دلیل 11القرآن: صحابہ کرام الصالحین (نیکوکار)

(11) الصَّالِحِينَ (نیکوکار) :

يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَأُولَئِكَ مِنَ الصَّالِحِينَ (آل عمران:114)

یہ لوگ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں، اچھائی کی تلقین کرتے اور برائی سے روکتے ہیں، اور نیک کاموں کی طرف لپکتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا شمار صالحین میں ہے۔

 تشریح:

مومن اہل کتاب کی صفت
قول باری ہے (یؤمنوں باللہ والیوم الاخرویامرون بالمعروف وینھون عن المنکر، وہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے ہیں) اہل کتاب میں سے جو لوگ ایمان لے آئے تھے ان کی یہ صفت بیان ہورہی ہے۔ اس لیے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آئے۔ پھر انہوں نے لوگوں کو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصدیق کی طرف بلایا اور جو لوگ آپ کی مخالفت کرتے تھے انہیں اس مخالفت سے روکا اس لیے ان کا شماران لوگوں میں ہوگیا جن کے متعلق اللہ تعالیٰ کا پچھلی آیت میں ارشاد ہے (کنتم خیرامۃ اخرجت للناس) ہم نے امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے وجوب پر قرآنی دلائل کا پہلے ذکرکر دیا ہے۔
مذاہب فاسدہ کا مقابلہ کس طرح کیا جائے
اگر یہ کہا جائے کہ آیا مذاہب فاسدہ کے عقائد کا ازالہ جو تاویل کے سہارے اپنا لیے گئے ہیں اسی طرح واجب ہے جس طرح غلط اور منکر افعال کا ؟

تو اس کے جواب میں یہ کہا جائے گا کہ اس کی دو صورتیں ہیں۔

اول یہ کہ فاسد عقائد کا حامل کوئی شخص اگر اپنے غلط عقائد کی دعوت دے رہا ہو اور اس طرح وہ شبہات پیدا کرکے لوگوں کو گمراہ کررہا ہو، تو اسے ہر ممکن طریقے سے اس سے ہٹانا اور باز رکھنا واجب ہے۔

لیکن اگر کوئی شخص اپنے فاسد عقائد کو اپنی ذات تک محدودرکھے اور لوگوں کو ان کی دعوت نہ دے، تو اسے دلائل دے کر حق کی دعوت دی جائے گی اور اس کے شبہات کو دور کیا جائے گا۔ یہاں تک تو اس کے ساتھ یہی معاملہ رکھا جائے گا ، لیکن اگر وہ اہل حق کے خلاف تلوار اٹھائے گا اور جتھابندی کرکے امام المسلمین کے خلاف صف آراء ہوجائے گا، اور طاقت کے بل بوتے پر اپنے باطل عقائد کی لوگوں کو دعوت دینا شروع کردے گا تو پھر وہ باغی شمار ہوگا ، جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ اس سے جنگ کی جائے۔ یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹنے پر مجبور ہوجائے۔

فاسد مذہب اور حضرت علی (رض) کی رائے

حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ آپ کوفہ کی جامع مسجد میں منبر پر خطبہ دے رہے تھے کہ مسجد کے ایک گوشے سے خوارج کے ایک ٹولے نے (لاحکم الاللہ) ، حکم صرف اللہ کا چلے گا) کا نعرہ بلند کیا، آپ نے اپنا خطبہ منقطع کرکے فرمایا :

بات تو درست کہی گئی ہے۔ لیکن جس مقصد کے لیے کہی گئی ہے وہ غلط اور باطل ہے، لوگو ! سنو، ان لوگوں کے سلسلے میں ہمارا طریق کار یہ ہے کہ جب یہ ہمارا ساتھ دیتے رہیں گے ہم انہیں مال غنیمت میں سے ان کا حصہ ادا کرتے رہیں گے۔ ہم انہیں اپنی مسجدوں میں اللہ کی عبادت کرنے سے نہیں روکیں گے، اور جب تک یہ ہمارے خلاف ہتھیار نہیں اٹھائیں گے ہم ان کے خلاف کوئی جنگی کارروائی نہیں کریں گے۔

