دلیل 16القرآن: صحابہ العالمین (عمل کرنے والے)

(16) الْعَامِلِينَ (عمل کرنے والے) :

وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَمَنْ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اللَّهُ وَلَمْ يُصِرُّوا عَلَى مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ (135) أُولَئِكَ جَزَاؤُهُمْ مَغْفِرَةٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَجَنَّاتٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَنِعْمَ أَجْرُ الْعَامِلِينَ (آل عمران:136)
اور یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر کبھی کوئی بےحیائی کا کام کر بھی بیٹھتے ہیں یا (کسی اور طرح) اپنی جان پر ظلم کر گزرتے ہیں تو فورا اللہ کو یاد کرتے ہیں کہ اور اس کے نتیجے میں اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں، اور اللہ کے سوا ہے بھی کون جو گناہوں کی معافی دے ؟ اور یہ اپنے کیے پر جانتے بوجھتے اصرار نہیں کرتے۔

یہ ہیں وہ لوگ جن کا صلہ ان کے پروردگار کی طرف سے مغفرت ہے، اور وہ باغات ہیں جن کے نیچے دریا بہتے ہونگے، جن میں انہین دائمی زندگی حاصل ہوگی، کتنا بہترین بدلہ ہے جو کام کرنے والوں کو ملنا ہے۔

پرہیزگاری کا اجر

  گزشتہ آیتوں میں متقیوں (صحابہ کرام) کی مندرجہ ذیل چھ صفات بیان کی گئی ہیں ۔
(١) ۔ خوشی اور غمی ہر حال میں وہ اپنا مال اور قوت اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں یہاں تک کہ تنگدستی میں بھی وہ اپنا ہاتھ نہیں روکتے ۔
(٢) ۔ وہ غصے کو ضبط کرتے ہیں اور غصے سے مغلوب ہو کر نازیبا حرکات نہیں کرتے ۔
(٣) ۔ وہ خطا کاروں کو معاف کردیتے ہیں ۔
(٤) ۔ وہ تکلیف دینے والوں کے ساتھ احسان کا معاملہ کرتے ہیں ۔
(٥) ۔ اگر وہ کوئی برائی کر بیٹھیں تو اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے ہیں اور اس سے بخشش طلب کرتے ہیں ۔
(٦) ۔ اپنی غلطی پر اصرار نہیں کرتے بلکہ غلطی کا احساس ہوتے ہی اس کو تسلیم کرلیتے ہیں ۔
ان صفات سے لوگوں میں اللہ تعالیٰ کا خوف اور پرہیزگاری پیدا ہوتی ہے اسی لیے ان صفات کے حامل متقی کہلاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے بڑے اجر وثواب کا وعدہ فرمایا ہے ۔ آخرت میں وہ ان کی مغفرت فرمائے گا اور ان کو ایسے باغات عطا فرمائے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں ۔ پس نیک لوگوں کے لیے ان کے رب کی طرف سے کیسا اچھا بدلہ ہے ۔

 یہی (وہ ) لوگ (ہیں کہ بدلہ) دل کی سچائی کے ساتھ (ان) کے توبہ و استغفار (کا) عفو و درگزر اور (بخشش ہے ان کے پروردگار کی) ۔ ان پر اللہ کا فضل و کرم کا سایہ ہے (اور) آخرت میں ان کے لیے جنتیں ہیں شاندار باغات ہیں (بہتی ہیں جن کے ) مکانوں اور درختوں کے (نیچے نہریں) ۔ وہ خوش نصیب لوگ (اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں (اور) اللہ کے فضل و کرم سے یہ مغفرت و جنت (کیا) ہی (خوب اجر ہے) ایمان کی سلامتی کے ساتھنیک اعمال انجام دینے والے (کارگزاروں کا) انہیں ایسا ذخیرہ نصیب ہوگا جس میں کبھی کمی نہیں ہوگی ایسا اجر ملے گا جس میں کسی طرح کا نقص نہیں ہوگا ، ایسے باغات حاصل ہوں گے جن کی کوئی انتہاء نہ ہوگی اور ایسی لذت پائیں گے جو کبھی ختم نہیں ہوگی۔
اس مقام پر یہ بھی خیال رہے کہ صرف زبانی استغفار کا دل پر کوئی اثر نہیں پڑتا اور نہ اس سے گناہ زائل ہوتے ہیں وہ تو صرف زبان کی لذت کے لیے ہوتا ہے اس کو کذابوں کی توبہ ، یعنی جھوٹی توبہ کہا جاتا ہے ، لہٰذا توبہ جو رب کریم کے فض (رح) وکرم کا مستحق بناتی ہے وہ وہی ہے جو دل کی سچائی کے ساتھ ہو جس میں اپنے گناہوں پر کامل ندامت ہو اور آئندہ اس گناہ کونہ کرنے کا پختہ ارادہ ہو ، اس سے پہلے مسلمانوں کی وہ لغزشیں بیان فرمائیں تھیں جن کی وجہ سے مسلمانوں کو جنگ احد میں شکست ہوئی تھی اور آئندہ کے لیے اس قسم کے کاموں سے منع فرمایا تھا ، اور ایسے کاموں کی ترغیب دی تھی جن کے کرنے سے مسلمان اپنی شجاعت کے جوہر دکھائیں اور جہاد میں کافروں کے خلاف فتح حاصل کریں۔
اب اس سلسلے میں مزید ہدایت دینے کے لیے فرمایا ہے کہ جو لوگ اسلام کی صداقت کے متعلق شکوک و شبہات کا شکار ہیں وہ زمین پر چل پھر کر دیکھ لیں کہ جن لوگوں نے گزشتہ زمانوں میں اللہ کے رسولوں کی تکذیب کی وہ کس طرح عذاب الٰہی میں گرفتار ہوئے اور اب بھی مختلف علاقوں میں ان پر کیے ہوئے عذاب کے آثار موجود ہیں ، دوسری وجہ یہ ہے کہ اس سے پہلی آیتوں میں اللہ نے اللہ کی اطاعت کرنے والوں اور معصیت سے توبہ کرنے والوں سے مغفرت اور جنت کا وعدہ فرمایا تھا اب اس کے بعد اللہ نے یہ ذکر فرمایا کہ پچھلی امتوں میں سے اطاعت گاروں اور نافرمانوں کے احوال اور آثار کا مشاہدہ کرو تاکہ اللہ کی اطاعت کرنے اور اس کی معصیت سے بچنے کی مزید ترغیب اور تحریک ہو۔