دلیل 2: القرآن  رضی اللہ عنہ (اللہ ان سے راضی ہوا)

‎(2) رضی اللہ عنہ (اللہ ان سے راضی ہوا) :

وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (التوبہ 100)
ترجمہ :
جن لوگوں نے سبقت کی (یعنی سب سے) پہلے (ایمان لائے) مہاجرین میں سے بھی اور انصار میں سے بھی۔ اور جنہوں نے نیکو کاری کےساتھ ان کی پیروی کی خدا ان سے خوش ہے اور وہ خدا سے خوش ہیں اور اس نے ان کے لیے باغات تیار کئے ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں اور ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے۔

إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُولَئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ (7) جَزَاؤُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ذَلِكَ لِمَنْ خَشِيَ رَبَّهُ (البینۃ:8)

 جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں وہ بیشک ساری مخلوق میں سب سے بہتر ہیں ۔ ان کے پروردگار کے پاس ان کا انعام وہ سدا بہار جنتیں ہیں جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں۔ وہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے خوش ہوگا اور وہ اس سے خوش ہونگے۔ یہ سب کچھ اس کے لیے ہے جو اپنے پروردگار کا خوف دل میں رکھتا ہوں۔

تشریح:

  اور مہاجرین و انصار میں سے جو سب سے پہلے سبقت کرنے والے ہیں اور پھر جن لوگوں نے ان کی خوبی کے ساتھ پیروی کی ہے اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے اور اس نے تیار کر رکھے ہیں ان کے لیے ایسے باغات جن کے نیچے ندیاں رواں ہیں وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور بڑی کامیابی یہی ہے۔

 کفار مشرکین اور منافقین پر تنقید اور ان کی علامات کے بیان کے بعد اب ان لوگوں کا تذکرہ فرمایا جا رہا ہے جو اسلام کا اصل سرمایہ اور امت کے گل سر سبد ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعوت دین کا آغاز فرمایا تو آپ روئے زمین پر بالکل تنہا تھے مکہ کا جاہلی معاشرہ شرک کی دلدل میں سرتک دھنسا ہوا تھا۔ ان کے پیش نظر مادی زندگی اور عیش و عشرت کے علاوہ کوئی مقصد نہ تھا اخلاق نام کی کوئی چیز تلاش سے بھی ان میں نہیں ملتی تھی حقوق العباد کا دور دور تک کوئی تصور نہیں تھا بھلائی کی ہر بات سے انھیں چڑ تھی اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی کہ اپنے اعتقادات اپنے طرز زندگی اور طور اطوار میں اس حد تک جامد واقع ہوئے تھے کہ ان میں کسی طرح کی تبدیلی کا تو کیا سوال تھا اس پر تنقید سننا بھی انھیں گوارانہ تھا ایک حیوانی زندگی تھی جس میں جنگل کا قانون کار فرما تھا اور اسے وہ چھوڑنے کے لیے کسی طرح بھی تیار نہ تھے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت ان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں مکمل تبدیلی کا پیغام تھی جن آستانوں پر وہ جھکتے تھے اور جو جو انھوں نے طاقت و سطوت کے مراکز بنا رکھے تھے ان کے خلاف کھلی بغاوت تھی ظاہر ہے ایسی دعوت کو وہ کس طرح ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرسکتے تھے چنانچہ جیسے ہی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھلے عام ان کے باطل عقائد اور ان کی حیوانی زندگی پر تنقید شروع کی تو وہ اس دعوت کو روکنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے اذیت کی بھٹیاں سلگنے لگیں ظلم کے نئے نئے طریقے ایجاد ہونے لگے انھوں نے اپنی پوری قوت اسلام اور مسلمانوں کو ختم کرنے کے لیے صرف کر ڈالی.

ایسی حالت میں اس دعوت کو قبول کرنا اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دست حق پرست میں ہاتھ دینا قیامت کو دعوت دینے کے مترادف تھا لیکن اس حالت میں بھی یکے بعد دیگرے لوگ اسلام کی طرف بڑھتے گئے انھوں نے اس راہ کی صعوبتوں کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا اس راہ میں مال لٹایا، وطن بھی چھوڑنا پڑا تو چھوڑ دیا جان کی ضرورت پڑی تو جان کا نذرانہ پیش کردیا۔

وہ لوگ جنھوں نے اس راہ پر سب سے پہلے قدم اٹھایا انھیں یہاں اَلسَّبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ کہہ کر ذکر فرمایا گیا یہ وہ بارش کے پہلے قطرے ہیں جنھوں نے جلی ہوئی زمین پر گرنا برداشت کیا پھر ان کی جرات و استقامت نے دوسروں کو حوصلہ بخشا پھر ایسا سماں بندھا کہ جل تھل ایک ہوگیا ان لوگوں کا راہ حق میں قربانی و ایثار ان کی جرات و شجاعت ان کی پامردی و استقامت اور ان کی سرفروشی و جاں سپاری کی داد اللہ کے سوا اور کون دے سکتا ہے اس لیے اسی کریم ذات نے ان آیات میں ان کی تحسین فرمائی اور ان کے تذکرے کو اپنی لافانی کتاب میں جگہ عطا فرمائی۔

 سوال یہ ہے کہ یہ اَلسَّبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْن کون لوگ ہیں جن اہل علم نے ’ من المہاجرین ‘ میں ْمن ‘ کو تبعیض کے لیے قرار دیا ہے انھوں نے صحابہ کے دو طبقے قائم کیے ایک اَلسَّبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ کا اور دوسرا باقی تمام صحابہ کرام کا پھر اس میں اختلاف پیدا ہوا کہ دونوں طبقوں میں کون لوگ شامل ہیں اس میں مختلف اقوال ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ

اَلسَّبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ وہ لوگ ہیں جو تحویل قبلہ سے پہلے مسلمان ہوئے

دوسرا قول یہ ہے کہ یہ وہ صحابہ ہیں جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے

ایک رائے یہ ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو حدیبیہ کی بیعت رضوان میں شریک ہوئے ان میں مہاجر بھی شامل ہیں اور انصار بھی

اس کے بعد جتنے ایمان لانے والے صحابہ ہیں چاہے وہ مہاجر ہوں یا انصار دوسرے درجے میں ہیں۔

 بعض مفسرین کا خیال یہ ہے کہ ’ من المہاجرین ‘ میں حرف ’ من ‘ تبعیض کے لیے نہیں بلکہ بیان کے معنی میں ہے پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تمام صحابہ کرام باقی امت کی نسبت سے اَلسَّبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ ہیں اور باقی امت کے لوگ جنھوں نے اَلسَّبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ کا اتباع مکمل طریقے اور نہایت حسن و خوبی کے ساتھ کیا وہ دوسرے درجے پر ہیں۔ اس تفسیر کی رو سے تمام صحابہ اَلسَّبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ کے مصداق ہوں گے اور باقی امت کے صالحین جنھوں نے احسان کے ساتھ صحابہ کی پیروی کی وہ صحابہ کے بعد شمار ہونگے۔

 احسان کا معنی ہوتا ہے کسی کام کو کمال حسن و خوبی سے انجام دینا۔ یہاں اس سے مراد یہ ہے کہ امت کے جن لوگوں نے مکمل اخلاص اور راست روی کے ساتھ صحابہ کی پیروی کی صحابہ ہی کی طرح اپنا مال نچھاور کیا اللہ کی رضا کو اپنا مقصد بنایا کسی موقع پر کسی مصلحت کا شکار نہ ہوئے نازک سے نازک موقع پر بھی قدم پیچھے نہ ہٹایا ہر قربانی بےدریغ پیش کی ان کا مقام صحابہ کرام کے بعد ہے اللہ تعالیٰ دونوں کی تحسین فرما رہا ہے اور اپنی رضا کے سرٹیفکیٹ سے نواز رہا ہے۔

 کوئی آقا جب اپنے غلام سے اور کوئی افسر اپنے ماتحت سے خوش ہو کر جو کلمات تحسین کہتا اور اظہار خوشنودی کرتا ہے اس کا تمام تر تعلق اس غلام یا ملازم کی ظاہری محنت سے ہوتا ہے غلام یا ملازم در پردہ کیا ہے یا اس کے احساسات اپنے آقا کے بارے میں کیا ہیں آقا اس سے بالکل بےخبر ہوتا ہے۔ اس لیے بہت ممکن ہے کہ آقا اور افسر اپنے غلام اور ماتحت کے بارے میں غلط فہمی کا شکار ہوں اور اس کے نفاق کو اس کی حقیقی زندگی قرار دے کر بیجا اظہار خوشنودی کر ڈالیں لیکن اللہ تعالیٰ دلوں کے بھید جاننے والا ہے وہ نیتوں سے بھی واقف ہیں اور ان کے محرکات سے بھی وہ دل میں چھپے ہوئے خیالات کو بھی جانتا ہے اور ان کے اسباب کو بھی اس لیے جب وہ کسی کی تحسین فرماتا اور اظہار خوشنودی کرتا ہے تو وہ ایک ایسا اظہار ہے جس میں غلطی کا کوئی امکان نہیں اس سے آپ صحابہ کرام اور ان کے نقش قدم پر چلنے والے لوگوں کی بلند قسمت کا انداز ہ کرسکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر اظہار خوشنودی فرما کر انھیں کتنا بڑا اعزاز بخشا ہے۔

 رضی اللہ عنھم ورضو عنہ  اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہوئے 

اللہ کے راضی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس نے ان کے ایمان و اخلاص کو قبول فرمایا ان کی قربانیاں اور وفا شعاریاں صلہ حاصل کرنے میں کامیاب ٹھہریں ان کا جہاد و قتال اس کی بارگاہ میں شرف قبولیت پا گیا گویا ان کی پوری زندگی ایمان و عمل اور اخلاص کی ایسی سچی تصویر ہے جس پر ریا کاری کی کوئی پرچھائیں نہیں۔

 اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے انھیں جس حال میں رکھا وہ صابر و شاکر رہے جو ذمہ داری ان پہ ڈالی نہایت جان فشانی سے محض اللہ کی خاطر اسے ادا کیا کوئی مصیبت آئی تو آزمائش جان کر خندہ پیشانی سے برادشت کیا وہ ہرحال میں اللہ کی حمد و ثنا میں مشغول رہے۔

 آخر میں فرمایا کہ جو لوگ اللہ کی رضا حاصل کرنے میں کامیاب رہے اور اللہ نے دنیا ہی میں اپنے کلام پاک میں ان کے لیے اظہار خوشنودی فرمایا اور خود بھی اللہ کے ہر فیصلے پر مطمئن اس کی ہر نعمت پر شکر گزار اس کی ہر آزمائش پر صابر اور ہرحال میں ان کا نفس ’ نفس مطمئنہ ‘ بنا رہا یہ وہ لوگ ہیں جو کامیاب و با مراد ہوئے اور یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