خصوصیات صحابہ

خصوصیات صحابہ

صحابہؓ نے جس طرح اسلام کی تبلیغ واشاعت اور دین حق کی صیانت وحفاظت میں رسول اللہ ﷺ کی بھر پور نصرت و حمایت کی اور آپ ﷺ کی رفاقت کا حق ادا فرمایا ، اسی طرح رسول اللہ ﷺ کی صحبت بافیض سے گہری بصیرت ، دین کا فہم صحیح اور عمیق علم بھی حاصل کیا اور اس اعتبار سے بھی ان کا درجہ و مقام بعد میں آنے والی امت سے بدرجہا بلند و بالا ہے ، اسی وجہ سے یہ سوال پیدا ہوا کہ صحابہؓ کے فتاوی اور اقوال و افعال کی قانونی حیثیت کیا ہے ؟

خصوصیات صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین
عام افراد امت سے صحابہ کرام کو بچند وجوہ خاص امتیاز حاصل ہے :
(۱)نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کی برکت سے اللہ تعالی نے ان کو ایسا بنادیا تھا کہ شریعت ان کی طبیعت بن گئی تھی خلاف شرع ان سے کوئی کام یا گناہ صادر ہونا انتہائی شاذ ونادر تھا ان کے اعمال صالحہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دین اسلام پر اپنی جانیں اور مال واولاد سب کو قربان کرنا اور ہر کام پر اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضیات کے اتباع کو وظیفہ زندگی بنانا اور اس کے لیے ایسے مجاہدات کرنا جس کی نظیر پچھلی امتوں میں نہیں ملتی ایسے بےشمار اعمال صالحہ اور فضائل وکمالات سے صحابہ کرام مزین تھے۔
(۲)اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت وعظمت اور ادنی گناہ کے صدور کے وقت ان کا خوف وخشیت اور فوراً توبہ کرنا بلکہ اپنے آپ کو سزا جاری کرنے کے لیے پیش کردینا اور اس پراصرار کرناروایات حدیث میں معروف ومشہور ہے، بحکم حدیث توبہ کرلینے سے گناہ مٹادیا جاتا ہے اور ایسا ہوجاتا ہے کہ کبھی گناہ کیا ہی نہیں۔
(۳)قرآنی ارشاد کے مطابق انسان کی حسنات بھی اس کی سیئات کا خود بخود کفارہ ہوجاتی ہیں:
“اِنَّ الْحَسَنَاتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّئَاتِ”۔
(ھود:۱۱۴)
(۴)اقامت دین اور نصرت اسلام کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انتہائی عسرت اور تنگدستی اور مشقت ومحنت کے ساتھ معرکے سر کرنا کہ اقوام عالم میں ان کی نظیر نہیں ملتی۔
(۵)ان حضرات کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور امت کے درمیان واسطہ اور رابطہ ہونا کہ باقی امت کو قرآن وحدیث اور دین کی تمام تعلیمات انھیں حضرات کے ذریعے پہنچی ان میں خامی اور کوتاہی رہتی تو قیامت تک دین کی حفاظت اور دنیا کے گوشہ گوشہ میں اشاعت کا کوئی امکان نہیں تھا ،اس لیے حق تعالی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت وبرکت سے ان کے اخلاق وعادات ان کی حرکات وسکنات کو دین کے تابع بنادیا تھا ،ان سے اول تو گناہ صادر ہی نہ ہوتا تھا اور اگر عمر بھر میں کبھی شاذ ونادر کسی گناہ کا صدور ہوگیا تو فوراً اس کا کفارہ توبہ استغفار اور دین کے معاملہ میں پہلے سے زیادہ محنت ومشقت اٹھانا ان میں معروف ومشہور تھا۔
(۶)حق تعالی نے ان کو اپنے نبی کی صحبت کے لیے منتخب فرمایا اور دین کا راستہ اور رابطہ بنایا تو ان کو خصوصی اعزاز بھی عطا فرمایا کہ اسی دنیا میں ان سب حضرات کی خطاؤں سے درگزر اور معافی اور اپنی رضا اوررضوان کا اعلان کردیا اور ان کے لیےجنت کا وعدہ قرآن میں نازل فرمادیا۔
(۷)نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو ہدایت فرمائی کہ ان سب حضرات سے محبت وعظمت علامت ایمان ہے اور ان کی تنقیص وتوہین خطرہ ایمان اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوتکلیف دینےکا سبب ہے۔
ان وجوہات کی بنیاد پر امت کا یہ عقیدہ قرار پایا کہ ان کی طرف کسی عیب وگناہ کی نسبت نہ کریں ان کی تنقیص وتوہین کے شائبہ سے بھی گریز کریں۔
قرآن کریم نے ان کی مدح وثنا اور ان سے اللہ تعالی کے راضی ہونے کا بھی اعلان فرمادیا جو عفو درگزر سے بھی زیادہ اونچا مقام ہے ،جن حضرات کے گناہوں اور خطاؤں کو حق تعالی معاف کرچکا تو اب کسی کو کیا حق ہے کہ ان گناہوں اور خطاؤں کا تذکرہ کرکے اپنا نامہ اعمال سیاہ کرے اور اس مقدس گروہ پر امت کے اعتقاد واعتماد میں خلل ڈال کر دین کی بنیادوں پر ضرب لگائے، اس لیے سلف صالحین نے عموماً ان معاملات میں زبان کو بند رکھنے اور خاموش رہنے کو ایمان کی سلامتی کا ذریعہ قرار دیا۔
(ملخص مقام صحابہ:۱۱۱۔۱۱۴، از مفتی محمدشفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ)