حضرت فاطمہ زہرا اور حضرت ابوبکرصدیق میں رنجش کا افسانہ

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور ابوبکر میں رنجش

 ناظرین سب سے پہلے اس فیس بک پوسٹ کو مکمل پڑھتے ہیں۔

اس واقعے پر سنیوں اور شیعوں کا اجماع ہے اور ایک عقلمند اور انصاف پسند انسان کے لئے اس کے سوا کوئی راستہ رہ نہیں جاتا کی محتاط ترین طریقے سے ابوبکر پر غلطی کا حکم لگائیں کیونکہ جو آدمی بھی اس المناک واقعے کا مطالعہ کرتے ہیں یہ یقین کرنے پر مجبور ہوتا ہے کیا ابوبکر نے جان بوجھ کر فاطمہ زہرا کو آرزدہ کیا اور ان کو جھٹلایا تھا کی وہ اپنے ابن عم اور شوہر کی خلافت کے سلسلے میں حدیث غدیر اور دیگر حدیثوں کی بنا پر صدائے احتجاج بلند کرے اس بات پر بہت سے قرائن دلالت کرتے ہیں مسا ل” تاریخ نگاروں نے لکھا ہے کہ جب حضرت فاطمہ زہرا انصار کی مجلس میں وارد ہوئی اور انہوں نے علی ع کی حمایت اور بیعت کے لئے ان سے کہا تو وہ بولے اے بنت رسول ہم نے ان صاحب کی بیعت کا جو ا اپنی گردنوں میں ڈال دیا ہے اگر آپ کے شوہر اور ابن عم ابوبکر سے پہلے ہمارے پاس آتے تو ہم ان کے سوا ہرگز کسی کی بیعت نہ کرتے حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں کیا یہ جائز تھا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بے گوروکفن چھوڑ دیتا اور حکومت حاصل کرنے کے لیے لوگوں کے ساتھ جگڑتا اور حضرت فاطمہ زہرا فرماتی ہے ابوالحسن نے وہی کیا جو ان کو کرنا چاہیے تھا اور لوگوں نے جو کچھ کیا ہے خدا خود اس کا حساب لے گا اور اگر ابوبکر نے حسن؛ نیت یا غلطی سے ایسا کیا ہوتا تو مخدومہء عالم انہیں مطمئن کر دیتی لیکن وہ ان پر غصے ہوی اور مرتے مر گئی مگر ان سے بات نہ کی کیونکہ جب بھی وہ بات کرتی تھی ابوبکر ان کی بات ردکر دیتے تھے اور ان کی اور ان کے شوہر کی شہادت بھی قبول نہیں کرتے تھے اللہ اکبر

ان سب باتوں کی وجہ سے فاطمہ زہرا اس قدر کبیدہ خاطر تھی کی انہوں نے اپنی وصیت میں نے کہا کہ یہ لوگ میرے جنازے میں نہ آئیں اور مجھے رات کے اندھیرے میں دفن کیا جائے

الجواب:

شیعہ رافضی اس طرح کی معصومانہ تحریریں لکھ کر امت مسلمہ کے سادہ لوح مسلمانوں کے جذبات کو استعمال کرتے ہیں۔ ظاہر ہے محبت اہل بیت ہمارے دین ایمان کا بنیادی جزو ہے۔

اہل بیت کی خوشی ہماری خوشی اور اہل بیت کی کسی سی ناراضگی ہماری بھی ان سے ناراضگی ہے۔

اس محبت اہل بیت کا استعمال کرتے ہوئے کسی رافضی نے یہ تحریر لکھی  ہے۔

آئیے اس تحریر کا پوسٹ مارٹم کرتے ہیں، تاکہ اصل حقیقت معلوم ہوسکے۔

یہاں تین اہم باتیں لکھی گئی ہیں۔

1️⃣ سیدہ فاطمہؓ اور حضرت ابوبکر صدیقؓ میں رنجش

2️⃣ اہل سنت اور اہل تشیع میں اجماع

3️⃣ حضرت ابوبکر صدیقؓ پر غلطی کا حکم

اہل سنت کا متفقہ مؤقف ہے کہ سیدہ فاطمہؓ نے فدک کا مطالبہ اس لئے کیا تھا کہ ان کے نزدیک فدک کی آمدنی جس طرح نبی کریم مﷺ اہل بیت کو دیتے تھے ، وہی سلسلہ بعد از نبی بھی برقرار رہے ، سیدہ کے نزدیک جس طرح نبی کریم فدک کی آمدنی کو تقسیم فرماتے تھے اسی طرح ان کے بعد فدک کی آمدنی کی تقسیم انہی مصارف میں سیدہ کی ذمہ داری ہے۔

حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اس موقعہ پر دو اہم باتیں بیان فرمائیں۔

1️⃣ فرمان نبوی کے مطابق انبیائے کرام مال و دولت بطور میراث چھوڑ کر نہیں جاتے۔

2️⃣ فدک کی آمدنی من وعن اسی طرح خرچ کی جائے گی جس طرح خود نبی کریم خرچ کرتے تھے۔

سیدہ فاطمہؓ حضرت ابوبکر صدیق کے اس مؤقف کے بعد خاموش ہوگئی تھیں، جس کا مطلب وہ مطمئن ہوگئی تھیں، کیونکہ اس کے بعد تمام خلفائے راشدین بشمول سیدنا علی فدک حکومت وقت کی تحویل میں رہا تھا اور اہل بیت کو ان کا وہی حق برابر ملتا رہا جو خود نبی کریمﷺ انہیں عطا فرماتے تھے اور تمام اہل بیت اسے وصول بھی کرتے رہے۔

مزید تفصیل پڑھیں۔


باغ فدک: سیدہ فاطمہ حضرت ابوبکر صدیق سے سخت ناراض ہوگئیں تھی! شیعہ اعتراض کا رد

باغ فدک: صدیقی فیصلے پر شیعہ شہادتیں!

باغ فدک:سیدہ فاطمہ اور حضرت ابوبکرصدیق! سچا کون؟؟


صحیح احادیث میں صرف ایک راوی ابن شہاب الزہری نے سیدہ فاطمہؓ کی خاموشی کو ان کی رنجش سمجھا اور اس کی وجوہات میں دو باتیں بیان کیں۔

1️⃣ سیدہ فاطمہؓ نے اس واقعہ کے بعد حضرت ابوبکر صدیق سے کبھی بھی ملاقات نہیں کی۔

2️⃣ سیدہ فاطمہ کی وفات کی اطلاع حضرت ابوبکر صدیق کو نہیں دی گئی اور رات کو خاموشی میں دفنا دیا گیا۔

جن وجوہات کی بنا پر راوی ابن شہاب الزہری نے سیدہ فاطمہؓ کی ناراضگی اپنی روایت میں بیان کی وہ دونوں وجوہات غلط ہیں۔ اس لئے اہل سنت صحیح حدیث کو قبول کرنے کے باوجود روایت میں راوی کے اس گمان کو تسلیم نہیں کرتے۔

مزید پڑھیں۔


باغ فدک: ابن شہاب الزہری پر تحقیق

باغ فدک: علماء اہل سنت کے نزدیک صحیح بخاری کی حدیث میں سیدہ فاطمہ کی ناراضگی اصل میں راوی ابن شہاب الزہری کا گمان ہے.

صحیح روایات میں راویوں کا گمان غلط بھی ہوسکتا ہے۔


ان تمام گذرشات کے بعد یہ بات واضح ہوئی کہ سیدہ فاطمہؓ مطالبہ فدک کے بعد ہرگز حضرت ابوبکر صدیقؓ سے ناراض نہ ہوئیں ، اگر وقتی رنجش ہوئی بھی تو بعد میں راضی ہوگئیں۔


باغ فدک: سیدہ فاطمہ حضرت ابوبکر سے راضی تھیں (شیعہ کتب سے ثبوت)


2️⃣ اہل سنت اور اہل تشیع میں اجماع

یہ جملہ لکھ کر معترض نے اپنی علمی حیثیت کا جنازہ نکال دیا ہے۔

سیدہ فاطمہؓ اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کے مابین ناراضگی کا کوئی معاملہ نہیں تھا۔دونوں فریقین کی کتب میں یہ بات صراحت سے بیان کی گئی ہے۔

مزید پڑھیں۔


کیا سیدہ فاطمہؓ حضرت ابو بکر صدیق سے ناراض فوت ہوئیں؟

باغ فدک: سیدہ فاطمہ اور حضرت ابوبکر صدیق کے درمیان ناراضگی کا افسانہ !


