خلافت علی کے بعد شر تھا جس میں بر سر منبر سیدنا علی پر لعنت کی جاتی تھی (عمدۃالقاری)

شیعہ اعتراض

خلافت علی ع کے بعد شر تھا جس میں بر سر ممبر علی ع پر لعنت کی جاتی تھی(عمدۃالقاری)

الجواب:

علامہ عینی بخاری کی حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں جس میں صحابہ کرام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ اب تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی برکات سے دین کی بہاریں ہیں جو خیر ہی خیر ہے کیا اس شر کے بعد خیر ہوگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں خیر کے بعد شر ہوگا انہوں نے پھر پوچھا شر کے بعد خیر ہو گی فرمایا ہاں پوچھا اس خیر کے بعد پھر شر ہوگا فرمایا ہاں ۔

علامہ عینی نے اس پر مختلف بزرگوں کے اقوال نقل کیے ہیں کہ کچھ علماء کرام اس حدیث کا مطلب یہ بیان فرماتے ہیں اور بعض اس حدیث کا یہ مطلب بیان فرماتے ہیں۔

ان مختلف اقوال میں علامہ کرمانی کا یہ قول بھی نقل کیا وہ کہتے ہیں یہاں  یہ احتمال بھی ہے کہ یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ شر والے زمانے سے مراد وہ زمانہ ہوجس میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا اس کے بعد حضرت علیؓ کا زمانہ شر کے بعد خیر کا ہوا اور اس کے بعد وہ زمانہ شر کا ہو جس میں حضرت علیؓ پر لعنت کی جاتی تھی ممبروں پر

یہ آخری جملہ متنازعہ ہے جس کی بنا پر سرخی قائم کی گئی ہے ۔

ہم عرض کرتے ہیں کہ یہ قول علامہ کرمانی کو بھی کہیں سے حاصل ہوا ہے یہ بات تو ظاہر ہے کہ کرمانی نبی نہیں جس پر کوئی وحی اتری ہو نہ ہی صحابی ہے جنھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں کچھ سنا ہے اور نہ ہی قرون خیر میں سے خود تھے اور نہ ہی خیرالقرون کے کسی شخص نے ان کو اس کی خبر دی ہے۔

سوال یہ ہے کہ علامہ کرمانی نے یہ قول کہاں سے اخذ کیا مذکورہ کتاب اس کے بارے میں خاموش ہے ہم نے گذشتہ اوراق میں اس سب و شتم کے بارے میں وضاحت کر دی ہے کہ یہ روایت شیعہ متعصب  راویوں کی روایت ہے۔

علامہ کرمانی نے بھی کسی کتاب میں وہ روایات پڑھ کر وہی الفاظ بول دیے بغیر اس وضاحت کے کہ اس کتاب میں یہ الفاظ کن کرم فرماوں کی مہربانی ہے لہذا کرمانی کے الفاظ کو حجت نہیں بنایا جا سکتا کہ یہ وضاحت ہم عرض کر چکے ہیں کہ اس طرح کی روایات کے موجدین اولین ہشام ، لوط بن یحیی وغیرہ جیسے لوگ تھے جو کسی طرح قابل اعتماد نہیں لہذا آنکھیں بند کرکے اس طرح کی کسی روایت کو ہرگز قبول نہیں کیا جا سکتا