دلیل 4 القرآن: صحابہ کرام المخلصین (وفادار)

(4) الْمُخْلَصِينَ (وفادار) :

إِلَّا عِبَادَ اللَّهِ الْمُخْلَصِينَ (40) أُولَئِكَ لَهُمْ رِزْقٌ مَعْلُومٌ (41) فَوَاكِهُ وَهُمْ مُكْرَمُونَ (42) فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ (43) عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ (44) يُطَافُ عَلَيْهِمْ بِكَأْسٍ مِنْ مَعِينٍ (45) بَيْضَاءَ لَذَّةٍ لِلشَّارِبِينَ (46) لَا فِيهَا غَوْلٌ وَلَا هُمْ عَنْهَا يُنْزَفُونَ (47) وَعِنْدَهُمْ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ عِينٌ (48) كَأَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَكْنُونٌ (الصافات:49)
البتہ جو اللہ کے مخلص بندے ہیں۔  ان کے لیے طے شدہ رزق ہے۔  میوے ہیں، ان کی پوری پوری عزت ہوگی۔  اور نعمت بھرے باغات میں۔  وہ اونچی نشستوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہونگے۔  ایسی لطیف شراب کے جام ان کے لیے گردش میں آئیں گے۔  جو سفید رنگ کی ہوگی، پینے والوں کے لیے سراپا لذت۔  نہ اس سے سر میں خمار ہوگا اور نہ ان کی عقل بہکے گی۔  اور ان کے پاس وہ بڑی بڑی آنکھوں والی خواتین ہونگی جن کی نگاہیں (اپنے شوہروں پر) مرکوز ہوں گی۔ (٩)  (ان کا بےداغ وجود) ایسا لگے گا جیسے وہ (گرد و غبار سے) چھپا کر رکھے ہوئے انڈے ہوں۔

تشریح:
(٩) یہ حوریں ہوں گی جو اپنے شوہروں کے سوا کسی اور کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھیں گی۔ اور اس آیت کا ایک مطلب بعض مفسرین نے یہ بتایا ہے کہ وہ اپنے شوہروں کی نگاہوں میں اتنی حسین ہوں گی کہ وہ ان کو دوسری عورتوں کی طرف مائل نہیں ہونے دیں گی۔

  الا عباد اللہ المخلصمین  ” مگر اللہ تعالیٰ کے  برگزیدہ بندے “ بیشک وہ درد ناک عذاب کا مزا نہیں چکھیں گے کیونکہ انہوں نے اپنے اعمال کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کیا۔

پس اللہ تعالیٰ نے بھی ان کو اپنے لیے خالص کرلیا ان کو اپنی رحمت کے لیے مختص کیا اور انہیں اپنے لطف و کرم سے نوازا

 اولئک لھم رزق معلوم  ” یہی لوگ ہیں جن کے لیے رزق معلوم ہے۔ ‘ یعنی یہ غیر مجہول رزق ہوگا۔ یہ رزق بہت عظیم اور جلیل القدر ہوگا، جس کے معاملے سے جاہل رہا جاسکتا ہے نہ اس کی کنہ کو پہنچا جاسکتا ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا : فواکہ  یعنی تمام اقسام کہ پھل ہونگے، جن سے نفس لذت حاصل کریں گے، جو اپنے رنگ اور ذائقے میں نہایت مزے دار ہوں گے۔

 وھم مکرومون  یعنی ان کی اہانت کی جائے گی نہ ان سے حقارت سے پیش آیا جائے گا بلکہ ان کی عزت، تعظیم اور توقیر کی جائے گی۔ وہ ایک دوسرے کی تکریم کریں گے، مکرم فرشتے ان کی تکریم کریں گے، وہ جنت کے ہر دروازے سے داخل ہوں گے اور بہترین ثواب کے ذریعے سے ان کو خوش آمدید کہا جائے گا۔ سب سے معزز اور باوقار ہستی انہیں اکرام بخشے گی اور انہیں انواع و اقسام کی تکریم سے نوازے گی جس میں قلب و روح اور بدن کے لیے نعمت ہوگی۔

 فی جنت النعیم  ” نعمت کے باغوں میں “ یعنی وہ جنتیں جو نعمت اور سرور سے متصف ہیں، کیونکہ ان جنتوں میں ایسی ایسی نعمتیں جمع ہیں جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے حاشیہ میں ان کا گزر ہوا ہے۔ وہ خلل انداز ہونے والے ہر قسم کے تکدر سے سلامت ہونگے۔

 ان کے رب کے ہاں ان کی سب سے بڑی تکریم یہ ہوگی کہ وہ ایک دوسرے کا اکرام کریں گے۔

بیشک وہ   سرر  ” تختوں “ پر ہونگے۔ یہ بلند بیٹھنے کی جگہیں ہوں گی جو خوبصورت اور منقش کپڑوں سے آراستہ کی گئی ہوں گی، اہل ایمان راحت، اطمینان اور فرحت کے ساتھ  وہاں تکیے لگا کر بیٹھیں گے۔

