ذوالجناح گھوڑے کی حقیقت

شیعہ کے بڑے ذاکرین نے اپنے کم عقل و کم فہم اور جاہل قسم کے لوگوں کو “ذوالجناح” کی جھوٹی داستانیں سنا کر گھوڑے کی پوجا پر لا ڈالا ہے – ان کا یہ عمل گزری ہوئی مشرک قوموں …….اور مشرکین مکہ سے بلکل مشابہ ہے بلکہ یہ کہنا بجا نہ ہو گا کہ ان سے بھی بدتر!

اور وہ اپنی عبادت گاہوں میں ان کے گھوڑوں کے جھوٹے فضائل بھی بتاتے ہیں اور لوگوں کو پرلے درجے کی گمراہی میں لا ڈالتے ہیں – ان کی یہ قبیح حرکت تو آپ نے دیکھی ہی ہو گی کہ کس طرح ان کی خلقت اس “بناوٹی ذوالجناح” پر ٹوٹ پڑتی ہیں کوئی اسے چومتا ہے تو کوئی اسکے منہ کی رال کو تبرک جانتا ہے اور یاد رہے کہ مرد اور عورتیں دونوں مخلوط طریقے سے اس “طریقے” کو انجام دیتے ہیں –

حقیقت تو یہ ہے کہ حسین رضی اللہ عنہ کا سارا سفر ایک اونٹنی پر تھا اور نہ ہی میدان کربلا میں آپکے پاس کوئی گھوڑا یا ذوالجناح تھا اور نہ ہی راستے میں یا میدان کربلا میں آپکو کسی نے گھوڑے دئیے – ملاحظہ ہو شیعہ کے سب سے بڑے مؤرخ صاحبِ ناسخ التواریخ کا

ملا حسین کاشفی لکھتا ہے کہ امام حسین کی شہادت کے بعد آپ کا گھوڑا ذوالجناح بے قرار ہو کر چاروں طرف بھاگنے لگا پھر کچھ دیر بعد واپس آ کر اس نے اپنی پیشانی کے بال خون سے تر کیے اور اپنی آنکھوں سے آنسو بہاتا ہوا خیمے کی طرف لوٹ آیا۔

جب اہل بیت نے دیکھا تو انھوں نے فریاد کرتے ہوئے گھوڑے سے فرمایا کہ اے ذوالجناح تو نے امام کے ساتھ کیا کیا؟ تو انھیں ساتھ لے کر گیا تھا واپس کیوں نہیں لایا؟ آخر تو کس دل کے ساتھ انھیں دشمنوں کے بیچ چھوڑ آیا ہے؟

اہل بیت نوحہ کر رہے تھے اور ذوالجناح گردن جھکائے رو رہا تھا اور اپنے چہرے کو امام زین العابدین کے پاؤں پر مل رہا تھا۔ پھر اس گھوڑے نے زمین پر سر مارا اور اپنی جان دے دی اور ایک روایت یہ ہے کہ وہ گھوڑا صحرا کی طرف نکل گیا اور کسی شخص کو اس کا نشان نہ مل سکا۔

(روضۃ الشھداء، ج2، ص361)

یہ فرضی اور من گھڑت قصہ ملا حسین کاشفی نے شیعوں کی کتاب سے نقل کیا ہے۔ کسی معتبر کتاب میں اس کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ ایسے واقعات گھڑنے کا صرف ایک مقصد ہے اور وہ ہے نوحہ خوانی کو فروغ دینا۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ امام حسین نے کربلا تک اونٹنی پر سفر کیا تو پھر یہ گھوڑا کہاں سے آ گیا؟

امام سیوطی اور شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمھما اللہ لکھتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک مقام پر فرمایا کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں ان (شہیدان کربلا) کے اونٹ بیٹھیں گے اور ان کے کجاووں کی جگہ یہ ہے اور اس جگہ ان کا خون گرایا جائے گا۔

(ملخصاً: خصائص کبری، سر الشھادتین، دلائل النبوۃ)

حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک جگہ کی نشان دہی کرتے ہوئے فرمایا کہ یہاں ان کے اونٹ بیٹھیں گے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ کربلا میں امام حسین کے پاس گھوڑے نہیں تھے۔

کچھ شیعوں نے لکھا ہے کہ جب امام حسین روانہ ہونے لگے تو آپ کے بھائی محمد بن حنفیہ نے آپ کو روکنے کے لیے آپ کی اونٹنی کی نکیل پکڑ لی۔ (یعنی آپ اونٹنی پر سوار تھے)

(ذبح عظیم، ص165 بہ حوالہ مقتل ابی مخنف)

تاریخ طبری میں ہے کہ راستے میں امام حسین نے فرزدق شاعر سے باتیں کی اور پھر اپنی سواری (اونٹنی) کو حرکت دی اور چل پڑے۔

(تاریخ طبری، ج6، ص218)

کچھ کتابوں میں امام حسین کا یہ قول موجود ہے کہ آپ نے فرمایا: یہ کربلا مصائب کی جگہ ہے، یہ ہماری اونٹنیوں کے بیٹھنے کی جگہ ہے، یہ ہمارے کجاوے رکھنے کی جگہ ہے اور یہ ہمارے مردوں کی شہادت گاہ ہے۔

(کشف الغمه، ج2، ص347۔ مناقب ابن شھر آشوب، ج4، ص97۔ الاخبار الطوال، ص353)

