے پھر اس روایت سے۔۔۔

شیعہ کا نظریہ ایمان ابوطالب بھی غلط ثابت ہوگیا اس لیے کے بنو عبدالمطلب میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی نے حمایت نہ کی شیعہ کے اس روایت سے استدلال سے حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی قدیم الاسلام ثابت نہیں ہوسکتے بلکہ تیسرے سال اظہار اسلام کرتے ہیں!!!

جب کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام پہلے ماہ میں ہی  شیعہ کو مسلم ہے

اعلام الوریٰ صفحہ 501

پھر شیعہ کا یہ کہنا کہ یہ بزرگ اس دعوت میں شریک  نہ ہوئے تو وہ رسول ﷺ کے قریبی رشتہ دار کیسے ہو سکتے ہیں باطل و مردود ہے اس لیے قرابت نبوی ایمان کے ساتھ  باعث فضیلت ہے، اور بنو عبدالمطلب کے علاوہ اسلام قبول کرنے والے بھی رسول ﷺ کے قرابت دار ہوئے کہ رسول ﷺ کے متبع اور فرمابردارتھے،  مگر ابولہب عتبہ وغیرہ قبول اسلام نا کرنے کی وجہ سے نسل ابراہیم وخاندان ہونے کے باوجود قرابت دار نا رہے اس کو خود حضرت علی رضی اللہ انہوں نے اپنے خطبے میں بیان فرمایا ہے

نہج البلاغہ میں موجود ہے ۔۔۔

حضرت محمد ﷺ کے قریبی وہ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں اگرچہ خونی رشتے سے دور ہو اور حضرت محمد ﷺ کے دشمن وہ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے نافرمان ہو اگر چہ ان کا رشتہ قریبی ہو۔

پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قرابت کا انکار تو کوئی خارجی ہی کر سکتا ہے اور سیدنا صدیق و فاروق رضی اللہ عنہم کے خسر ہونے کے باوجود ان کے قرابت داری کا انکار کرنے والا کوئی شیعہ خبیث ہی ہو سکتا ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فرمان ماقبل میں جو ذکر ہوا ہے اسے خود ہی شیعہ کو نتیجہ اخذ  کرلینا چاہیے

دعوت ذوالعشیرہ حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق کہاں تھے؟” ایک تبصرہ

تبصرے بند ہیں