حضرت معاویہ (رضی اللہ عنہ) نے بُغض علی سے سنت کو ترک کر دیا۔ (نسائی)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر شیعہ روافض کے الزام نمبر 21

🔺شیعہ الزام 🔺
حضرت معاویہ (رضی اللہ عنہ) نے بُغض علی سے سنت کو ترک کر دیا۔ (نسائی)

🔹الجواب اہلسنّت🔹

🔸(١) اس روایت کی سند میں ایک راوی کا نام خالد بن مخلد ہے۔ (تقریب التہذیب جلد 1 صفحہ ۲۶۳) علامہ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں “تشع“ کہ یہ صاحب شیعہ ہیں۔ اس کے بارے میں مانا کہ یہ روایت اہلسنّت کی کتاب میں مذکور ہے مگر اس کتاب میں یہ روایت شیعہ کی طرف سے داخل کی گئی ہے اور شیعہ قوم سے خیر کی توقع کہاں ہو سکتی ہے۔ لہٰذا یہ روایت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف الزام دینے کے لئے قابل قبول نہیں ہے کیونکہ اس کا راوی شیعہ ہے.

🔸(٢) یہاں جو واقعہ منقول ہے وہ سعید بن جبیر سے یوں نقل کیا گیا ہے کہ میں حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ میدانِ عرفات میں تھا انہوں نے فرمایا کیا بات ہے کہ میں لوگوں سے تلبیہ اونچی آواز سے نہیں سن رہا تو میں نے جواب دیا کہ لوگ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے ڈرتے ہیں اس لئے اونچی آواز سے نہیں پڑھتے تو ابن عباس رضی اللہ عنہ اپنے خیمہ سے نکل آئے اور با آواز بلند تلبیہ لبيك اللهم لبيك الخ پڑھنے لگے۔ لوگوں نے بغض علی کی وجہ سے سنت چھوڑ دی۔(عکسی صفحہ )

🔹(١) اس روایت میں دو جملے ہیں

🔸(1) لوگ معاویہ رضی اللہ عنہ سے ڈرتے ہیں،
🔸 (۲) بغض علی رضی اللہ عنہ کی وجہ سے سنت ترک کر دی، قابلِ غور ہیں.

شیعہ راوی خالد بن مخلد نے یہ دونوں باتیں اپنی طرف سے گھڑ کر روایت میں ملا دی ہیں۔
ورنہ نمبر (1) تلبیہ پڑھنا حکم خدا اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے بلند اور آہستہ دونوں طرح سے پڑھا جا سکتا ہے۔ کسی کے ڈر سے صحابہ کا سنت کو ترک کرنا بعید از عقل ہے۔

🔸(٢) بلند آواز سے نہ پڑھنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ انہوں نے سرے سے تلبیہ پڑھا ہی نہیں۔
🔸(٣)سنت تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے نہ کہ حیدر کرار رضی اللہ عنہ کی پھر ترک تلبیہ کا بغض علی سے کیا تعلق؟
بہرحال ان تصرفات کی بنا پر یہ روایت اہلسنّت کے ہاں مقبول نہیں۔ بالخصوص اس وقت جبکہ یہ روایت راوی نے غلط نظریے کی مؤید بھی ہے۔