دلیل 21 القرآن: صحابہ پاکباز (شان سیدہ عائشہ صدیقہ)

(21) پاکباز:

اَلْخَبِيْثٰتُ لِلْخَبِيْثِيْنَ وَالْخَبِيْثُوْنَ لِلْخَبِيْثٰتِ  ۚ  وَالطَّيِّبَاتُ لِلطَّيِّبِينَ وَالطَّيِّبُونَ لِلطَّيِّبَاتِ أُولَئِكَ مُبَرَّءُونَ مِمَّا يَقُولُونَ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ (النور:26)
گندی عورتیں گندے مردوں کے لائق ہیں، اور گندے مرد گندی عورتوں کے لائق۔ اور پاکباز عورتیں پاکباز مردوں کے لائق ہیں، اور پاکباز مرد پاکباز عورتوں کے لائق (١٤) ۔ یہ (پاکباز مرد اور عورتیں) ان باتوں سے بالکل مبرا ہیں جو یہ لوگ بنا رہے ہیں۔ ان (پاکبازوں) کے حصے میں تو مغفرت ہے اور باعزت رزق۔

(١٤) اشارہ فرما دیا گیا کہ اس کائنات میں نبی کریم ﷺ سے زیادہ پاکباز شخصیت کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، چنانچہ اس اصول کے تحت یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کی زوجیت میں کسی ایسی خاتون کو لائے جو (معاذ اللہ) پاکباز نہ ہو، کوئی شخص اسی بات پر غور کرلیتا تو اس پر اس تہمت کی حقیقت واضح ہوجاتی۔

 بھلی بات کے حق دار بھلے لوگ ہی ہیں

ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ  بری بات برے لوگوں کے لیے ہے۔ بھلی بات کے حقدار بھلے لوگ ہوتے ہیں۔

یعنی اہل نفاق نے صدیقہ پر جو تہمت باندھی اور ان کی شان میں جو بد الفاظی کی اس کے لائق وہی ہیں اس لیے کہ وہی بد ہیں اور خبیث ہیں۔

صدیقہ (رض) چونکہ پاک ہیں اس لیے وہ پاک کلموں کے لائق ہیں وہ ناپاک بہتان سے بری ہیں۔

یہ آیت بھی حضرت عائشہ  صدیقہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ آیت کا صاف مطلب یہ ہے کہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو ہر طرح سے طیب ہیں، ناممکن ہے کہ ان کے نکاح میں اللہ کسی ایسی عورت کو دے جو خبیثہ ہو۔

خبیثہ عورتیں تو خبیث مردوں کے لیے ہوتی ہیں۔ اسی لیے فرمایا کہ یہ لوگ ان تمام تہمتوں سے پاک ہیں جو دشمنان اللہ باندھ رہے ہیں۔

انہیں ان کی بدکلامیوں سے جو رنج و ایذاء پہنچی وہ بھی ان کے لیے باعث مغفرت گناہ بن جائے گی۔ اور یہ چونکہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیوی ہیں، جنت عدن میں بھی آپ کے ساتھ ہی رہیں گی۔

ایک مرتبہ اسیر بن جابر حضرت عبداللہ کے پاس آکر کہنے لگے آج تو میں نے ولید بن عقبہ سے ایک نہایت ہی عمدہ بات سنی تو حضرت عبداللہ نے فرمایا ٹھیک ہے۔ مومن کے دل میں پاک بات اترتی ہے اور وہ اس کے سینے میں آجاتی ہے پھر وہ اسے زبان سے بیان کرتا ہے، وہ بات چونکہ بھلی ہوتی ہے، بھلے سننے والے اسے اپنے دل میں بٹھالیتے ہیں اور اسی طرح بری بات برے لوگوں کے دلوں سے سینوں تک اور وہاں سے زبانوں تک آتی ہے، برے لوگ اسے سنتے ہیں اور اپنے دل میں بٹھالیتے ہیں۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔

مسند احمد میں حدیث ہے کہ جو شخص بہت سی باتیں سنے، پھر ان میں جو سب سے خراب ہو اسے بیان کرے، اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص کسی بکریوں والے سے ایک بکری مانگے وہ اسے کہے کہ جا اس ریوڑ میں سے تجھے جو پسند ہو لے لے۔ یہ جائے اور ریوڑ کے کتے کا کان پکڑ کرلے جائے اور حدیث میں ہے حکمت کا کلمہ مومن کی گم گشتہ دولت ہے جہاں سے پائے لے لے۔

خبیث مرد اور عورتیں

(خبیثت : خبیث عورتیں ۔ ناپاک عورتیں ۔ گندی عورتیں) ۔ (مبرءون : بری کئے ہوئے ۔ پاک کئے ہوئے ۔ تبرئۃ سے اسم مفعول) ۔
بدکار اور گندی عورتیں ، بدکار اور گندے مردوں کے پاس رہتی ہیں اور پاک باز اور ستھری عورتیں پاک باز مردوں کے پاس رہتی ہیں ۔

