دلیل 18 القرآن: صحابہ المبشرون من ربھم (اللہ کی طرف سے بشارت لینے والے)

‎(18) المبشرون من ربھم (اللہ کی طرف سے بشارت لینے والے) :

الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ أَعْظَمُ دَرَجَةً عِندَ اللَّهِ ۚ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُم بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَرِضْوَانٍ وَجَنَّاتٍ لَّهُمْ فِيهَا نَعِيمٌ مُّقِيمٌ (التوبہ 20-21)

خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ عِنۡدَہٗۤ اَجۡرٌ عَظِیۡمٌ ﴿۲۲﴾

 ترجمہ :
جو لوگ ایمان لائے اور وطن چھوڑ گئے اور اللہ کی راہ میں مال اور جان سے جہاد کرتے رہے۔ اللہ کے ہاں ان کے درجے بہت بڑے ہیں۔ اور وہی مراد کو پہنچنے والے ہیں۔ ان کا پروردگار  وہاں یہ ہمیشہ رہنے والے ہیں اللہ کے پاس یقیناً بہت بڑے ثواب ہیںان کو اپنی رحمت کی اور خوشنودی کی اور بہشتوں کی خوشخبری دیتا ہے جن میں ان کے لیے نعمت ہائے جاودانی ہے۔

تشریح:
صحابہ کی جماعت اس امت کے وہ خوش قسمت لوگ ہیں جو سیدہا اللہ تعالی سے خوشخبری سننے والے تھے وہ کتاب اللہ کے سیدہے مخاطب تھے

 بیشک جو حضرات رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کریم پر ایمان لائے اور مکہ مکرمہ چھوڑ کر مدینہ منورہ آگئے اور اطاعت خداوندی میں اپنے مال و دولت خرچ کیے اور جہاد وہ بمقابل اہل سقایہ اور اہل عمارت وغیرہ کے درجہ میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت ہی بڑے ہیں اور ان ہی حضرات نے جنت کے ذریعے کامیابی حاصل کی اور دوزخ سے مکمل نجات حاصل کی ہے۔

 ف 5 رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رفاقت میں اپنے گھر بار اور رشتہ داروں کو چھوڑا۔ (وحیدی )
ف 6 اس آیت میں مہاجرین کی بڑی فضیلت ثابت ہوتی ہے جن میں سے حضرت ابوبکر (رض) ، عمر (رض) ، عثمان (رض) ، علی (رض) ، ابو عبیدہ (رض) ، بن جراح، طلحہٰ (رض) زبیر (رض) اروبہت سے دوسرے صحابہ کرام شامل ہیں، قرآن خود ان کے آخرت میں فا ئز وسر خرو ہونے کی شہادت دے رہا ہے معلوم ہوا کہ جو لوگ انہیں برا بھلا کہتے اور ان پر لعنت بھیجتے ہیں وہ خود لعنتی اور نامراد ہیں۔ (وحیدی)

(یبشرھم ربھم برحمۃ منہ ورضوان و جنت لھم فیھا نعیم مقیم، خلدین فیھآ ابدا، ان اللہ عندہ اجر عظیم۔ ان کا رب انہیں بشارت دیتا ہے اپنی رحمت اور اپنی رضامندی کی اور ان باغوں کی جن میں انہیں دوامی نعمت ہے۔ ہمیشہ ان میں رہیں گے بیشک اللہ کے پاس بڑا ثواب ہے۔

اور یہ اعلیٰ ترین بشارت ہے اس لیے کہ رب العزت جلت مجو عزاسمہ کی رحمت و رضا حاصل کرنا عبد صادق کا بڑا مقصد ہے اور یہی مومن کی مراد ہے۔ نعیم مقیم۔ دوانی راحت و رحمت اور غیر معمولی نعمتیں ہوں گے۔ خلود کے معنی ہیں طویل مدت اس کے بعد رشتہ و قرابت سے مقدم اسلام و ایمان کی شان ظاہر فرمائی جاتی ہے۔

يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ : ” بِرَحْمَةٍ “ اور ” وَرِضْوَانٍ “ پر تنوین تعظیم کی ہے۔ اب اس رحمت اور رضا مندی کا کون اندازہ کرسکتا ہے جسے خود اللہ تعالیٰ خاص اپنی طرف سے اور عظیم قرار دے رہا ہے، اگلی آیت میں دوبارہ اسے اجر عظیم قرار دیا ہے۔ جب مالک خود ان لوگوں سے راضی اور انھیں اپنی رحمت اور جنت کی خوش خبری دے رہا ہے، تو ڈوب مرنا چاہیے ان لوگوں کو جو ان کے خلاف اپنی زبانیں کھولتے ہیں، اگر ان میں ذرہ بھر بھی غیرت اور شرم و حیا ہے۔ ورنہ سیدھی طرح اپنی بد تمیزی اور گستاخی سے توبہ کر کے ان کا وہ مقام تسلیم کرنا چاہیے جو اللہ اور اس کے رسول نے انھیں دیا ہے۔

یاد رہے کہ ایمان، جہاد اور ہجرت کا سلسلہ قیامت تک قائم رہے گا اور وہ سب مجاہدین اس فضیلت میں شامل ہیں جو یہ شرف حاصل کریں گے۔ ابو حیان نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے تین وصف ایمان، ہجرت اور مال و جان کے ساتھ جہاد ذکر فرمائے، ان کے مقابلے میں تین ہی انعام ذکر فرمائے، ایمان کے مقابلے میں رحمت، کیونکہ وہ صرف ایمان سے حاصل ہوتی ہے اور سب سے عام ہے۔ جان و مال کے ساتھ جہاد کے مقابلے میں رضوان جو کسی سے حسن سلوک کی انتہا ہے اور ہجرت، یعنی وطن چھوڑنے کے بدلے میں جنت جو دائمی اقامت کا گھر ہے۔

   ان آیات میں ان اہل ایمان کی فضیلت بیان کی گئی جنہوں نے ہجرت کی اور اپنی جان مال کے ساتھ جہاد میں حصہ لیا۔ فرمایا۔ اللہ کے ہاں انہی کا درجہ سب سے بلند ہے اور یہی کامیاب ہیں، یہی اللہ کی رحمت و رضامندی اور دائمی نعمتوں کے مستحق ہیں نہ کہ وہ جو خود اپنے منہ میاں مٹھو بنتے اور اپنے آبائی طور طریقوں کو ہی ایمان باللہ کے مقابلے میں عزیز رکھتے ہیں۔

   (ہمیشہ ہمیش رہنے والے) ہیں۔ (اس میں) ایسی نعمتیں ، ہیں جو کبھی منقطع نہ ہوں گی اور ایسا قیام جس کی کوئی انتہا نہیں۔ (بےشک اللہ) تعالیٰ ، (اس کے یہاں) ان کے لیے (بڑا اجر ہے) ، کہ دنیا کی ساری نعمتیں اس کے سامنے حقیر ہیں۔ سوچنے کی بات ہے ، کہ جنت میں جو نعمت ، رحمت ، اور رضامندی ہوگی ، اس سے بہتر کون سی نعمت ہوگی۔
اس مقام پر ذہن نشین رہے ، کہ رحمت گنہگاروں کے واسطے ہے ، اور رضوان یعنی رضامندی اطاعت شعاروں کے لیے ہے ، اور جنت سب مسلمانوں کے واسطے ہے۔ رحمت کو خدا نے اس لیے پہلے ذکر فرمایا ، کہ گناہ گار اپنے دل میں مایوس اور ناامید نہ ہوں ، اس والطے ، کہ گناہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو ، رحمت اس سے بھی بڑھ کر ہے۔

سابقہ آیات میں ہجرت و جہاد کے فضائل بیان کیے گئے ہیں ، اور مہاجرین ومجاہدین کی رفعت شان اور ان کی فیروز بختی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ، اور اب اگلی آیت میں بعض کمزور دلوں اور سادہ لوحوں کا ذکر فرمایا جارہا ہے ، اور ہجرت کے تعلق سے ان کے خیالات پیش کیے جا رہے ہیں۔ اور پھر بطریق احسن ، انہیں ہدایت ونجات اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سچی اور کھری وفاداری کی راہ دکھائی جارہی ہے۔ اور ان پر وہ حقیقت واشگاف کی جارہی ہے ، جو دارین کی صلاح و فلاح ، اور دونوں جہاں کی خوش بختیوں کی ضامن ہے۔