خلیفہ دوم، سسر نبی، داماد علی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ

سلسلہ تعارف اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

🔵خلیفہ دوم، سسر نبی، داماد علی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ🔵

🔹نام مبارک: عمر، کنیت: ابو حفص

🔹والد کا نام: خطاب

🔹والدہ کا نام: حنتمہ بنت ہاشم بن مغیرہ بن عبد اللہ بن عمر بن مخزوم۔

🔶سلسلہ نسب: عمر بن الخطاب بن نفیل بن عبد العزیٰ بن رباح بن عبد اللہ بن قر ط بن رزاح بن عدی بن کعب بن لوی القرشی العدوی۔
تاریخ پیدائش:آپ کی ولادت واقعہ فیل کے ۱۳/ سال بعد مکہ شریف میں ہوئی ۔
{تہذیب التہذیب ،ج:۷/ص:۳۸۵]۔
🔶قبل اسلام: آپ کے اندر قومی جذبے کے ساتھ معاملہ فہمی اور بالغ نظری کا وصف نمایاں تھا ۔اسی لئے اہل مکہ نے سفارت اور تحکیم کا مور وثی منصب آپ کے سپرد کیا تھا چنانچہ آپ اپنے آباء و اجداد کی طرح نزاعی امور کے فیصلے فر ماتے اور ایک معتمد سفیر کی حیثیت سے مختلف ملکوں کے بادشاہوں کے دربار میں جاتے اور سفارت کی ذمہ داری انجام دیتےتھےاور قومی اتحادکو مظبوط رکھنے کی بڑی کو شش کرتےتھے۔
{تہذیب التہذیب،ج:۷/ص:۳۸۶]۔

🔶قبول اسلام: جب آقائے کریم علیہ الصلاۃ والسلام نے اہل مکہ کے قدیم مشر کانہ اورجاہلانہ نظام کے خلاف دعوت حق کا اعلان فر مایا تو خوش بخت لوگوں نے آپ کی دعوت پر لبیک کہنا شروع کیا اور معبودان باطل کی پر ستش چھوڑ کر ایک خدائے وحدہ لاشریک کی بار گاہ میں جھکنے لگے۔تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو قومی اتحاد کے خلاف سمجھا اور مسلمانوں کو ستانے لگے ۔مگر جب انہیں تشدد کا کوئی نتیجہ نکلتا نہیں دکھائی دیا تو یہ ارادہ کر لیا کہ (معاذاللہ )میں اس ذات ہی کو ختم کر دوں گا جس کی وجہ سے یہ سب ہو رہا ہے۔چنانچہ ایک دن وہ ننگی تلوار تھا مے حضور رحمت عالم ﷺ کو قتل کرنے کے ارادے سے نکلے ،راستے میں نعیم بن عبد اللہ ملے جنہوں نے بتایا کہ ان کے بہن اور بہنوئی نے بھی اسلام قبول کر لیا ہے۔اس پر وہ غضبناک ہو کر اپنے بہن کے گھر تشریف لے گئے اور دونوں کو مار مار کر لہو لہان کر دیا مگر وہ دونوں پوری ہمت اور حوصلے سے دین حق پر ڈٹے رہے۔ان کی استقامت دیکھ کر حضرت عمر نرم پڑ گئے اور کہا کہ تم لوگ جس کتاب کو پڑ ھ رہے تھے مجھے بھی دکھاؤ۔ان کی بہن نے پیش کیا ۔انہوں نے سورہ طٰہٰ کی چند آیات ہی تلاوت کی تھی کہ دل کی دنیا بدل گئی اور پھر اسی وقت حضور اکرم ﷺ کی بارگاہ اقدس میں جا کر اسلام قبول کر لیا۔اس طرح سے حضور نے جو دعا مانگی تھی کہ “اے اللہ ! ابوجہل اور عمر بن خطاب میں سے جو تجھے پسند ہے اس کے ذریعے اسلام کو غلبہ عطا فر ما”آپ کے حق میں قبول ہوگئی۔
[ترمذی ،حدیث:۳۶۸۱]۔
اور آپ کی وجہ سے مسلمانوں کو بڑا غلبہ ملا،مسلمان جو اب تک چھپ چھپ کر نمازیں پڑ ھتے تھے کھلے عام خانہ کعبہ میں نمازیں پڑ ھنے لگے چنانچہ حضرت عبد اللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:قسم بخدا ! جب تک حضرت عمر اسلام نہیں لائے تھے ،ہم لوگوں کے اندر اتنی طاقت نہ تھی کہ ہم لوگ خانہ کعبہ کے پاس نماز پڑ ھ سکیں۔
{المستدرک علی الصحیحین للحاکم،کتاب معرفۃ الصحابہ،باب ومن مناقب امیر المومنین عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ،حدیث:۴۴۸۷]۔

