خلیفہ چہارم داماد رسول، شوہر بتول، شیر خدا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ

سلسلہ تعارف اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

خلیفہ چہارم داماد رسول، شوہر بتول، شیر خدا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ

🔹نام مبارک: علی ،
🔹کنیت: ابوالحسن ،ابوتراب۔
🔹لقب: حیدر ومرتضیٰ۔
🔹والد کانام: ابو طالب۔
🔹والدہ کانام: فاطمہ بنت اسد۔

🔹سلسلہ نسب:🔹 علی بن ابی طالب بن عبد المطلب بن ہاشم بن بن عبد مناف بن بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی القرشی ہاشمی۔

🔹تاریخ پیدائش🔹
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: صحیح قول کے مطابق آپ کی ولادت بعثت نبوی سے دس برس قبل ہوئی ۔
(الاصابۃ ج:۲،ص:۱۲۹۴)
روافض نے بھی یہی لکھا پیدائش واقعہ فیل کے ۳۰/سال بعد اور ہجرت سے ۲۵/یا۲۳/سال پہلے مکہ مکرمہ میں ہوئی۔{نورالابصار،ص:۸۵]۔

🔹قبول اسلام🔹 آپ کے والد جناب ابو طالب اپنے دوسرے بھائیوں کی طرح خوشحال نہ تھے ،مکہ کے مشہور قحط کی وجہ سے ان کی مالی حالت اور زیادہ کمزور ہوگئی تھی جبکہ آپ کثیر العیال تھے ۔حضور رحمت عالم ﷺ سے آپ کی تکلیف نہ دیکھی گئی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی پرورش کی ذمہ داری اپنے ذمہ لےلیا ،اس طرح سے حضرت علی رضی اللہ عنہ آغوش رسالت میں پرورش پا کر شعور کی منزل کو پہنچے۔بعثت کے ابتدائی ایام میں انہوں نے آپ ﷺ اور ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبری کو نمازپڑھتے دیکھا تو حیرت سے دریافت کیا کہ آپ دونوں کیا کر رہے ہیں؟رسول گرامی وقار ﷺ نے ارشاد فر مایا کہ: یہ اللہ کا دین ہے جس کو اللہ نے اپنے لئے پسند فر مایا ہے اور اسی کے لئے انبیائے کرام کو مبعوث فر مایا ہے۔میں تمہیں بھی خدائے وحدہ لاشریک کی طرف بلاتا ہوں جو تنہا معبود ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔حضور کی صحبت اور تربیت کی برکتوں نے آپ کی فطرت سلیم کو پہلےہی نِکھار دیا تھا چنانچہ ایک رات سوچنے کے بعد آپ نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کر لیا۔اسلام لانے سے پہلے آپ کا دامن عرب کے جاہلی رسوم اور اوثان پر ستی سے کبھی بھی داغدار نہ ہوا۔

🔹ہجرت🔹 جب کفاران مکہ نے خفیہ طریقے سے حضور نبی رحمت ﷺ کو قتل کرنے کا مکمل منصوبہ بنا لیا اور یہ معاملہ طےہوگیا کہ آج رات ہر قبیلہ کا ایک نوجوان ننگی تلوار لے کر کا شانہء نبوت کا محاصرہ کرے گا اور پیغمبر اسلام ﷺ پر اچانک حملہ کر کے ان کا کام تمام کردے گا۔تو اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے اپنے حبیب ﷺ کو کفاروں کے مکرو فریب پر مطلع فر مایا ۔حضور اکرم ﷺ نے اس وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ارشاد فر مایا کہ: آج رات میرے بستر پر سو جانا اور میرے پاس جو مکہ والوں کی امانتیں ہیں انہیں واپس کر کے تم بھی مدینہ چلے آنا۔چنانچہ حضور اکرم ﷺ اس رات حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہجرت کر گئے۔اور حضرت علی رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے فر مان کے مطابق اُس رات جبکہ گھر کے چاروں طرف دشمنان اسلام ننگی تلواریں لئے پہرہ دے رہے تھے ۔آپ اطمینان کے ساتھ حضور کے بستر پر سوئے رہے اس کے بعد آپ تین دن تک اہل مکہ کی امانتوں کو واپس کرتے رہےپھر آپ بھی ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لے گئے۔

