خلیفہ سوم، داماد نبی، ناشر القرآن، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ

🔴سلسلہ تعارف اصحابِ رسولﷺ🔴

خلیفہ سوم، داماد نبی، ناشر القرآن، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ

🔹نام مبارک:عثمان،

🔹کنیت: ابو عبد اللہ، ابوعمرو۔

🔹لقب: ذوالنورین،غنی۔

🔹والد کا نام: عفان۔

🔹والدہ کا نام: اروی بنت کریز بن ربیعہ بن حبیب بن عبد شمس بن عبد مناف بن قصی۔

🔹سلسلہ نسب: عثمان بن عفان بن ابی العاص بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف بن قصی قرشی اموی۔

🔹تاریخ پیدائش: آپ کی ولادت باسعادت واقعہ فیل کے چھٹے سال{ہجرت سے ۴۷ سے پہلے} قریش کے ایک ممتاز گھرانے میں ہوئی۔
[استیعاب،ج:۳/ص:۱۰۳۸]

🔹قبل از اسلام: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے عرب کے شریف زادوں کی طرح بڑے نازونعم میں پرورش پائی اور مروجہ علوم وفنون کی تحصیل کے بعد اپنے آبائی پیشہ تجارت سے وابستہ ہوگئے اور اپنی دیانت و راست بازی کی وجہ سے بہت جلد ترقی کرکے قریش کے دولت مند لوگوں کی صف میں شامل ہوگئےاور غنی کے لقب سے یاد کئے جانے لگے۔

🔹قَبول اسلام: حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ فطرتا سلیم الطبع،حلیم وبردباد واقع ہوئے تھے ۔عہد جاہلی کے پُر آشوب معصیت شعارماحول میں بھی آپ کا دامن بت پرستی، شراب نوشی، جوابازی، بدکاری جیسے مذموم کاموں کے داغ سے پاک رہا۔آپ رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس اٹھتے بیٹھتے تھے۔ظہور اسلام کے بعد آپ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو اسلام لانے کی ترغیب دی اور ان کو رسولِ کریم ﷺ کی خدمت میں لے کر گئے۔اور آپ نے اسلام قبول کر لیا۔

🔵شرف دامادی: دولت دنیا کے ساتھ دولت ایمان سے بہرہ مند ہونے کے بعد سرکار علیہ الصلوٰۃ والسلام نےآپ کو شرف دامادی بخشا اور اپنی منجھلی صاحبزادی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کو آپ کے عقد میں دیا۔جنگ بدر کے موقع پر جب ان کا انتقال ہوگیا تو حضور اکرم ﷺ نے اپنی دوسری صاحبزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہاکا نکاح آپ سے کر دیاپھر جب ان کا بھی انتقال ہوگیا تو حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فر مایا کہ:اگر میرے پاس تیسری بیٹی بھی ہوتی تو میں اس کا بھی نکاح عثمان سے کر دیتا۔
[اسد الغابہ،ج:۲/ص:۲۴۹]

