حفاظتِ حدیث میں صحابہ کی خدمات

حفاظتِ حدیث میں صحابہ کی خدمات

(۱)حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص فرماتے ہیں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سنتا تھا اسے محفوظ رکھنے کی غرض سے لکھ لیا کرتا تھا قریش کے لوگوں نے مجھے منع کیا کہ تم ہربات رسول اللہﷺ سے لکھ لیا کرتے ہو؛ حالانکہ رسول اللہﷺ ایک انسان ہیں ان پر بھی خوشی اور غصہ دونوں حالتیں طاری ہوتی ہیں؛ چنانچہ میں لکھنے سے رُک گیا اور رسول اللہﷺ کے پاس جاکر یہ بات میں نے عرض کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگشتِ مبارک سے اپنے دہنِ مبارک کی طرف اشارہ کرکے فرمایا:
“اكْتُبْ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَايَخْرُجُ مِنْهُ إِلَّاحَقٌّ”۔
(ابوداؤد،بَاب فِي كِتَابِ الْعِلْمِ، حدیث نمبر:۳۱۶۱)
تم لکھتے رہو کیونکہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے، میرے منہ سے حق بات ہی کا صدور ہوتا ہے۔
(۲)حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں مجھ سے زیادہ حدیثوں کا جامع کوئی نہیں ہے سوائے عبداللہ بن عمرو کے کیونکہ وہ لکھتے تھے اور میں لکھتا نہیں تھا۔
(بخاری شریف، کتاب العلم، باب کتابۃ العلم:۱/۲۲)
(۵)فتح مکہ کے موقعہ پر حضور ﷺ نے خطبہ دیا تو ایک یمنی صحابی جن کا نام ابوشاہ تھا درخواست کی کہ ان کے واسطے یہ خطبہ لکھ دیا جائے ،حضورﷺ سے اجازت چاہی گئی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا “اُکْتُبُوْا لِاَبِیْ شَاہ” (ابوشاہ کے لیے لکھ دو)۔
(بخاری، کتاب العلم، باب کتابۃ العلم:۱/۲۲)
صحابۂ کرامؓ کے دور میں حدیث کے کئی مجموعے (جو ذاتی نوعیت کے تھے) تیار ہوچکے تھے، جیسے صحیفۂ صادقہ، صحیفۂ علی، کتاب الصدقہ، صحفِ انس بن مالک، صحیفۂ سمرہ بن جندب، صحیفۂ سعد بن عبادہ اور صحیفۂ ہمام بن منبہ رضی اللہ عنہم، اس طرح تاریخ کی وہ کتاب یعنی حضورﷺ کی زندگی عہدِ صحابہ میں بجائے ایک نسخہ کے ہزاروں نسخوں کی صورت میں موجود ہوچکی تھی اس اعتبار سے حفاظتِ حدیث کی ایک صورت خود صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زندگی تھی۔