🔹حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی:🔹سن ۲/ہجری میں حضور نبی کریم ﷺ نے اپنی سب سے چہیتی لخت جگر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح آپ کے ساتھ کر دیا اور بعد نکاح خیر وبرکت کی دعا فر مائی۔اور حافظ ابن حجر نے”الاصابہ” میں تحریر فر مایا کہ:نکاح ماہ رجب سن ۱/ہجری میں ہوا اور رخصتی غزوہ بدر کے بعد سن ۲/ہجری میں ہوئی۔اس وقت حضرت سیدہ کی عمر مبارک ۱۸/سال کی تھی۔واللہ اعلم۔{خلفائے راشدین،ص:۴۳۲۔۴۳۳۔معارف صحابہ،جلد وال،ص:۳۴۹]۔

🔹خلافت:🔹 آپ پوری زندگی اسلام کی خدمت کرتے رہے ۔سن۳۵/ہجری میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد اکابر صحابہ کرام کے اصرار پر آپ نے خلافت کو قبول فر مایا اور پانچ سال یعنی ۴۰/ہجری تک سخت دشواریوں اور مصیبتوں کے باوجود منہج نبوت پر کارِ خلافت انجام دینے کا شرف حاصل کیا۔

فضائل ومناقب: آپ کے عظیم فضائل ومناقب سے متعلق کتب احادیث میں متعدد روایتیں موجود ہیں ان میں سے چند یہ ہیں۔

🔸[1] حضور نبی کریم ﷺ نے فر مایا کہ:میں جس کا مولیٰ{ولی} ہوں علی بھی اس کے مولیٰ{یعنی ولی} ہیں۔[ ترمذی،حدیث:۳۷۱۳

🔸[2] حضور نبی کریم ﷺ نے فر مایا کہ:میں حکمت کا گھر ہوں اور علی اس کے دروازے ہیں۔[ ترمذی،حدیث:۳۷۲۳

🔸[3] حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فر مایا کہ: بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے چار لوگوں سے محبت کرنے کا حکم دیا اور مجھے بتایا کہ وہ بھی ان لوگوں سے محبت فرماتا ہے۔صحابہ کرام نے عرض کیا کہ:یا رسول اللہ ﷺ!ہمیں ان لوگوں کا نام بتائیے۔تو حضور اکرم ﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فر مایا کہ:علی،انہیں میں سے ہیں اور ابوذر،مقداداور سلمان ہیں۔
{ترمذی،حدیث:۳۷۱۸}

🔸[4] حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتےہیں کہ:نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابہ کے درمیان آپس میں ایک کو دوسرے کا بھائی بنایا تو حضرت علی روتے ہوئے آئے اور عرض کیا کہ:یا رسول اللہ ﷺ!آپ نے ہر ایک کو دسرے کا بھائی بنادیا ہے اور مجھے کسی کا بھائی نہیں بنایا تو رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فر مایا کہ:تو میرا بھائی ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔
[ترمذی،حدیث:۳۷۲۰]۔

🔸[5] حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فر مایا کہ: حسن اور حسین جنتی جوانوں کے سردار ہیں اور ان کے والدین {یعنی حضرت علی اور فاطمہ ر ضی اللہ عنہما } اُن دو نوں سے بھی بہتر ہیں ۔
[ابن ماجہ، حدیث :۱۱۸]۔

🔹*قوت اجتہاد :🔹 حضرت علی رضی اللہ عنہ کو فقہ و اجتہاد میں بڑی دسترس حاصل تھی۔بڑے بڑے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ کی قوت اجتہاد کے معترف تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ فقہ حنفی کی بنیاد حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اجتہادی فیصلوں پر ہے ۔آپ کے اجتہادی مسائل میں چند درج ذیل ہیں ۔
آپ کے دور میں کچھ لوگوں کا نظریہ یہ تھا کہ اگر امت میں اختلاف ہو جائے تو فیصلہ صرف قرآن سے کرانا چاہیے۔آپ نے لوگوں کو جمع کر کے فرمایا کہ اگر زوجین میں اختلاف ہو جائے تو اللہ تعالیٰ حَكَم اور ثالث بنانے کا حکم دیتے ہیں ۔آپ کا اشارہ آیت

’’وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا ‘‘ کی طرف تھا یعنی اگر امت میں اختلاف ہو جائے تو ثالث بنانا کیوں ناجائز ہو گا ؟کیا امت محمدیہ کا مقام و مرتبہ مرد وعورت سے بھی کم ہے۔
(مسند احمد ج:۱، ص:۴۵۳ ،رقم الحدیث ۶۵۶)

مجتہد کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ ایک مسئلہ کی مختلف احادیث کو سامنے رکھتا ہے۔ پھر اپنی اجتہادی قوت سے ایک کو ترجیح دیتاہے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ میں یہ خصوصیت کمال درجہ کی تھی۔ چند مسائل درج ذیل ہیں جن کے متعلق احادیث کا ایک ذخیرہ موجو دہے۔حضرت علیؓ نےان میں سے ایک جانب کو ترجیح دی ۔

🔹*ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا🔹 نماز میں ہاتھ کہاں باندھے جائیں ؟ اس بارے میں حدیث کا ایک ذخیرہ موجود ہے۔حضرت علی ؓ ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے کوسنت قرار دیتے ہیں فرماتےہیں: ’’ السُّنَّةُ وَضْعُ الكفِّ عَلَى الْكَفِّ فِى الصَّلاَةِ تَحْتَ السُّرَّةِ ‘‘۔
(سنن ابی داؤد ج:۱،ص:۱۱۷)

ایک روایت میں ہے:
عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : مِنْ سُنَّةِ الصَّلاَةِ وَضْعُ الأَيْدِي عَلَى الأَيْدِي تَحْتَ السُّرَرِ۔
(مصنف ابن ابی شیبہ ج:۱،ص:۴۲۷، رقم الحدیث۱۳)
ترجمہ : نماز میں ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا سنت ہے۔

🔹*ترک قراءت خلف الامام :🔹 حضرت علی المرتضیٰ کا نظریہ یہ تھا کہ مقتدی امام کے پیچھے قراۃ نہ کرے۔ چنانچہ فرماتے ہیں: ’’ مَنْ قَرَأَ خَلْفَ

الإِمَامِ فَقَدْ أَخْطَأَ الْفِطْرَةَ ‘‘
(مصنف ابن ابی شیبہ ج:۱ ص:۴۱۲ رقم الحدیث ۶)

ترجمہ: جوشخص امام کے پیچھے قرات کرتا ہے وہ فطرت کی مخالفت کرتا ہے ۔

🔹*آمین آہسۃ کہنا 🔹 ابو وائل کہتے ہیں:

’’ كَانَ عُمَرُ وَعَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا لَا يَجْهَرَانِ ببِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وَلَا بِالتَّعَوُّذِ , وَلَا بِالتَّأْمِينِ ‘‘
(سنن الطحاو ی ج:۱ص:۱۵۰، باب قراۃ بسم اللہ الرحمن الرحیم فی الصلوۃ)

ترجمہ : حضرت عمر اور حضرت علی نماز میں تعوذ ،تسمیہ اور آمین آہسۃ کہتے تھے ۔

🔹*ترک رفع یدین 🔹 حضرت علی المرتضی ٰ صرف شروع میں رفع یدین کرتے تھے :

’’ان علی بن ابی طالب کرم اللہ وجھہ کان یرفع یدیہ فی التکبیرۃالاولیٰ التی یفتتح بھا الصلوۃ ثم لایرفعھما فی شئی من الصلوۃ ‘‘
(موطا امام محمد ص:۹۴ ،باب افتتاح الصلوۃ،کتاب الحجۃ امام محمد ج:۱ص:۷۶)

ترجمہ : حضرت علی المرتضیٰ صرف تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین کرتے تھے ،اس کے بعد نہیں کرتے تھے ۔ دوسری روایت میں ہے:

’’کان یرفع یدیہ فی التکبیرالیٰ فروغ اذنیہ ثم لایرفعھما حتیٰ یقضی صلاۃ‘‘
(مسندالامام زید ص:۸۸ رقم الحدیث ۷۴ ،باب التکبیر فی الصلوٰۃ)

ترجمہ : حضرت علی المرتضیٰ تکبیر تحریمہ کے وقت کانوں تک ہاتھ اٹھاتے،اس کے بعد آخر تک دوبارہ رفع یدین نہ کرتے تھے ۔

*حضرت علی المرتضیٰ کا مسلک یہ تھا کہ دیہات اور گاؤں میں جمعہ اور عیدین کی نماز درست نہیں ۔آپ کا فرمان ہے:*