حضرت علی (رض) نے لوگوں کو یہ بتایا کہ ان خارجیوں کے خلاف اس وقت تک قتال واجب نہیں ہوگا جب تک وہ جنگ پر کمربستہ نہ ہوجائیں۔

جب حروراء کے مقام پر یہ لوگ آپ کے خلاف صف آراء ہوگئے تو آپ نے سب سے پہلے انہیں واپس آ ملنے کی دعوت دی، پھر ان کے ساتھ مباحثہ ومناظرہ بھی کیا جس کا یہ اثرہوا کہ بہت سے لوگ ان خارجیوں کا ساتھ چھوڑکر آپ کے لشکر سے آ ملے۔
یہ طرزعمل تاویل کی بنا پرفاسد مذاہب اختیار کرنے اور باطل عقائد رکھنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کی اصل اور بنیاد ہے۔

یعنی ایسے لوگ جب تک کھلم کھلا اپنے مذہب اور عقیدے کا پرچار نہ کریں اور اہل حق کے خلاف صف آرا نہ ہوجائیں اس وقت تک ان کے خلاف جنگی کارروائی نہیں کی جائے گی۔

 انہیں ان کے حال پرچھوڑدیا جائے گا، بشرطیکہ ان کا یہ مذہب اور عقیدہ صریح کفرنہ ہو، اس لیے کہ کسی کافر کو کفر کی حالت پرچھوڑ دینا جائز نہیں ہے بلکہ اس پر جزیہ عائد کرنا ضروری ہے۔ جبکہ ایسا شخص جو تاویل کی بنا پر کفراختیار کرلے اسے جزیہ پر قرار رکھنا جائز نہیں ہے۔

اس لیے کہ اس کی حیثیت مرتد جیسی ہوگی۔ کیونکہ اس نے پہلے توحید کا اقرار کیا تھا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آیا تھا۔ اس لیے اب اگر وہ ان باتوں کو تسلیم نہ کرتے ہوئے کوئی اور راستہ اختیارکرے گا تو وہ مرتد قرارپائے گا۔

تاویل کرنے والے گمراہ مذاہب کے بارے میں ابوالحسن کی رائے

بعض لوگ انہیں اہل کتاب کا درجہ دیتے ہیں، ابوالحسن یہی کہا کرتے تھے۔ چنانچہ ان کے قول کے مطابق ایسے لوگوں کی بیٹیوں سے نکاح جائز ہے لیکن مسلمانوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنی بیٹیاں انہیں نکاح میں دیں۔ ان کا ذبیحہ بھی کھانا درست ہے اس لیے کہ یہ لوگ اپنے مذہب کی نسبت قرآن کے حکم کی طرف کرتے ہیں۔ اگرچہ قرآن پر عمل پیرا ہونے کے لیئے تیار نہیں ہوتے۔

جس طرح کہ کوئی شخص نصرانیت یایہودیت کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرلے، اس کا حکم بھی یہودیوں اور نصرانیوں جیسا ہوگا۔ اگرچہ وہ ان کی شریعت کی تمام باتوں کی پابندی نہ بھی کرتا ہو۔

قول باری ہے (ومن یتولھم منکم فانہ منھم) تم میں سے جو شخص ان کے ساتھ  دوستی گانٹھے گا وہ ان ہی میں سے ہوجائے گا۔

امام محمد کی رائے

امام محمد نے، الزیادات، میں فرمایا ہے کہ اگر کوئی شخص ایسے باطل عقائد اختیار کرلیتا ہے جن کے ماننے والوں کی تکفیر کی جاتی ہے، تو ایسے شخص کی وصیتیں مسلمانوں کی وصیتوں کی طرح ہوں گی، یعنی مسلمانوں کی وصیتوں کی جو صورتیں جائڑہوں گی ان کی بھی جائز ہوں گی اور جو ناجائز ہوں گی ان کی بھی ناجائز ہوں گی۔