🔶خلافت: اسلام قبول کرنے کے بعد سے اپنی زندگی کی آخری سانسوں تک آپ نے اسلام کی وہ عظیم الشان خد متیں انجام دی جس کی نظیر کہیں نہیں ملتی۔بطور خلیفہ کے آپ نے ۲۲/جمادی الاخریٰ ،سن ۱۳/ہجری سے۲۶/ذی الحجہ،سن ۲۳/ہجری تک اسلام اور مسلمانوں کی خدمت انجام دی اور اس درمیان آپ نے اسلامی حکومت کو دنیا کی سب سے مضبوط اور وسیع حکومت بنادیا۔اور مسلمانوں کو سب سے خوشحال اور ترقی یافتہ قوم بنادیا۔
🔶فضائل ومناقب: قرآن واحادیث میں آپ کے بےشمار فضائل ومناقب وارد ہیں۔ان میں سے چند حاضر ہیں۔
🔹۔[1] حضور رحمت عالم ﷺ نے ارشاد فر مایا کہ: اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن خطاب ہوتے۔[تر مذی،حدیث:۳۶۸۶
🔹[2] حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فر مایا کہ: بے شک اللہ تعالیٰ نے “حق” عمر کے زبان اور دل پر رکھ دیا ہے. [ترمذی،حدیث:۳۶۸۲
🔹۔[3] حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فر مایا کہ:ہر نبی کے دو وزیر آسمان والوں میں سے ہوتے ہیں اور دو وزیر زمین والوں میں سے۔تو میرے دو وزیر آسمان والوں میں سے جبرئیل اور میکا ئیل ہیں اور زمین والوں میں سے میرے دو وزیر ابو بکر اور عمر ہیں۔۔[ترمذی،حدیث:۳۶۸۰]۰
🔹۔[4] حضور نبی کریم ﷺ نے فر مایا کہ:ابو بکر اور عمر اگلے اور پچھلےتمام جنتی بوڑھوں کے سردار ہیں ،سوائے نبیوں اور رسولوں کے۔

{ترمذی،حدیث:۳۶۶۴۔۳۶۶۵}
🔹۔[5] حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر مایا کہ:جنت میں اونچے درجے والے کو ان سے نیچے درجہ والے اسی طر ح دیکھیں گے جس طرح آسمان کے کنارے پر طلوع ہونے والا ستارہ {زمین سے}دِکھائی پڑتا ہے۔اور بے شک ابو بکر اور عمر انہیں اونچے درجے والوں میں سے ہوں گے۔[ترمذی،حدیث:۳۶۵۸]۔

🔹[6] حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر مایا کہ:تم لوگ میرے بعد ابو بکر اور عمر کی پیروی کرنا۔
[ جامع ترمذی،حدیث:۳۶۶۵
🔶شہادت: ۲۶/ذی الحجہ سن ۲۳/ہجری کو نماز فجر پڑھانے کے لئے آپ آگے بڑھے اور ابھی “اللہ اکبر” کہہ کر ہاتھ باندھےہی تھے کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ کا ایرانی مجوسی غلام ابو لؤلؤفیروز نے آپ پر اچانک دودھاری خنجر سے حملہ کردیا اور لگاتار چھ وار کیا جس کی وجہ سے آپ کی شہادت ہوگئی۔پھر قاتل نے اپنے ہی خنجر سے اپنا بھی کام تمام کر لیا۔آپ نے اپنی زندگی کے آخر وقت میں اپنے بیٹے حضرت عبد اللہ سے فر مایا تھا کہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اجازت لے لینا کہ وہ مجھے اپنے کمرے میں دفن ہونے دیں۔چنانچہ آپ کی نماز جنازہ حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ نے پڑ ھائی اور پھر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی اجازت سے آپ کو ان کے کمرے میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پہلو میں دفن کیا گیا۔
[اسد الغابۃ،مصنفہ علامہ ابن اثیرجزری،متوفی ٰ۶۳۰ھ ۔ج:۲/ص:۳۳۱