’’ لاَ جُمُعَةَ ، وَلاَ تَشْرِيقَ ، وَلاَ صَلاَةَ فِطْرٍ ، وَلاَ أَضْحَى ، إِلاَّ فِي مِصْرٍ جَامِعٍ ، أَوْ مَدِينَةٍ عَظِيمَةٍ ‘‘

(مصنف ابن ابی شیبہ ج:۲ ص:۱۰)

مجتہد کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ الفاظ حدیث کے ساتھ ساتھ منشائے نبوت کو بھی ملحوظ رکھتا ہے۔ یہ خوبی حضرت علی ؓ میں بدرجہ اتم موجود تھی ۔ چنانچہ آپ ہی سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک نوکرانی سے بدکاری سرزد ہوگئی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ اس کو حد لگا ؤ میں نے جا کر دیکھا تو اس کے ہاں بچہ کی ولادت ہوئی تھی۔ مجھے خدشہ ہوا کہ اگر میں نے اس کو سزا دی تو یہ مر جائے گی۔ میں بغیر سزادیئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ کو واقعہ بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’احسنت‘‘تو نے بہت خوب کیا ۔
(صحیح مسلم ج:۲ ص:۷۱ باب حد الزنا)

اسی طرح ایک اور موقع پرآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایک صحابی پر لوگوں نے زنا کی تہمت لگائی۔ آپ نےحضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اس شخص کو قتل کردو۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ گئے تو دیکھا کہ وہ ایک کنویں میں پاؤں لٹکائے بیٹھا ہے۔آپ رضی اللہ عنہ نے اسے پکڑا تو معلوم ہو اکہ وہ شخص تو حقوق زوجیت ادا کرنے پر قادر ہی نہیں تو آپ نے اس کو قتل نہ کیا ۔
(صحیح مسلم ج:۲ ص:۲۶۸ باب براۃ حرم النبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ من الریبۃ )

ملاحظہ فرمائیں دونوں روایتوں میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا عمل بظاہر الفاظ حدیث کے مخالف ہے مگر منشائے نبوت کے عین مطابق ہے مجتہد کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ امت میں پیش آنے والے نئے مسائل کے حل کی فکر میں رہتا ہے۔ حضرت علی المرتضیٰ اس خوبی سے بھی متصف تھے۔

*چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ نے حضور سے پوچھا:*

یا رسول اللہ ان نزل بنا امر لیس فیہ بیان امر ولا نھی فماتا مرونا؟

حضور اگر ہمیں کوئی ایسا مسئلہ ہو پیش آجائے جس کا حل وضاحت کے ساتھ نص میں نہ ہو تو ہم وہ مسئلہ کیسے حل کریں گے ؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا

’’تشاورون الفقہاء والعابدین ‘‘
ایسے مسائل میں مجتھد ین اور فقہاء کی طرف رجوع کرنا وہ ان مسائل کو حل کر دیں گے۔
(المعجم الاوسط طبرانی ج:۱ص:۴۴۱ رقم الحدیث ۱۶۱۸ )

🔹شہادت🔹 سن ۴۰/ہجری میں ایک منظم منصوبے کے تحت ابن ملجم نے اس وقت جبکہ آپ نماز فجر کے لئے مسجد کوفہ میں جارہے تھے کہ آپ پر حملہ کر دیا جس کی وجہ سے آپ کی شہادت واقع ہوئی۔تاریخ شہادت کے بارے میں مورخین کا اختلاف ہے۔علامہ ابن حجر کے مطابق حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت ۱۷/رمضان المبارک سن ۴۰/ہجری میں ہوئی۔جبکہ طبقات ابن سعد اور تاریخ الخلفاء میں یہ وضاحت موجود ہے کہ:۱۷/رمضان المبارک کو آپ پر حملہ ہوا اس کےبعددودن تک آپ بقید حیات رہے اور ۱۹/رمضان المبارک کو آپ اس دارِفانی سے کوچ کر گئے۔اکثر مورخین کے نزدیک یہی راجح قول ہے۔
{اسد الغابہ،ج:۴/ص:۱۱۳۔
طبقات ابن سعد،ج:۳/ص: ۳۶۔
تاریخ الخلفاء،ص:۱۳۹}
۲۱/رمضان المبارک کا بھی قول کیا گیا ہے۔
واللہ اعلم بالصواب۔