🔵ہجرت: قبول اسلام کی وجہ سے آپ کو سخت مصائب وآلام کا سامنا کرنا پڑا،کیو نکہ وہ لوگ جو اسلام اور مسلمانوں کو مٹانے پر تلے ہوئے تھے ان میں آپ کے خاندان کے لوگ قائد کا رول نبھا رہے تھے اس لئے یہ بات ان کے لئے ناقابل برداشت تھی کہ ان ہی کے خاندان کا کوئی فرد اسلام قبول کر لے۔چنانچہ آپ کے خاندان کے لوگوں نے آپ کو برا بھلا کہا اور آپ کے حقیقی چچا حکم بن ابی العاص نے آپ کو باندھ کر مارا،لیکن ان آزمائش کی سخت گھڑیوں میں بھی آپ مکمل طور سے ثابت قدم رہے۔
ایک زمانے تک آپ پر اور دوسرے مسلمانوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جاتے رہے ۔پھر جب حق کے علمبرداروں کو یہ محسوس ہونے لگا کہ بغیر وطن اور عزیز واقارب کو چھوڑے دین حق کی نشر واشاعت نہیں ہو سکتی ہے تو آقائے کریم ﷺ نے ملک حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت عطا فر مائی ۔چنانچہ نبوت کے پانچویں سال سب سے پہلی مرتبہ دین حق کی خاطر اپنا سب کچھ چھوڑ کر ایک قافلہ ہجرت کرنے کے لئے تیار ہوا جس میں ۱۱/مرد اور ۴/عورتیں تھیں اور یہ قافلہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی قیادت میں حبشہ کی طرف روانہ ہوا،اس سفر میں حضرت عثمان کے ساتھ ان کی اہلیہ محترمہ حضرت رقیہ بنت رسولﷺ بھی تھیں۔
یہ سارے لوگ حبشہ ہی میں اقامت گزیں ہو گئے پھر ایک خبر پا کر مسلمان وہاں سے مکہ آنے لگے تو آپ بھی مکہ واپس آگئے،لیکن خبر جھوٹی ثابت ہوئی تو پھر کچھ لوگ دوبارہ حبشہ چلے گئے مگر آپ مکہ ہی میں رہے ۔مکہ کی فضا اہل اسلام کے لئے پہلے سے کہیں زیادہ تاریک ہو چکی تھیں اور مسلمان ناقابل برداشت ظلم وستم سے دوچار تھے۔آخر کار ہجرت کی عام اجازت ہوئی تو دوسرے صحابہ کی طرح آپ بھی ہجرت کر کے مدینہ شریف چلے آئے۔

🔹فضائل و مناقب🔹
خاص آپ کے فضائل ومناقب سے متعلق کثیر روایتیں کتب احادیث میں وارد ہیں ،ان میں سے چند حاضر ہیں۔

🔸[1] رسول اکرمﷺ نے ارشاد فر مایا کہ: جنت میں ہر نبی کا ایک ساتھی ہوگا اور جنت میں میرے ساتھی عثمان ہو ں گے۔
[ترمذی، حدیث: ۳۶۹۸]۔

🔸[2] حضرت سہل بن سعد رضی اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضور اکرمﷺ سے پوچھا کہ:کیا جنت میں برق {یعنی جگمگاہٹ} ہوگی؟ تو حضور ﷺ نے ارشاد فر مایا کہ:قسم ہے اُس ذات کی جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے!بے شک عثمان جب ایک منزل سے دوسری منزل کی طرف منتقل ہوگا تو جنت ان کے لئے جگمگائے گی۔
[المستدرک علی الصحیحین،کتاب معرفۃ الصحابہ، حدیث:۴۵۴۰]۔

🔸[3] حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ:ہم لوگ نبی کریمﷺ کے زمانے میں حضرت ابو بکر کے برابر کسی کو نہیں سمجھتے تھے پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اور ان کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو سمجھتے تھے اور ان کے بعد ہم لوگ حضورکے صحابہ میں کسی کو کسی پر فضیلت کی بات نہیں کرتے تھے۔
[صحیح بخاری،حدیث:۳۶۹۸۔ترمذی،حدیث:۳۷۰۶]۔

🔸[4] حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:بیعت رضوان کے موقع پر حضور نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو مکہ بھیجا تھا پھر جب ان کے جانے کے بعد صحابہ نے حضورﷺ ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر بیعت کیا تو حضور نے اپنے داہنے ہاتھ کے بارے میں فر مایا کہ”یہ عثمان کا ہاتھ ہے”اور آپ نے اسے اپنے بائیں ہاتھ پر رکھ کر فر مایا کہ:یہ بیعت عثمان کی طرف سے ہے۔
🔸[صحیح بخاری،حدیث:۳۶۹۸۔ترمذی،حدیث:۳۷۰۶]۔

🔹اعزازات🔹
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یکے بعد دیگرے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دو بیٹیاں آپ کے نکاح میں آئیں۔جب آپ رضی اللہ عنہ کی بیوی سیدہ حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر میری سو بیٹیاں ہوتیں تو میں ایک ایک کر کے عثمان کے نکاح میں دے دیتا۔
(مرقاۃ شرح مشکوۃ ج11ص231باب مناقب عثمان بن عفان،الفصل الثالث)

