دلیل 9 القرآن: صحابہ المتھدون (ہدایت یافتہ)

(9) الْمُهْتَدُونَ (ہدایت یافتہ) :

وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ (155)

اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کریں گے، دشمن کے ڈر سے، بھوک پیاس سے، مال و جان اور پھلوں کی کمی سے اور ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجئے۔

الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ (156)

جنہیں جب کوئی مصیبت آتی ہے تو کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم تو خود اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔

أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ (157)

ان پر ان کے رب کی نوازشیں اور رحمتیں ہیں اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔

أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ (157)
یہ وہ لوگ ہیں جن پر ان کے پروردگار کی طرف سے خصوصی عنایتیں ہیں، اور رحمت ہے اور یہی لوگ ہیں جو ہدایت پر ہیں۔

سیقول سورہ البقرة 

تشریح:

  مصائب پر صبر کرنے والوں اور بلاؤں پر استرجاع فرمانے والوں کی بڑی شان ہے اور (یہی لوگ ہیں جن پر بار بار) مسلسل بہ کثرت (درود) مخصوص رحمت ورافت اور تحسین وآفرین (ہے ان کے پروردگار کی طرف سے اور رحمت) خاص لطف و احسان (ہے اور یہی) وہ خوش بخت اور سعادت مند لوگ ہیں جو (ہیں ہدایت یافتہ) ۔
ان نیک بختوں کو صبر وشکر کے بدلے میں صلوٰۃ ورحمت کی شکل میں کیا ہی اچھا بدلہ عطا فرمایا گیا۔ اور اس پر مستزادیہ کہ ان کے ہدایت یافتہ ہونے کی سند بھی عطا فرمادی ۔

اب اگر ایک طرف یہ درود کی شکل میں آخرت کی جمیع برکات و عنایات ان کیلئے ہیں ، تو دوسری طرف مخصوص رحمت کی صورت میں دنیا کے نقصانات سے حفاظت بھی ان کے لیے ہے۔
ایمان والوں پر اللہ تعالیٰ کس قدر کرم پر کرم فرماتا جارہا ہے کہ تحویل قبلہ کے تعلق سے مخالفین کے طعن وتشنیع سے مسلمانوں کو اذیت پہنچی تھی ، صبر کی ہدایت دے کر اور اس کے ثمرات کو بیان فرما کے ساری تکلیفوں کو راحت سے بدل دیا اور پھر حج وعمرہ کا ذکر شروع فرمادیا ، تاکہ کعبہ کو اپنی نمازوں میں قبلہ بنانے والے حج وعمرہ کے وسیلے سے کعبہ کی زیارت کا شرف بھی حاصل کرلیں ۔ ویسے بھی صبر میں نفس کو مشقت اٹھانی پڑتی ہے اور حج وعمرہ میں بھی جسم کو مشقت جھیلنی پڑتی ہے۔