دلیل 3 القرآن :صحابہ کرام السابقون (پہل لے جانے والے)

  السابقون (پہل لے جانے والے) :

وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ (10) أُولَئِكَ الْمُقَرَّبُونَ (11) فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ (12) ثُلَّةٌ مِنَ الْأَوَّلِينَ (13) وَقَلِيلٌ مِنَ الْآخِرِينَ (الواقعہ:14)
اور جو سبقت لے جانے والے ہیں، وہ تو ہیں ہی سبقت لے جانے والے (٤)  وہی ہیں جو اللہ کے خاص مقرب بندے ہیں۔  وہ نعمتوں کے باغات میں ہونگے۔  شروع کے لوگوں میں سے بہت سے۔  اور بعد کے لوگوں میں سے تھوڑے۔ (٥)

تشریح:
‎(٤) اس سے مراد انبیاء کرام اور وہ اعلی درجے کے پاکباز حضرات ہیں جنہوں نے تقوی کا سب سے اونچا مقام پایا ہوگا۔
(٥) یعنی اس اعلی درجے کے لوگوں میں اکثریت قدیم زمانے کے انبیاء کرام وغیرہ کی ہوگی اور بعد کے زمانوں میں بھی اگرچہ اس درجے کے لوگ ہوں گے مگر کم۔

 سابقین اولین کون سے حضرات ہیں ؟

 سابقین کے بارے میں فرمایا ﴿ وَ السّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَ ٠٠١٠ اُولٰٓىِٕكَ الْمُقَرَّبُوْنَ ٠٠١١﴾

(اور آگے بڑھنے والے وہ آگے بڑھنے والے ہیں وہ خاص قرب رکھنے والے ہیں) ۔

 جن حضرات کو سابقین کا لقب دیا اس سبقت سے کون سی سبقت مراد ہیں ؟ اس بارے میں متعدد اقوال ہیں۔

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ اس سے وہ حضرات مراد ہیں جنہوں نے ہجرت کی طرف سبقت کی.

حضرت عکرمہ (رض) نے فرمایا کہ اس سے اسلام قبول کرنے کی طرف سبقت کرنے والے مراد ہیں.

حضرت ابن سیرین (رح) نے فرمایا کہ اس سے وہ حضرات مراد ہیں جنہوں نے قبلتین کی طرف نماز پڑھی۔

 حضرت ربیع بن انس (رض) نے فرمایا کہ اس سے وہ حضرات مراد ہیں جنہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشادات پر عمل کرنے میں سبقت کی.

 حضرت علی (رض) نے فرمایا جو حضرات پانچوں نمازوں کی طرف سبقت کرتے ہیں۔ السابقون سے وہ حضرات مراد ہیں.

 حضرت سعید بن جبیر (رض) نے فرمایا جو حضرات توبہ کی طرف اور نیک اعمال کی طرف سبقت کرتے ہیں وہ حضرات سابقون ہیں، اللہ تعالیٰ شانہ نے ارشاد فرمایا ﴿ سَابِقُوْا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ ﴾ اور فرمایا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ يُسٰرِعُوْنَ فِي الْخَيْرٰتِ وَ هُمْ لَهَا سٰبِقُوْنَ ٠٠٦١﴾

مذکورہ بالا اقوال میں کوئی تعارض نہیں ہے سب سے زیادہ جامع قول حضرت سعید بن جبیر (رض) کا ہے جو دیگر اقوال کو بھی شامل ہے۔