حضرت نبی کریم ﷺ نے فرمایا
“لکل نبی رفیق ورفیقی فی الجنۃ عثمان”

(جامع الترمذی ج2ص689مناقب عثمان بن عفان)
ترجمہ: ہر نبی کا جنت میں ایک رفیق ہوگا اور میرا رفیق عثمان ہوگا۔

صلح حدیبیہ کے موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اپنا نمائندہ بنا کر مکہ مکرمہ بھیجا۔ (جامع ترمذی ج2ص689مناقب عثمان بن عفان)

🔹قوت اجتہاد و استنباط🔹
اپنے دور خلافت میں بہت سے اجتہاد فرمائے جن سے آپ کی شان فقاہت معلوم ہوتی ہے۔چند ایک کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔

🔹جمع قرآن 🔹
جب آپ خلیفہ بنے تو اسلام عرب سے نکل کر روم و ایران کے دور دراز علاقوں میں پھیل چکا تھا۔ قرآن مجید سات لغتوں پر نازل ہوا تھا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سات لغات پر تلاوت فرماتے تھے۔ قراءتوں کا یہ اختلاف دور دراز کے علاقوں میں بھی پھیل گیا جب تک لوگ اس حقیقت سے واقف تھے کہ قرآن کا نزول سات لغات پر ہوا ہے اس وقت تک ا اختلاف سے کوئی خرابی پیدا نہیں ہوئی تھی لیکن جب یہ اختلاف ان دور دراز کے مملک میں پہنچا جن میں یہ بات پوری طرح سے مشہور نہیں ہوئی تھی کہ قرآن سات لغات پر نازل ہوا ہے تو اس وقت جھگڑے پیدا ہونے لگے۔ بعض لوگ اپنی قراءت کو صحیح اور دوسری کو غلط کہنے لگے تو اس وقت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے امت کو لغت قریش پر جمع فرمایا۔ یہ آپ کی اجتہادی شان کا عظیم کارنامہ ہے۔

🔹ترک قراءت خلف الامام🔹
مشہور مسئلہ ہے کہ امام کے پیچھے قراءت کی جائے یا نہ؟ اس بارے میں احادیث و آثار کا ایک ذخیرہ موجود ہے۔ ترک قراءات کے متعلق آیت قرآنی وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا الایۃ اور احادیث مبارکہ کے پیش نظر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ترک قراءت کو ہی راجح قرار دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس مسئلہ میں حضرت ابو بکر صدیق، حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے اقوال کے ساتھ آپ کے قول کا بھی تذکرہ ملتا ہے۔ مثلاً۔۔۔
عن موسی بن عقبۃ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وابابکروعمر وعثمان کانوا ینہون عن القراءۃ خلف الامام۔
( مصنف عبدالرزاق ج2ص90،91حدیث754)

عن زید بن اسلم قال کان عشرۃ من اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ینہون عن القراءۃ خلف الامام اشد النہی ابوبکر الصدیق وعمر الفاروق وعثمان بن عفان۔
(عمدۃ القاری ج4ص449باب وجوب القراءۃ للامام والماموم)

یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دس صحابہ ایسے تھے جوسختی سے امام کے پیچھے قراءت کرنے سے منع فرماتے تھے۔ان میں سےحضرت ابوبکر ،حضرت عمر،اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم بھی تھے ۔

🔹جمعہ کی اذان ثانی🔹
آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے دور میں جمعہ کے لیے ایک اذان دی جاتی تھی۔ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا دور خلافت آیا اور مسلمانوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا تو آپ کے حکم سے اذان ثانی شروع ہوئی اور آج تک جاری ہے۔ حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ اس اذان کے متعلق فرماتے ہیں:
“فثبت الامر علی ذالک”
(صحیح بخاری ج1ص125کتاب الجمعۃ باب التأذین عندالخطبۃ)

یعنی اذان کا یہ طریقہ مستقل طور پر رائج ہوگیا۔

🔹دیت کی ادائیگی میں مال دینا🔹 آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے عہد سے دیت میں اونٹ لینے کا طریقہ چلا آ رہا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے دیت میں ان کی قیمت دینی بھی جائز قرار دی کیونکہ یہاں اونٹوں میں سوائے مال کے اور کوئی جہت نہیں پائی جاتی۔ قاضی القضاۃ امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے بھی اپنے دور میں یہی فتوی دیا۔