3️⃣ حضرت ابوبکر صدیقؓ پر غلطی کا حکم

یہاں دو سوال اہم ہیں۔

1️⃣ کیا حضرت ابوبکر صدیقؓ نے غلط فیصلہ کیا تھا؟

جواب: حضرت ابوبکر صدیقؓ نے فیصلہ نہیں کیا تھا بلکہ خود نبی کریم اس کا فیصلہ فرما گئے تھے۔ انبیاء مال و دولت بطور میراث چھوڑ کر نہیں جاتے۔

حضرت ابوبکر صدیقؓ کا قصور صرف اتنا ہے کہ اس فرمان نبوی پر عمل کیا۔

کیا اسے غلطی تسلیم کیا جائے؟

2️⃣ اگر حضرت ابوبکر صدیقؓ نے غلط فیصلہ کیا تھا تو سیدنا علی نے اپنے دور حکومت میں اس فیصلہ کی نفی کر کے فدک کو واپس اصل حق داروں تک کیوں نہ پہنچایا؟

جواب: سیدنا علی نے اپنے چار سالہ دور حکومت میں صدیقی فیصلہ برقرار رکھا اور فدک گذشتہ حکومتوں کی طرح حکومت وقت کی ملکیت رہا اور اس کی آمدنی نبی کریمﷺ کے مطابق ہی خرچ کی جاتی رہی۔


باغ فدک:سیدنا علی کا فیصلہ

باغ فدک: سیدنا علی اور شیعہ کتاب حجج نھج سے ثبوت

باغ فدک: سیدنا علی (شرح نہج البلاغہ سے ثبوت

باغ فدک: سیدنا علی کا دور خلافت اور شیعہ کتاب الشافی فی الامامت


غور فرمائیں۔۔ کس چالاکی سے جذباتی باتیں لکھی گئی ہیں۔

“حضرت ابوبکر صدیقؓ نے جان بوجھ کر سیدہ فاطمہ کو آرزدہ کیا اور انہیں جھٹلایا”

حضرت ابوبکر صدیق تو فرمان نبوی کے آگے مجبور تھے، انہوں نے فدک کو اپنی ملکیت  تھوڑی قرار دیا تھا۔۔!!

ہم ثابت کرچکے ہیں کہ سیدہ فاطمہؓ کی خاموشی کو ان کی ناراضگی سمجھنے سے شان اہل بیت مجروح ہوتی ہے۔

اہل سنت کے نزدیک سیدہ کی خاموشی ان کی رضامندی ہے۔ اپنے والد مرحوم کا فرمان سن کر کوئی بھی بیٹی ناراض نہیں ہوسکتی، اور وہ بھی دنیا کی ملکیت کی خاطر!! ہرگز نہیں۔

اگر فرمان نبوی حضرت ابوبکر صدیقؓ نے جھوٹا سنایا ہوتا تو یہی حدیث دوسرے راویان سے مروی نہ ہوتی بلکہ اہل تشیع معتبر کتب میں کئی اماموں سے بیان کی گئی نہ ہوتی۔


مکالمہ فدک (دوسری قسط) میراث نبی اور صحیح احادیث

مکالمہ فدک (تیسری قسط) میراث نبی اور شیعہ کتب


لحاظہ حدیث نبوی متفقہ علیہ حدیث ہے، اہل تشیع اور اہل سنت کی معتبر کتب میں کئی اسناد سے مروی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی بھی بیٹی اپنے والد کی طرف منسوب جھوٹی بات سن کر خاموش نہیں رہ سکتی بلکہ اس کی مذمت کرے گی۔ اگر بالفرض حضرت ابوبکر صدیقؓ کا ڈر اس وقت مانع تھا تو بعد میں چھ ماہ کے عرصہ میں سیدہ فاطمہ کو کئی مواقع میسر ہوئے جب وہ اس فرمان نبوی پر اپنا مؤقف بیان کرسکتی تھیں، بلکہ اہل تشیع کے ہاں خطبہ فدک بھی مشہور ہے۔۔ سیدہ نے اس میں بھی یہ نہیں کہا کہ حضرت ابوبکر صدیق نے جھوٹی بات نبی کریم کی طرف منسوب کی ہے۔ معاذاللہ

دیکھیں کتنی صفائی سے جھوٹی روایات کا سہارہ لے کرتاریخ کو مسخ کرکے عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔۔!!

