حضرت عمر کتاب وسنت کے مطابق عمل نہیں کرتے تھے کہ جنبی کیلئے تیمم جائز نہ جانا۔ (فقہ عمر از شاہ ولی اللہ محدث دہلوی)

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر شیعہ روافض کا الزام نمبر۔3

🔺شیعہ الزام👇👇
حضرت عمر کتاب وسنت کے مطابق عمل نہیں کرتے تھے کہ جنبی کیلئے تیمم جائز نہ جانا۔
(فقہ عمر از شاہ ولی اللہ محدث دہلوی)

🔹(الجواب اہلسنّت)🔹
تیمم کے مسئلہ پر ایک واقعہ پیش آیا حضرت عمار رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سفر میں تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جنابت کی حالت میں تیم کرنا جائز نہ سمجھا اور حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے پورا جسم مٹی لت پت کر لیا ان دونوں حضرات کا مسئلہ بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں پیش ہوا تو رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کی اصلاح فرما دی اور بحالت جنابت تمیم کو جائز قرار دے دیا حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مذکورہ روایت نقل کر کے روایت کی غلطی خود بیان فرما دی ہے کہ اس اجتہاد پر کلام ہے کیونکہ جب حضرت عمار نے یہ واقعہ بیان کیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی تصدیق کر دی تھی ، لہذا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تصدیق کر دینے کے بعد بھی حضرت امیر المؤمنین فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے قول سابق کی بنا پر اعتراض دھرنا معترض کے خبث باطن کی دلیل ہے، ورنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دامن اسے الزام سے پوری طرح پاک ہے۔

🔸مزید یہ کہ کتاب میں کسی مسئلہ کا لکھا جانا محض اس لئے نہیں ہوتا کہ اب بھی ان کا عمل یہی ہے بلکہ زندگی کے تمام کاموں اور اعمال کو نقل کرتے ہوئے قدیم جدید تمام اعمال لکھے جاتے ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المقدس کی طرف منہ کر کے ١٧ مہینے سے زیادہ نماز ادا کی تو اس سابق عمل کی بنا پر یہ لکھ دینا لیا درست ہو گا کہ قرآن پاک کے حکم کے برعکس حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے؟ حق یہ ہے کہ بے شک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبلہ بیت المقدس کو بنایا مگر جب علم ربانی نازل ہوا تو وہ قبلہ چھوڑ کر بیت اللہ کی طرف منہ کر لیا گیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو جب اس مسئلہ کی وضاحت معلوم ہوگئی تو اس حکم نبوی پر وہ بھی عمل پیرا ہو گئے اور بحالت جنابت پانی کے نہ ہونے کا استعمال پر قدرت نہ ہونے کی صورت میں تیمم کو جائز سمجھنے لگے