امام محمد کی یہ بات بعض صورتوں میں اس مسلک کی موافقت پر دلالت کرتی ہے جو ابوالحسن نے اختیار کیا تھا۔

بعض دیگر اہل علم کی آراء

بعض لوگوں کے نزدیک ان کی حیثیت ان منافقین کی طرح ہے جو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں پائے جاتے تھے۔ اس کے باوجود کہ اللہ تعالیٰ کو ان کے کفرونفاق کا علم تھا یا انہیں ان کے نفاق پر قائم رہنے دیا گیا۔

کچھ لوگوں کے نزدیک ان کی حیثیت ذمیوں جیسی ہے۔ جو لوگ یہ بات تسلیم نہیں کرتے انہوں نے منافقین اور اہل الذمہ کے درمیان یہ فرق کیا ہے کہ اگر ایک منافق کے نفاق کا علم ہوجائے تو ہم اسے اس پر برقراررہنے نہیں دیں گے اور اس سے اسلام یا تلوار کے سوا اور کوئی بات قبول نہیں کریں گے، اس کے برعکس ذمیوں سے جزیہ لے کر انہیں ان کی حالت پر برقراررکھاجاتا ہے جبکہ ایسے لوگوں سے جزیہ لینا جائز نہیں ہے جو تاویل کی بنا پرکفر میں مبتلا ہوں اور اپنی نسبت اسلام کی طرف کرتے ہوں انہیں جزیہ کے بغیر چھوڑنا بھی درست نہیں ہے۔ اس لیے اس بارے میں ان کا حکم یہ ہے کہ ہمیں ان میں سے کسی کے متعلق جب کفر کے اعتقاد کاعلم ہوجائے گا تو اس پر اسے برقرار رہنے دیا جانا جائز نہیں ہوگا۔ بلکہ اس پر مرتدین کے احکامات جاری کیئے گے۔ اس پر کافروں کے احکام جاری کرنے کے سلسلے میں اس امکان پر انحصار نہیں کیا جائے گا کہ ہوسکتا ہے کہ اس کا عقیدہ درست ہو اور اسے غلطی لگ گئی ہوبل کہ وہ اپنے مافی الضمیرکا اظہار کرتے ہوئے اگر ہمارے سامنے ایسے اعتقاد کا اظہارکرے گا جو اس کی تکفیرواجب کردے تو اس صورت میں اس پر مرتدین کے احکام جاری کرنا جائز ہوگا یعنی اس سے یہ مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ اپنے اس غلط عقیدے سے توبہ کرے۔ ورنہ اسے قتل کردیا جائے گا۔ واللہ اعلم۔

وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَنُدْخِلَنَّهُمْ فِي الصَّالِحِينَ (العنکبوت:9)
اور جو لوگ ایمان لائے ہیں، اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں، ہم انہیں ضرور نیک لوگوں میں شامل کریں گے۔

 تشریح:

 نیک اہل ایمان کو صالحین کے گروہ میں شامل کرنے کا یہ وعدہ دنیا کے لیے بھی ہے اور آخرت کے لیے بھی۔ اس مژدہ جانفزا کے مفہوم کو بھی مکہ کے مذکورہ حالات کے پس منظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے ‘ جہاں اہل ایمان اپنے پیاروں سے کٹ رہے تھے ‘ والدین اپنے جگر گوشوں کو چھوڑنے پر مجبور تھے ‘ اولاد والدین کی شفقت و محبت سے محروم ہو رہی تھی اور بھائی بھائیوں سے جدا ہو رہے تھے۔

جیسے سردار قریش عتبہ بن ربیعہ کے بڑے بیٹے حذیفہ (رض) ایمان لے آئے جبکہ چھوٹا بیٹا ولید کافر ہی رہا۔ (عتبہ اور اس کا بیٹا ولید غزوہ بدر میں سب سے پہلے مارے جانے والوں میں سے تھے۔ )

