حضرت عمر کے متعلق توہین آمیز الفاظ کہ وہ منافقین میں سے تھے۔(فتح الباری)

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر شیعہ کا الزام نمبر۔4

🔺شیعہ الزام👇👇
حضرت عمر کے متعلق توہین آمیز الفاظ کہ وہ منافقین میں سے تھے۔(فتح الباری)

🔹(الجواب اہلسنت)🔹
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ صحابی ہیں جن کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منافقین کے نام بتا دیے تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سامنے فرمایا حذیفہ رضی اللہ عنہ میں تو منافق ہو گیا تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فوراً فرمایا نہیں عمر رضی اللہ عنہ آپ منافق نہیں ہیں گویا اس حکیمانہ طریقہ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے معلوم کر لیا کہ میرے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم نے جن لوگوں کے منافق ہونے کی نشاندہی فرمائی تھی ان میں میرا نام تو نہیں ہے کیونکہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ اس راز کے امین تھے فوراً فرمایا لیکن آئندہ میں کسی کو نہ بتاؤں گا! یہ حکیمانہ طریقہ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اپنے ایمان کی تصدیق حاصل کر لینا نہ توہین ہے اور نہ ہی گستاخی بلکہ کمال تقویٰ کی علامت ھے.
.
🔸(٢) حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ عرض کیا تھا کہ خدا کی قسم حنظلہ تو منافق ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ کیسے؟ تو انہوں نے عرض کیا کہ ہم آپ کی خدمت میں ہوتے ہیں تو ایمان کی حالت یہ ہوتی ہے گویا ہم آنکھوں سے جنت جہنم کو دیکھ رہے ہیں اور جب گھروں کو جا تے ہیں تو بیوی بچوں میں جا کر وہ کیفیت باقی نہیں رہتی۔
( بخاری وغیرہ منخصا)

🔸آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تسلی دی تھی کہ حنظله منافق نہیں مذکورہ روایت میں بھی راز دان رسول حذیفہ الیمان رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو تسلی دی کہ پریشان نہ ہوں آپ مومن ہیں منافق نہیں ۔ امام بخاری نے اس عنوان پر مستقل باب قائم کیا ہے کہ خوف النفاق عامۃ الا یمان ، اس بات سے ڈرتے رہنا که دولت ایمان سے کہیں ہاتھ دھو نہ بیٹھیں، یہ ایمان کی علامت ہے ۔
نہ کہ توہین ۔ مگر یار لوگوں کو سیدھی بھی الٹی نظر آتی ہے، اس ایمانی کیفیت کو بھی بھینگی نظر سے دیکھ کر قابل اعتراض عبارت جانا
حالانکہ یہ بات قابل تعریف ہے۔
🔸(٣)اعتراض میں الفاظ ہیں کہ وہ منافقین میں سے ہیں یہ محض وجل اور برے نفس کی بری تدبیر ہے ورنہ عکسی صفحہ تو اس وہم کو ہمیشہ کے لیے دفن کرتا ہوا نظر آتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ منافقین میں سے نہیں تھے اور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی زبان سے جو فہرست ایمان والوں کی بیان ہوئی تھی اور حضرت حذیفہ الیمان کو اس فہرست سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگاہ فرمایا تھا۔ اس میں سیدنا فاروق اعظم کا اسم گرامی ایمان میں پختہ کار اور منافقین سے کوسوں دور لوگوں میں تھا۔