خیر الوریٰ محمد ﷺ، خیر الامم صحابہؓ

خیر الامم صحابہ

خیر الوریٰ محمد ﷺ، خیر الامم صحابہؓ

رشکِ ملائکہ تھے، فخرِ حرم صحابہؓ

ان کے سروں پہ ہردم برپا رہی قیامت

ہنس کر گلے لگاتے ہر ہر ستم صحابہؓ

سارے ملَک بھی ششدر، چشمِ فلک بھی ششدر

یوں کرگئے وفا کی سرخی رقم صحابہؓ

قرآں میں جابجا ہیں اوصاف ان کے وارد

بابِ حِکَم صحابہؓ ، بحرِ کرم صحابہؓ

قرآن کے مبلغ ، اسلام کے محافظ

لہرا گئے ہیں دیں کا ہر سو علَم صحابہؓ

ہر سمت ان کی عظمت کا اڑ رہا ہے جھنڈا

نازِ عرب صحابہؓ ، رشکِ عجم صحابہؓ

کچھ اس ادا سے تم نے دامن نبیؐ کا تھاما

معیار ہیں تمہارے نقشِ قدم صحابہؓ!

فہم وذکاء کے پیکر، عزم ووفا کے خوگر

سارے ہی جنتی ہیں رب کی قسم ! صحابہؓ

دینِ نبی کی کرنیں ہر سو بکھیرتے تھے

رشد وہدیٰ کے تھے سب ماہِ اتم صحابہؓ

اپنے نصیب پر ہے نازاں جمیلؔ بے حد

اس کے قلم کا عنواں ہیں محترم صحابہؓ