اگر انسانی سطح پر دیکھا جائے تو حضرت حذیفہ (رض) کے لیے یہ بہت کڑا امتحان تھا۔

بہرحال جو صحابہ (رض) اس آزمائش اور امتحان سے دو چار ہوئے انہوں نے غیر معمولی حوصلے اور استقامت کا مظاہرہ کیا۔ لیکن آخر تو وہ انسان تھے ‘ اندر سے ان کے دل زخمی تھے اور ان کے زخمی دلوں پر مرہم رکھنے کی ضرورت تھی۔

چنانچہ آیت زیر نظر کو اس سیاق وسباق میں پڑھا جائے تو اس کا مفہوم یوں ہوگا کہ اے میرے جاں نثار بندو ! اگر تم لوگ مجھ پر اور میرے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لا کر اپنے والدین ‘ بھائی بہنوں اور عزیز رشتہ داروں سے کٹ چکے ہو تو رنجیدہ مت ہونا۔ دوسری طرف ہم نے تمہارے لیے نبی رحمت اور اہل ایمان کے گروہ کی صورت میں نئی محبتوں اور لازوال رفاقتوں کا بندوبست کردیا ہے۔

ہمارے ہاں تمہارے لیے ایک نئی برادری تشکیل پا رہی ہے جس کی بنیاد ایک مضبوط نظریے پر رکھی گئی ہے۔ اب تم لوگ اس نئی برادری کے رکن بن کر ہمارے برگزیدہ بندوں کے گروہ میں شامل ہوگئے ہو ‘ جہاں رحمۃٌ للعالمین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ لوگوں کو اپنے سینے سے لگانے کے لیے منتظر ہیں اور جہاں ابوبکر صدیق (رض) اپنے ساتھیوں سمیت تم لوگوں پر اپنی محبت و شفقت کے جذبات نچھاور کرنے کو بےقرار ہیں۔

اس حوالے سے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی بار بار یاد دہانی کرائی جا رہی ہے (سورة الحجر : ٨٨ اور سورة الشعراء : ٢١٥) کہ مومنین کے لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے کندھوں کو جھکا کر رکھیے اور ان کے ساتھ محبت و رأفت کا معاملہ کیجیے۔

دوسری طرف صالحین کے گروہ میں شمولیت کی اس خوشخبری کا تعلق آخرت سے بھی ہے ‘ جس کا واضح تر اظہار سورة النساء کی اس آیت میں نظر آتا ہے : (وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰٓءِکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّہَدَآءِ وَالصّٰلِحِیْنَج وَحَسُنَ اُولٰٓءِکَ رَفِیْقًا ) ” اور جو کوئی اطاعت کرے گا اللہ کی اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تو ایسے لوگوں کو معیت حاصل ہوگی ان لوگوں کی جن پر اللہ کا انعام ہوا یعنی انبیاء کرام ‘ صدیقین ‘ شہداء اور صالحین۔ اور کیا ہی اچھے ہیں یہ لوگ رفاقت کے لیے ! “

 اَلصَّالِحِیْنَ سے مراد ہیں انبیاء ‘ اولیاء ‘ شہداء۔ یعنی ہم نیکوکار مومنوں کو انبیاء ‘ اولیاء وغیرہ کے ساتھ شامل کردیں گے یا ان کا حشر ان لوگوں کے ساتھ کریں گے یا جنت میں ان کے ساتھ ان کو داخل کریں گے ‘ جنت میں سب ساتھ ہوجائیں گے۔
صلاح اور نیکی میں کمال مومنوں کے درجات کی انتہا ہے اور انبیاء مرسلین کی تمنا کا بھی یہ ہی آخری نقطہ ہے کیونکہ کمال صلاح کا معنی یہ ہے کہ کسی طرح کا بگاڑ اور خرابی نہ ہو ‘ نہ عقیدہ میں ‘ نہ عمل میں ‘ نہ اخلاق و مشاغل زندگی میں۔