🔹امت کے متعلق آپ رضی اللہ عنہ کا نقطہ نظر🔹
آپ رضی اللہ عنہ کا نظریہ یہ تھا کہ مسلمانوں کو قرآن وسنت کے نام پر آزاد نہیں رہنا چاہیے بلکہ اپنے اسلاف کی پیروی کرنی چاہیے۔ اسی وجہ سے جب آپ خلیفہ مقرر ہوئے تو حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ سے عہد لیا کہ آپ رضی اللہ عنہ شیخین کریمین رضی اللہ عنہما کی سیرت پر چلیں گے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اس کو قبول کرلیا۔ آپ رضی اللہ عنہ مجتہد ہونے کے باوجود حضرت ابوبکر ،حضرت عمر رضی اللہ عنہما کی پیروی کرتے تھےمثلاً حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور مبارک میں پورا مہینہ بیس رکعت تراویح پڑھی جاتی تھی، آپ نے انہی کی اتباع میں اسی پر دوام فرمایا ۔
عن السائب بن یزید قال کانوا یقومون علی عہد عمر بن الخطاب فی شہر رمضان بعشرین رکعۃقال وکانوا یقرءون بالمئین وکانوا یتوکئون علی عصیھم فی عہد عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ من شدۃ القیام

(سنن الکبری للبیہقی ج2ص496 باب ماروی فی عدد رکعات القیام فی شہر رمضان)
ترجمہ: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں بیس رکعات تراویح پڑھتے تھےاورحضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں لمبے قیام کی وجہ سے سہارا لے کر کھڑے ہوتے تھے۔
آپ رضی اللہ عنہ کا فرمان یہ تھا کہ مسلمانوں کو جب بھی عروج ملا ہے وہ اسلاف کے نقش قدم پر چلنے سے ملا ہے آپ رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے:

” إنما بلغتم ما بلغتم بالاقتداء والاتباع فلا تلفتنكم الدنيا عن أمركم”
(تاریخ طبری ج5ص45)

ترجمہ: تم جس مقام پر پہنچے ہو وہ پہلوں کی تقلید سے پہنچے ہو خیال کرنا دنیا کہیں تمہیں حکم الہی سے دوسری طرف نہ پھیر دے۔

🔹خلافت🔹
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے آخری وقت میں ایک کمیٹی بنائی جس میں حضرت عثمان،حضرت علی،حضرت سعد بن ابی وقاص،حضرت عبد الرحمن بن عوف، حضرت طلحہ بن عبد اللہ اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہم کو شامل کیا ۔اور ارشاد فر مایا کہ :یہ وہ لوگ ہیں کہ جب حضور ﷺدنیا سے تشریف لے گئے تو ان سے راضی اور خوش تھےاس لئے یہ لوگ جن کو خلیفہ بنادے وہی مسلمانوں کا خلیفہ ہوگا۔چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بعد اس کمیٹی کے اتفاق سے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ ۱/محرم الحرام ،سن ۲۴/ہجری میں حضور ﷺ کے تیسرے خلیفہ کے طور پر نامزد کئے گئے اور لوگوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کیا۔
[اسد الغابہ،ج:۲/ص:۲۵۳]۔

آپ نے کل بارہ سال تک خلافت کی ذمہ داری نبھائی جس میں چھ سال تو نہایت اطمینان و سکون کے ساتھ گزرااور مسلمانوں کی بڑی ترقی ہوئی مگر آخر کا چھ سال حضور ﷺ کی خبر کے مطابق کہ”اے عثمان اللہ تعالیٰ تمہیں {خلافت} کی قمیص پہنائے گا جسے منافقین اتارنا چاہیں گے مگر تم نہ اتارنا [ترمذی،حدیث:۳۷۰۵۔ابن ماجہ،حدیث:۱۱۲]