 متقبلین  ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہونگے۔ “ ان کے دل ہر قسم کی کدورت سے پاک ہوں گے ان کی آپس کی محبت پاک ہوگی اور وہ اس اجتماع پر آپس میں خوش ہوں گے کیونکہ چہروں کا ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہونا، دلوں کے ایک دوسرے کے سامنے ہونے اور ایک دوسرے کا ادب کرنے پر دلالت کرتا ہے۔ وہ ایک دوسرے سے پیٹھ پھیریں گے نہ پہلو تہی کریں گے بلکہ وہاں کامل ادب اور سرور ہوگا جس پر چہروں کا ایک دوسرے کے سامنے ہونا دلالت کرتا ہے۔

  یطاف علیھم بکاس من معین  چاق چوبند اور مستعد لڑکے ان کی خدمت میں خوبصورت جاموں میں مشک کے ساتھ مہر شدید لذیذ مشروبات لیے آجا رہے ہونگے، یہ جام، شراب کے ہونگے۔

یہ شراب ہر لحاظ سے دنیا کی شراب سے مختلف ہوگی۔ اس کا رنگ  بیضآء  ” سفید ‘ اور بہترین رنگ  ہوگا۔

اس کے ذائقے میں  لذۃ للمشربین  ” پینے والوں کے لیے لذت ہوگی۔ “ اہل جنت پیتے وقت اور پینے کے بعد لذت محسوس کریں گے۔ یہ شراب ہر قسم کے برے اثرات سے پاک ہوگی اس سے ان کی عقل خرابہو گی نہ مال خراب ہوگا اور اس سے سر چکرائے گا نہ طبیعت مکدر ہوگی۔

 اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل جنت کے مطعومات و مشروبات، ان کی مجالس، دیگر عام نعمتوں اور ان کی تفاصیل کا ذکر فرمایا جو اللہ تعالیٰ کے ارشاد (جنت النعیم) کے عموم کے تحت آتی ہیں۔ ان کی تفصیل اس لیے بیان فرمائی تاکہ نفوس کو ان کا علم حاصل ہوا اور ان کے اندران نعمتوں کا اشتیاق پیدا ہو۔

اس کے بعد ان کی بیویوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :

 وعندھم قصرت الطرف عین  ” اور ان کے پاس عورتیں ہوں گی جو نیچی نگاہوں والی اور موٹی آنکھوں والی ہوں گی۔ “ یعنی اہل جنت کے پاس ان کے قریبی محلات میں خوبصورت حوریں ہوں گی، جو کامل اوصاف کی حامل اور نظریں جھکائے ہوئے ہوں گی۔ بیویاں یا تو اپنی عفت اور اپنے شوہر کے حسن و جمال اور اس کے کمال کی وجہ سے کسی اور طرف نہ دیکھیں گی اس لیے کہ جنت میں ان کے شوہر کے سوا ان کا کوئی اور مطلوب ہوگا نہ کسی اور میں رغبت رکھیں گی یا ان کے شوہروں کی نگاہیں صرف انہی پر مرتکز ہوں گی۔ یہ چیز ان کے کامل اور بےانتہا حسن و جمال پر دلالت کرتی ہے جو اس بات کی موجب ہیں کہ ان کے شوہروں کی نگاہیں انھی پر مرتکز رہیں، نیز نگاہوں کا ان پر مرکوز ہونا، نفس کے صرف انھی پر اقتصار کرنے اور ان کے ساتھ محبت پر دلالت کرتا ہے۔

 آیت کریمہ میں ان دونوں معنوں کا احتمال ہے اور دونوں صحیح ہیں۔ دونوں معنی جنت میں مردوں اور عورتوں کے حسن و جمال اور ان کی ایسی باہمی محبت پر دلالت کرتے ہیں جس میں غیر کی محبت کا شائبہ نہیں ہوتا۔ یہ اہل جنت کی عفت کی دلیل ہے، نیز اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اہل جنت میں باہمی بغض اور حسد نہیں ہوگا کیونکہ اس کے تمام اسباب ختم کردیئے جائیں گے۔

  عین  یعنی وہ خوبصورت آنکھوں اور خوبصورت نگاہوں والی ہوں گی۔

 کانھن  ” گویا کہ وہ “ یعنی حوریں (بیض مکنون) ” چھپائے ہوئے انڈے ہیں “ یہ تشبیہ ان کے حسن، ان کے رنگ کی بےانتہا خوبصورتی اور اس کی تازگی کی بنا پر دی گئی ہے، اس میں کسی قسم کی کدورت اور میلا پن نہ ہوگا۔