بعض مفسرین کے نزدیک الخبیثت اور الطیبت سے یہاں عورتیں مراد نہیں بلکہ اقوال و کلمات مراد ہیں ، سو آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ گندی اور توہین آمیز باتیں گندوں کے لائق ہیں اور پاکیزہ باتیں پاکیزہ لوگوں کے لائق ہیں پاکباز اور صاف ستھرے مرد اور عورتیں ایسی گندی تہمتوں سے بری ہوتے ہیں ۔

۔حضرت عائشہ (رض) اور ان جیسے لوگ ، بہتان طرازوں کی ان بےہودہ باتوں سے پاک اور بری ہیں ۔ ان ہی لوگوں کے لیے گناہوں کی مغفرت اور بزرگی والا رزق ہے
بیضاوی نے لکھا ہے کہ اگر پورے قرآن میں تلاش کیا جائے تو کسی کے لیے بھی اتنی سخت وعید نازل نہیں ہوئی جتنی حضرت عائشہ (رض) پر تہمت تراشنے والوں کے حق میں نازل ہوئی ۔
بیضاوی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چار شخصوں کو چار کے ذریعے سے پاکی (تہمت سے برات) عنایت کی ۔
(١) ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو زلیخا کے ایک گھر والے (بچے) کی شہادت کی وجہ سے ۔
(٢) ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہودیوں کی تہمت سے اس پتھر کے ذریعے جو ان کے کپڑے لے بھاگا تھا ۔
(٣) ۔ حضرت مریم (علیہ السلام) کو اپنے بچے (حضرت عیسیٰ (علیہ السلام)) کی شہادت کی وجہ سے ۔
(٤) ۔ حضرت عائشہ (رض) کو ان مذکورہ آیات کریمہ کے ذریعہ اور مختلف پرزور طریقوں سے ۔
حضرت عائشہ (رض) کی پاک دامنی کا اظہار اتنی موکد عبارتوں میں محض منصب رسول کی عظمت کو بیان کرنے اور آپ کے مرتبے کو بالا و اعلیٰ بنانے کے لیے کیا گیا ہے ۔ (بیضاوی ٣٨٠) ۔

   طبرانی میں حکم بن عتبہ کی روایت سے جس کی سند صحیح ہے ‘ حضرت عائشہ (رض) کے قصہ کے شروع سے یہاں تک پندرہ آیتوں کی شان نزول جو بیان کی گئی ہے ‘ اس کا حاصل یہ ہے کہ جب لوگوں نے حضرت عائشہ (رض) پر بہتان باندھا ‘ تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عائشہ (رض) سے فرمایا کہ تمہارے حق میں لوگ جو کچھ کہتے ہیں اگر تمہارے پاس اس بہتان کے جھٹلانے کا کوئی عذر ہو تو تم بھی اپنا وہ عذر بیان کرو حضرت عائشہ (رض) نے جواب دیا کہ میں سچی ہوں ‘ اس لیے مجھ کو توقع ہے کہ اللہ تعالیٰ میری برأت کا کوئی عذر آسمان سے نازل فرما دے گا اس پر اللہ تعالیٰ نے شروع قصہ سے یہاں تک یہ پندرہ آیتیں نازل فرمائیں۔

دشمن حضرت عائشہ (رض) کا حکم :

علمائے اسلام نے متفق ہو کر یہ بات کہی ہے کہ اتنی بڑی برأت کے بعد جو فرقہ حضرت عائشہ (رض) کو اب بھی عیب لگاتا ہے وہ قرآن شریف کا منکر فرقہ ہے اس فرقے کے کافر ہونے میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے کیونکہ وہ فرقہ قرآن کی آیتوں کا منکر ہے۔

حاصل معنی ان آیتوں کے یہ ہیں کہ اس بہتان میں جس قسم کے لوگ شریک تھے ان کو اللہ تعالیٰ اوپر کی آیتوں میں ہر طرح سے جھوٹا ٹھہرا کر ہر ایک کو اس کے مناسب حال تنبیہہ فرمائی ‘ بعد اس کے اب اس آیت میں فرمایا ہے کہ اس بہتان کے باندھنے والے ناسمجھ ہیں ‘ اتنا نہیں سمجھتے کہ اللہ کے رسول کی بی بی سے ایسا برا کام کیونکر ہوسکتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نیک مردوں کے لیے نیک عورتیں پیدا کی ہیں ‘ پھر اللہ کے رسول سے بڑھ کر کون نیک مرد ہوگا ‘ ایسی گندی باتیں تو گندے مرد اور گندی عورتوں میں پھیلتی ہیں جن لوگوں کی شان میں یہ عیب لگانے والے گندی باتیں منہ سے نکالتے ہیں وہ ان باتوں سے بالکل بےلگاؤ ہیں ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں سے عقبیٰ میں بخشش اور بڑی بڑی نعمتیں دینے کا وعدہ کیا ہے۔