دلیل 12القرآن: صحابہ شہداء (شہید لوگ)

(12) شہداء (شہید لوگ) :

وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا (النساء:69)

اور جو لوگ اللہ اور رسول کی اطاعت کریں گے تو وہ ان کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے، یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین۔ اور وہ کتنے اچھے ساتھی ہیں۔

وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولَئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ وَالشُّهَدَاءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ لَهُمْ أَجْرُهُمْ وَنُورُهُمْ وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَئِكَ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ (الحدید:19)
اور جو لوگ اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں، وہی اپنے رب کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں۔ (١٥) ان کے لیے ان کا اجر اور ان کا نور ہے۔ اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا اور ہماری نشانیوں کو جھٹلایا، وہ دوزخی لوگ ہیں۔

تشریح:
(١٥) صدیق کے معنی ہیں وہ شخص جو اپنے قول وفعل کا سچا ہو اور یہ انبیائے کرام کے بعد پرہیزگاری کا سب سے اونچا درجہ ہے، جیسا کہ سورة نساء (النساء:٧٠) میں گزرا ہے، اور شہید کے لفظی معنی تو گواہ کے ہیں، اور قیامت میں امت محمدیہ (علی صاحبہا الصلوۃ والسلام) کے پرہیزگار افراد پچھلے انبیاء کرام (علیہم السلام) کے حق میں گواہی دیں گے جیسا کہ سورة بقرۃ (١٤٣) میں گزرا ہے، نیز شہیدان حضرات کو بھی کہا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرتے ہوئے اپنی جان کی قربانی پیش کریں، یہاں یہ بات منافقوں کے مقابلے میں فرمائی جارہی ہے کہ صرف زبان سے ایمان کا دعوی کرکے کوئی شخص صدیق اور شہید کا درجہ حاصل نہیں کرسکتا ؛ بلکہ وہی لوگ یہ درجہ حاصل کرسکتے ہیں جو دل سے سچا اور پکا ایمان لائے ہوں، یہاں تک کہ اس ایمان کے آثار ان کی عملی زندگی میں پوری طرح ظاہر ہوں۔

   اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کا صلہ بتلایا جا رہا ہے اس لیے حدیث میں آتا ہے۔ آدمی انہیں کے ساتھ ہوگا جن سے اس کو محبت ہوگی ‘ حضرت انس (رض) فرماتے ہیں ‘ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کو جتنی خوشی اس فرمان رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سن کر ہوتی اتنی خوشی کبھی نہیں ہوئی، کیونکہ وہ جنت میں بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رفاقت پسند کرتے تھے۔

اس کی شان نزول کی روایات میں بتایا گیا ہے کہ بعض صحابہ کرام نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے گا اور ہمیں اس سے فروتر مقام ہی ملے گا اور یوں ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحبت ورفاقت اور دیدار سے محروم رہیں گے۔ جو ہمیں دنیا میں حاصل ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتار کر ان کی تسلی کا سامان فرمایا (ابن کثیر)

بعض صحابہ (رض) نے بطور خاص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جنت میں رفاقت کی درخواست کی (اسالک مرافقتک فی الجنۃ) جس پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں کثرت سے نفلی نماز پڑھنے کی تاکید فرمائی (فأعنی علی نفسک بکثرۃ السجود) پس تم کثرت سجود کے ساتھ میری مدد کرو۔

صحیح مسلم میں ربیعہ بن کعب سلمی (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے درخواست کی کہ جنت میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ساتھ نصیب ہو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کثرت سجود (کثرت نوافل) سے میری مدد کرو ترمذی کی ایک حدیث میں ہے التاجر الصدوق الامین لنبتین والصد یقین والشدآ کہ امانتدار اور سچ بولنے والا تاجر قیامت کے دن انبیاء اور شہدا کے ساتھ ہوگا (ابن کثیر۔ رازی)

علاوہ ازیں ایک اور حدیث ہے (التاجر الصدوق الامین مع النبیین والصدیقین والشہداء) (ترمذی۔ کتاب البیوع باب ماجاء فی التجار و تسمیۃ النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایاھم) راست باز، امانت دار، تاجر انبیا، صدیقین اور شہدا کے ساتھ ہوگا۔ صدیقیت، کمال ایمان و کمال اطاعت کا نام ہے، نبوت کے بعد اس کا مقام ہے امت محمدیہ میں اس مقام میں حضرت ابوبکر صدیق (رض) سب سے ممتاز ہیں۔ اور اسی لیے بالاتفاق غیر انبیاء میں وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد افضل ہیں، صالح وہ ہے جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کامل طور پر ادا کرے اور ان میں کوتاہی نہ کرے۔

    صدیق یہ صدق سے مبالغہ کا صیغہ ہے یعنی جو جملہ امور دین کی تصدیق کرنے ولا ہو اور کبھی کسی معاملہ میں خلجان اور رشک اس کے دل میں پیدا نہ ہو یا وہ جو رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصدیق میں سبقت کرنے کی وجہ سے دوسرے کے لیے اسوۃ بنے اس اعتبار سے اس امت کے صدیق حضرت ابوبکر (رض) ہی ہوسکتے ہیں۔ کیونکہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) دوسرے افاضل صحابہ (رض) کے لیے نمومہ بنتے ہیں .

حضرت علی (رض) بھی اول مسلمانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ مگر چھوٹے بچے ہونے کی وجہ سے دوسروں کے لیے نمونہ نہیں بن سکتے چونکہ نبی کے بعد صدیق کا درجہ ہے اس لیے علما اہل سنت کا اجماع ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد سب سے افضل ہیں .

شہدا یہ شہید کی جمع ہے اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے راستہ میں جان دی اور امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بھی شہدا ہونے کا شرف حاصل ہے اور صالحین سے مراد وہ لوگ ہیں جو عقیدہ وعمل کے اعتبار سے ہر قسم کے فساد سے محفوظ رہے۔ ( رازی)