پہلے اس واقعہ کو مختصرآ پڑھیں۔

  پیر کے دن نبی کریم کی رحلت کے بعد ثقیفہ بنی ساعدہ میں انصار صحابہ کا اجتماع حضرت ابوبکر صدیق یا حضرت عمر فاروق کی مرضی و منشاء سے نہیں ہوا تھا، انہیں تو جب اطلاع ملی تو وہ اس معاملہ کو سلجھانے کے لئے وہاں گئے تھے۔

وہاں حضرت ابوبکر صدیق کا انتخاب بھی کوئی سوچی سمجھی سازش نہ تھی اور جب انہیں منتخب کرلیا گیا تو وہاں موجود تمام صحابہ کرام نے ان کی بیعت کرلی۔

یہ پورا واقعہ  چند گھنٹوں میں حل ہوگیا تھا۔


جنازہ نبی کریم: شیعہ اعتراض کا رد


مطلب نبی کریمﷺ کی رحلت کے بعد صحابہ کرام دس دس کی ٹولیوں میں حجرہ عائشہ صدیقہ میں جاتے اور جنازہ درود و سلام کی صورت میں پڑھتے پھر مسجد نبوی جاکر حضرت ابوبکر  صدیقؓ کی بیعت کرتے، یہ سلسلہ پیر، بدھ اور جمعرات کی رات تک جاری رہا جب تمام صحابہ کرام جنازہ پڑھ چکے تو پھر تدفین رسول ہوئی، دیر کی وجہ بھی یہی تھی۔

 ایک عام فہم بھی ان تمام حقائق کو سمجھ سکتا ہے۔

کیا یہ ممکن ہے کہ ان تین دنوں میں سیدنا علی اتنے مصروف تھے کہ انہیں حضرت ابوبکر صدیق کی بیعت کا پتہ ہی نہ چلا ہوگا یا ان کے پاس وقت ہی نہ تھا کہ کوئی اور کام کیا جاسکے!!!

اور کیا یہ ممکن ہے کہ تدفین صرف سیدنا علی نے کی ہو اور صحابہ کرام موجود ہی نہ ہوں!!

اب اس رافضی کی سنیں۔۔

کسی جھوٹی روایت سے یہ فرما رہے ہیں کہ سیدہ جو اتنی با پردہ تھیں کہ وصیت فرما گئیں کہ ان کی تدفین رات کو ہو تاکہ کسی کی جنازہ پر بھی نظر نہ پڑے!!

جس نے اپنے جنازہ کی چارپائی ایسی بنوائی کہ کسی غیر کو جسمانی بناوٹ تک معلوم نہ ہوسکے وہی سیدہ انصار کے گھروں میں جاکر غیر محرم مردوں سے سیدنا علی کی حمایت اور بیعت کا اس وقت کہہ رہی تھی جب حضرت ابوبکر صدیقؓ کی بیعت بھی کی جاچکی تھی!!

دوسری طرف سیدنا علی فرما رہے ہیں کہ صرف وہی نبی کریمﷺ کی تدفین میں مصروف تھے !!

اس قسم کی روایات پر کس طرح دین ایمان رکھا جائے!

یہ بات واضح کردی گئی ہے کہ سیدہ فاطمہ فدک کے معاملے پر ناراض نہیں ہوئیں تھیں ، بلکہ عارضی رنجش کا امکان بھی ان روایات سے رد ہوجاتا ہے جو خود شیعہ کتب میں موجود ہیں۔

اس واقعہ کے بعد سیدہ کی حضرت ابوبکر صدیقؓ ملاقات بھی ثابت ہے۔

اس کے علاوہ شیعہ کتب سے یہ بھی ثابت ہے کہ سیدہ کی بیماری اور وفات کا حضرت ابوبکر صدیقؓ اور دوسرے جلیل القدر صحابہ کو معلوم تھا۔

مزید پڑھیں۔


حضرت ابوبکر صدیق کو سیدہ فاطمہ کے انتقال کی خبر ملی تھی، شیعہ کی قدیم کتاب سلیم بن قیس

جنازہ سیدہ فاطمہ: حضرت ابوبکر صدیق کو سیدہ کے انتقال کی خبر ملی تھی،شیعہ کتاب بحارالانوار سے ثبوت

جنازہ سیدہ فاطمہ: کیا رات میں تدفین ناراضگی کی علامت ہے؟


اس کے علاوہ رافضی یہ دعوی بھی کرتے ہیں کہ فدک ہبہ ہوا تھا اور پھر سیدنا علی کی شہادت کا افسانہ بھی سناتے ہیں۔

اس پر مزید تفصیل پڑھیں۔


باغ فدک ہبہ نہیں ہوا تھا!(اہم دلائل)