دلیل 19 القرآن: صحابہ خیر الامت اخرجت الناس (لوگوں میں سے چنے گئے بہترین فرد)

‎(19) خیر الامت اخرجت الناس (لوگوں میں سے چنے گئے بہترین فرد) :

كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ ۗ وَلَوْ آمَنَ أَهْلُ الْكِتَابِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُم ۚ مِّنْهُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَأَكْثَرُهُمُ الْفَاسِقُونَ (آل عمران 110 )
ترجمہ :
تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لئے چنے گئے ہو کہ نیک کام کرنے کو کہتے ہو اور برے کاموں سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو اور اگر اہلِ کتاب بھی ایمان لے آتے تو ان کے لیے بہت اچھا ہوتا ان میں ایمان لانے والے بھی ہیں (لیکن تھوڑے)اور اکثر نافرمان ہیں۔

تشریح:
یہ چنے گئے بہترین لوگ وہ تھے جو مکہ میں ایمان لے آئے تھے اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہجرت کی۔
حافظ ابن کثیرؒ اس آیت کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا کہ خیر امت سے مراد وہ صحابہ ہیں جنہوں نے مکہ سے مدینہ ہجرت کی تھی ۔ صحیح بات یہ ہے کہ یہ ساری امت کے لئے ہے بیشک یہ حدیث میں بھی ہے کہ سب سے بہتر میرا زمانہ ہے پھر اس کے بعد کا زمانہ پھر اس کے بعد کا ۔۔۔۔
(تفسیر ابن کثیر تفسیر سورہ آلعمران اایت 110)
مصنف عبدالرزاق ، ابن ابی شیبہ ، عبد بن حمید ، فریابی ، امام احمد ، امام نسائی ، ابن جریر ، ابن ابی حاتم ، ابن منذر ، طبرانی اور حاکم وغیرہ نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے اور امام حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے کہ کنتم خیر امۃ سے مراد وہ صحابہ ہیں جنہوں حضور ﷺ کے ساتھ مدینہ میں ہجرت کی۔(تفسیر در المنثور تفسیر سورہ آلعمران آیت 110)
ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت سدی سے اس آیت کی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ امیر المومنین عمر بن الخطابؓ نے فرمایا اگر اللہ تعالی چاہتا تو فرماتا انتم تو ہم سب اس میں شامل ہوجاتے لیکن فرمایا کنتم اور یہ صرف حضور ﷺ کے صحابہ کے لئے خاص ہے اور جس نے ان کے اعمال جیسے اعمال کئے وہ بھی خیر امت میں داخل ہونگے۔(تفسیر در المنثور تفسیر سورہ آلعمران آیت 110)
اگر اس آیت کو ساری امت کے لئے لیا جائے تب بھی اس کے پہلے مصداق اور فرمان نبوی ﷺ کے مطابق سب سے بہترین صحابہ ہی ہیں جو اس دین کو لوگوں تک پہنچانے کے واسطے چنے گئے ۔(تفسیر در المنثور تفسیر سورہ آلعمران آیت 110)