ایک شیعہ لکھتا ہے کہ امام حسین نے خطاب فرمایا پھر اپنی اونٹنی بٹھائی۔

(مقتل ابی مخنف، ص55)

شیعوں کی ایک بڑی کتاب “بحار الانوار” میں بھی یہ موجود ہے۔

(بحار الانوار، ج44، ص383)

بحار الانوار میں یہ بھی ہے کہ محمد بن حنفیہ نے امام حسین کو روکنے کے لیے اونٹنی کی نکیل پکڑ لی۔

(ایضاً، ص364)

ان کے علاوہ اور بھی کچھ کتب میں اونٹنیوں کا ہی ذکر ہے۔

(تاریخ روضۃ الصفاء، ج3، ص579۔

تفسیر لوامع التنزيل، ج13، ص91)

الکامل میں ہے کہ امام حسین اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے اور بلند آواز سے آواز دی جسے سب لوگوں نے سنا۔

(الکامل فی التاریخ، ج4، ص61)

ایک شیعہ لکھتا ہے کہ میں نے یہ ذوالجناح کا نام حدیث، اخبار اور تاریخ کی کسی معتبر کتاب میں نہیں دیکھا۔

(ناسخ التواریخ، ج6، ص344)

پس اسپ بر انگیخت وتیغ بر آہیخت مکشوف باد کہ اسپ سید الشہداء راکہ ور کتب معتبرہ را بنام نوشتہ انداز افزوں از دو مال سواری نیست یکے اسپ رسول خدا کہ مرتجز نام داشت و دیگرے شترے کہ مسّناة می نا مید ندو اسپ کہ ذوالجناح نام داشتہ باشد در ہیچک از کتب احادیث و اخبار و تواریخ معتبرہ من بندہ ندیدہ ام و ذوالجناح لقب شمر پسر لہیعہ حمیر یست واسپ ہیچ کس را بدیں نام نہ شیندہ ام – واگر اسپ چند کس راجناح نام بودہ بعد مربوط بہ ذوالجناح و منسوب بحسین نخواہد بودو اگر اسپ ہائے پیغمبر صلی الله علیہ وسلم راجناح نامید ند باز نشاید ذوالجناح گفت درہر حال بدیں نام اسپ نام دار نہ بوده –

(ناسخ التواریخ ، جز ٢ ، جلد ٦ ، در احوال حضرت سید الشہداء ، صفحہ ٣٦٦ ، شمارہ مرکب ہائے حسین ، مطبوعہ تہران)

ترجمہ : پھر گھوڑا کودا اور آپ نے تلوار کھینچ لی واضح ہو کہ سید الشہداء (حسین رضی الله عنہ) کی سواری معتبر کتابوں میں دو نام سے مذکور ہے – ایک گھوڑا نبی صلی الله علیہ وسلم کا تھا جس کا نام مرتجز تھا – دوسری سواری اونٹ تھی – جس کو مسّناة کہتے تھے – اور گھوڑا کہ جسے ذوالجناح کا نام دیا گیا ہے – حدیث ، اخبار اور تاریخ کی کسی معتبر کتاب میں میں نے اس کا نام نہیں دیکھا – اور ذوالجناح ایک شخص شمر بن لھیعہ کا لقب تھا – اور کسی کے گھوڑے کا یہ نام میں نے نہیں سنا – اور اگر چند گھوڑوں کے نام ذوالجناح ہوں – اور اس کے ساتھ “ذو” کا لفظ جوڑ کر ذوالجناح بنایا جائے – تو بھی یہ گھوڑا حسین کا نہیں ہو سکتا – اور اگر پیغمبر صلی الله علیہ وسلم کے گھوڑوں کا جناح رکھیں – پھر بھی ذوالجناح کہنا غلط ہے – بہرحال اس نام کا گھوڑا کوئی نہ تھا –

حسین رضی الله عنہ کربلا کے بارے میں کہتے ہیں کہ:

فقال (عليه السلام) : هذه كربلاء موضع كرب و بلاء هذا مناخ ركابنا و محط رحالنا و مقتل رجالنا

ترجمہ : حسین رضی الله عنہ نے فرمایا: یہ کربلا مصائب کی جگہ ہے – یہ ہماری اونٹنیوں کے بیٹھنے کی جگہ ہے – اور یہ ہمارے کجاوے رکھنے کی جگہ ہے – اور یہ ہمارے مردوں کی شہادت گاہیں ہیں –

(کشف الغمہ ، جلد ٢ ، صفحہ ٢٥٧)

حسین رضی الله عنہ کے پاس اونٹنی تھی اسی لئے فرمایا کہ یہ ہماری اونٹنیوں کے بیٹھنے کی جگہ ہے اگر گھوڑے ہوتے تو اونٹنی کیوں کر کہتے؟ پھر تو کہتے کہ یہ ہمارے گھوڑوں کے بیٹھنے کی جگہ ہے –

ان تمام حوالہ جات سے ثابت ہوتا ہے کہ امام حسین کے پاس گھوڑے نہیں تھے لیکن کچھ لوگ نہ جانے کہاں سے گھوڑے لے آتے ہیں۔ ویسے جو لوگ امام زین العابدین کی ملاقات حضرت عبداللہ بن مبارک سے کروا سکتے ہیں، میدان کربلا میں شادی کروا سکتے ہیں، ان کے لیے اونٹوں کو بھگا کر گھوڑے لانا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