دلیل 14القرآن: صحابہ الصابرون (جمے رہنے والے)

(14) الصابرون (جمے رہنے والے) :

قُلْ يَاعِبَادِ الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا رَبَّكُمْ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ وَأَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةٌ إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ (الزمر:10)
کہہ دو کہ : اے میرے ایمان والے بندو ! اپنے پروردگار کا خوف دل میں رکھو۔ بھلائی انہی کی ہے جنہوں نے اس دنیا میں بھلائی کی ہے، اور اللہ کی زمین بہت وسیع ہے۔ (٦) جو لوگ صبر سے کام لیتے ہیں، ان کا ثواب انہیں بےحساب دیا جائے گا۔

 تشریح:
(٦) یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اگر اپنے وطن میں دین پر عمل کرنا ممکن نہ ہو، یا سخت مشکل ہوجائے تو وہاں سے ہجرت کرکے ایسی جگہ چلے جاؤ جہاں دین پر عمل کرنا نسبۃً آسان ہو، اور اگر وطن چھوڑنے سے تکلیف ہو تو اس پر صبر کرو، کیونکہ صبر کا ثواب بےحساب ہے۔

ہجرت کے فضائل

  اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ میرے مومن بندوں کو میرا یہ پیغام پہنچا دیجئے کہ تم اپنے رب سے اس طرح ڈرتے رہو جس طرح اس سے ڈرنے کا حق ہے اور اس کی اطاعت پر جمے رہو ۔ پس جس نے اس دنیا میں خشوع و خضوع کے ساتھ نیک اعمال کئے ان کے لیے بہترین بدلہ ہے ۔

اگر کافروں کی مزاحمت کی بنا پر کسی ملک میں تم اللہ کی طاعت و عبادت اچھی طرح اور سکون و اطمینان سے نہ کرسکو تو وہاں سے سکونت ترک کرکے دوسرے ملک ہجرت کرلو ، جہاں آزادی سے اللہ کے احکام بجا لاسکو ۔

اللہ کی زمین بہت وسیع ہے ۔ یقینا اس طرح ترک وطن کرنے میں بہت سے مصائب برداشت کرنا پڑیں گے اور طرح طرح کے خلاف عادت وطبیعت امور پر صبر کرنا پڑے گا ۔

ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ ناپ تول کے بغیر بےحساب اجروثواب عطا فرماتا ہے *۔ اصبہانی نے حضرت انس (رض) کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ترازوئیں نصب کی جائیں گی اور نمازیوں کو لایا جائے گا اور وزن کے مطابق ان کو پورا پورا ثواب دیا جائے گا اور صدقہ (فرض ونفلی خیرات) دینے والوں کو لایا جائے گا ۔ ان کو بھی وزن کے مطابق پورا پورا ثواب دیا جائے گا ۔ حاجیوں کو لایا جائے گا ۔ ان کو بھی وزن کرکے پورا ثواب دیا جائے گا اور جو لوگ اہل بلا یعنی دکھی اور دین کے لیے مصائب وشدائد اٹھانے والے ہوں گے ان کو بلایا جائے گا لیکن ان کے اعمال کے وزن کے لیے نہ کوئی ترازو کھڑی کی جائے گی اور نہ ان کے اعمال کا رجسٹر کھولا جائے گا بلکہ ان پر بےحساب ثواب کی بارش کی جائے گی یہاں تک کہ وہ لوگ بھی جو دنیا میں عافیت سے رہتے تھے تمنا کریں گے کہ کاش دنیا میں ان کے اجسام کو قینچیوں سے کاٹا جاتا ہے ۔ وہ لوگ اہل بلا کے ثواب کو دیکھ کر یہ تمنا کریں گے *۔

آپ ان مشرکین سے کہہ دیجئے کہ مجھے تو اللہ کی طرف سے یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں خالص اللہ کی عبادت کروں جس میں شرک کا ادنی شائبہ بھی نہ ہو اور مجھے یہ بھی حکم ہوا ہے کہ میں اطاعت کرنے والوں میں سب سے پہلا اطاعت گزار ہوجاؤں ، یعنی اس امت میں سب سے پہلا فرماں بردار میں بنوں تاکہ اللہ کی اطاعت کرنے والا ہر بندہ میری فرماں برداری کو اپنے لیے نمونہ بنائے ۔ (مواہب 23/240, 239، مظہری 8/202-201)