عبداللہ ابن سباء یہودی جو شیعہ مذہب کا بانی تھا اس نے آپ کو خلافت سے ہٹانے کا منصوبہ بنایا اور پھر آپ کے خلاف فتنہ وفساد کی آگ بھڑ کانا شروع کیامگر آخر وقت تک آپ حضور کی نصیحت پر جمے رہے اور صبر کرتے رہے یہاں تک ظالموں نے آپ کو شہید کردیا

🔹شہادت🔹: حضور اکرم ﷺ نے آپ کی شہادت کی خبر پہلے ہی دے دی تھی۔ چنانچہ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:نبی کریم ﷺ اُحد پہاڑ پر چڑھے اس وقت آپ کے ساتھ حضرت ابو بکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہم تھے ،اُحد پہاڑ کانپنے لگا تو حضور نے فر مایا: اےاُحد! ٹھہر جا،تجھ پر ایک نبی ہے ایک صدیق ہے اور دوشہید ہیں۔
[صحیح بخاری،کتاب فضائل الصحابہ،حدیث:۳۶۹۷]۔

اور آپ ﷺ نے اپنے آخری وقت میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو آنے والی مصیبت پر صبر کرنے کی وصیت بھی فر مائی تھی۔چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ:حضور اکرم ﷺ نے اپنے مرضِ وصال میں فر مایا کہ:میری خواہش ہے کہ میرے پاس میرا کوئی صحابی ہو۔تو ہم نے عر ض کیا کہ :یارسول اللہ!کیا ابوبکر کو بلائیں؟ تو حضور خاموش رہے پھر ہم نے عر ض کیا کہ:کیا عمر کو بلائیں ؟ پھر بھی حضور خاموش رہے۔پھر میں نے عر ض کیا:عثمان کو بلائیں؟ تو حضور نے کہا کہ:ہاں۔پھر حضرت عثمان آئے تو نبی کریم ﷺ نے ان سے گفتگو فر مائی تو حضرت عثمان کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔حضرت ابو سہلہ کہتے ہیں کہ:فتنہ کے دنوں میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فر مایا کہ: حضور نے مجھ سے ایک عہد لیا تھا تو میں اس عہد پر صابر ہوں۔[ابن ماجہ،حدیث:۱۱۳]۔

نیز حضور نے خود فتنہ کے دنوں میں آپ کے حق اور ہدایت پر ہونے کی خبر پہلے ہی صحابہ کو دے دی تھی۔حضرت مرہ بن کعب کا بیان ہے کہ:نبی کریم ﷺ نے فتنے کا ذکر کیا اور بتایا کہ وہ قریب ہی ہے اتنے میں ایک شخص کپڑا ،اوڑھے ہوئے گزرا تو حضور نے اس کی طرف اشارہ کر کے فر مایا کہ:یہ شخص اُس دِن حق پر ہوگا۔راوی کہتے ہیں کہ میں اس شخص کی طرف گیا تو وہ حضرت عثمان تھے۔میں نے حضور سے عر ض کیا کہ:یارسول اللہ !یہ{حق پر ہوں گے؟}تو حضور نے فر مایا کہ:ہاں،یہ۔
{تر مذی،حدیث:۳۷۰۴}

ذی الحجہ ،سن ۳۵/ہجری کو جمعہ کادن تھا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نےرات کو خواب میں رسول اکرم ﷺ کودیکھا کہ آپ ﷺ فر مارہے ہیں کہ:اےعثمان! ہمارے پاس آکر افطار کرو۔صبح کو حضرت عثمان نے روزہ رکھا اور اُسی دن عصر کے بعد جب آپ قرآن شریف کی تلاوت میں مصروف تھے ظالموں نے آپ کو شہید کردیااور آپ کے خون کا پہلا قطرہ سورہ بقرہ کی اس آیت پر گرا” فَسَیَکْفِیۡکَہُمُ اللہُ ۚ وَہُوَ السَّمِیۡعُ الْعَلِیۡمُ “
(سورہ بقرہ،آیت:۱۳۷)۔
تو عنقریب اللہ ان کی طرف سے تمہیں کفایت کرے گا ۔اور وہی ہے سنتا جانتا۔
[المستدرک علی الصحیحین،کتاب معرفۃ الصحابہ، حدیث:۴۵۵۴۔ ۴۵۵۵]