دلیل 15القرآن: صحابہ المجاھدین (جہاد کرنے والے)

(15) الْمُجَاهِدِينَ (جہاد کرنے والے) :

وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتَّى نَعْلَمَ الْمُجَاهِدِينَ مِنْكُمْ وَالصَّابِرِينَ وَنَبْلُوَ أَخْبَارَكُمْ (محمد:31)
اور ہم ضرور تمہیں آزمائش میں ڈالیں گے، تاکہ ہم یہ دیکھ لیں کہ تم میں سے کون ہیں جو مجاہد اور ثابت قدم رہنے والے ہیں، اور تاکہ تمہارے حالات کی جانچ پڑتال کرلیں۔

تشریح:

[25]۔ یعنی ہم تمہیں جہاد کا حکم دیں گے پھر جذبہ جہاد اور راہ حق میں تکالیف پر صبر کا حوصلہ رکھنے والے مومنین میدان جہاد میں کود پڑیں گے اور منافقین حیلے بہانے کرنے لگیں گے، یوں مومنین اور منافقین میں امتیاز ہو جائے گا۔ چنانچہ غزوہ تبوک کے موقع پر یہی ہوا، منافقین بہانے بناکر گھروں میں دبک گئے جیسے اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: وَجَاۗءَ الْمُعَذِّرُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ لِيُؤْذَنَ لَهُمْ وَقَعَدَ الَّذِيْنَ كَذَبُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ (سورہ توبہ۔ 90) ’’اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے جس طرح سفر کی تکالیف اٹھا کر غزوہ تبوک میں شرکت کی وہ صبر و استقامت کی بے مثال داستان ہے‘‘۔
معلوم ہوا جہاد کے وقت جہاد سے پہلو تہی کرنا منافقین کا کام ہے۔ آج بھی وقت جہاد ہے، کشمیر، فلسطین، افغانستان اورعراق وغیرہ میں کفار مسلمانوں کا خون بہا رہے ہیں، ایسے میں دوسرے مسلم ممالک پر اپنے ان مسلم بھائیوں کی مدد کے لیے جہاد فرض ہے، مگر اکثر مسلم حکمرانوں کا حال منافقین والا ہے۔ مسلم افواج اور مسلم قوم میں آج بھی جذبہ جہاد ہے مگر مسلم حکمران یہودونصاریٰ کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔

کھرے اور کھوٹے میں امتیاز کے لیے امتحان

   مختلف قسم کے نرم و گرم حالات کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ لازماً تمہارا امتحان کرے گا یہاں تک کہ وہ اچھی طرح پرکھ لے گا کہ تمہارے اندر اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے اور ثابت قدم رہنے والے کون ہیں اور کون محض زبان کے غازی ہیں۔

مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ قاعدہ تو نہیں ہے کہ وہ ہر منافق کی پیشانی پر لکھ دے کہ یہ منافق ہے لیکن اس کی یہ سنت بالکل لازمی اور قطعی ہے کہ وہ مختلف امتحانات کے ذریعہ سے کھرے اور کھوٹے میں امتیاز کرتا ہے اور یہ بات چونکہ اس کی سنت کا تقاضا ہے اس وجہ سے اس امتحان سے تمہیں بھی لازماً گزرنا پڑے گا اور وہ لوگ اپنے کو زیادہ دنوں تک چھپائے رکھنے میں کامیاب نہیں ہوں گے جو محض فریب کے جامے میں مسلمانوں کے اندر گھسے رہنا چاہتے ہیں۔

اس آیت پر تدبر کی نگاہ ڈالیے تو اس سے اشارۃ یہ بات بھی نکلی کہ ان امتحانوں کا اصل مقصد تو مجاہیدن و صابرین کو ممیز کردینا ہے لیکن اس کے لازمی نتیجہ کے طور پر ان لوگوں کے حالات بھی کسوٹی پر آجائیں گے جو محض فریب سے اپنے آپ کو اس زمان کے اندر گھسائے رکھنے کے خواہشمند ہیں۔

و نبوا اخبارکم میں اسی بات کی طرف اشارہ ہے۔ اخبار سے مراد ان کے حالات ہیں۔ دوسرے الفاظ میں اس بات کو یوں سمجھئے کہ اللہ تعالیٰ تو لوگوں کو اس لیے بلواتا ہے کہ ان کے اندر جو مکھن ہے وہ نکل کر سامنے آجائے۔ لیکن اس کا نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ چھاچھ بھی سامنے آجاتا ہے۔
یہ امتحان چونکہ سنت الٰہی کا تقاضا ہے اس وجہ سے اس کا بیان لام تاکید کے ساتھ ہوا ہے۔ اور علم یعلکم کے معنی یہاں پرکھنے اور امتیاز کرنے کے ہیں۔ اس کی وضاحت اس کے محل میں ہوچکی ہے۔

(31) ہم ضرور تم لوگوں کو آزمائشیں میں ڈالیں گے تاکہ تمہارے حالات کی جانچ کریں اور دیکھ لیں کہ تم میں مجاہد اور ثابت قدم کون ہے۔

یہ جو دور تھا۔ مدینے کا دور۔ ہجرت کے بعد کا۔

ہجرت کے بعد سے لے کر بعد تک مسلسل مسلمانوں پر آزمائشیں آتی رہیں۔

مجاہد صحابہ مسلسل محنت میں عمل میں مصروف رہے اور مومن تو ہوتا ہی مجاہد ہے۔ مزاج کے طور پر۔ جفاکش اور محنتی تو ہوتا ہی ہے۔

تو مومن صحابہ تو لگے رہے مسلسل جان کھپانے میں جان لگانے میں کبھی جنگ کی صورت میں۔ کبھی جان کی قربانی کبھی مال کی۔

کبھی روایات اور کبھی عادات کی قربانی کی صورت میں۔

مسلسل جہاد تو جاری تھا۔ مسلمان لگا دینے میں کھپا دینے میں نجات سمجھتے تھے۔

اور منافق جان بچا لیتے ہیں سمیٹ کر رکھ لینے میں وہ اس میں اپنی کامیابی سمجھا کرتے تھے۔ تو جنگ کی باری تو بعد میں آتی۔ اور جان کی قربانی کا معاملہ بھی بعد میں آیا۔

جو قربانی کا آغاز ہوتا ہے وہ عادات اور روایات کی قربانی سے ہوتا ہے۔ عادتیں بدل سکتے ہو۔ رسوم و رواج چھوڑ سکتے ہو۔ یہ پہلا مرحلہ ہوتا ہے۔

اس لیے کہ انسان جب یہ کام کر گزرتا ہے تو اس کے جذبات اسلام کے ساتھ وابستہ ہوجاتے ہیں عادتوں کے بدلنے کی وجہ سے۔ رسومات کو بدلنے کی وجہ سے ۔

اندر سے تشخص محسوس کرسکتا ہے کہ میرا تشخص اسلام ہے۔

میری identify اسلام ہے۔ یوں سمجھیں کہ اس کی wave leanth اسلام کے ساتھ ہم آہنگ ہوجاتی ہے۔ ایک دفعہ اس کی پہچان اس کا تشخص اس کی indentify اسلام بن جائے تو آگے اسلام کا تشخص اس کا تشخص بن جاتا ہے۔

اسلام کی کامیابی اس کی ذاتی کامیابی بنتی ہے۔ اور اسلام کی ناکامی اس کی ذاتی ناکامی ہوجاتی ہے۔