حضرت عمر کا نمازِ پڑھانا خدا اور مسلمانوں کو ناپسند تھا۔ (ریاض النضرہ)

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر شیعہ کا الزام نمبر۔15

🔺شیعہ الزام👇👇
حضرت عمر کا نمازِ پڑھانا خدا اور مسلمانوں کو ناپسند تھا۔ (ریاض النضرہ)

🔹(الجواب اہلسنّت)🔹

(1) حسد کا بھلا کیا علاج سوا اس کے کہ وہ آگ میں چھلانگ لگا دے تا کہ ایک ہی دن جل مرے کیوں روز روز حسد کی آگ میں جلنے سے ایک دن ہی جل جانا بہتر ہے، ذرا غور فرمائیے رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی طرف سے حکم ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اپنا مصلی اور گویا پورا دین سپرد کرو تا کہ آپ کی زندگی میں نیابت کا فیصلہ ہو جائے مگر رقیق القلب ابو بکر مصلی محبوب صلی اللہ علیہ وسلم پر کھڑے ہونے سے ڈررہے ہیں کہ برداشت نہ ہو سکے گا لہذا عمر کو آگے کر دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے مالک کا حکم ہے کہ امانت امانت والے کو ہی دے دوں لہذا عمر بے شک بڑے مرتبہ کا آدمی ہے مگر میرے بعد میرے مصلی پر سوا ابوبکر کے کوئی امام بن کر نہ کھڑا ہو کہ یہی خدائی فیصلہ ہے۔ یہاں الفاظ ہیں یا بی الله ذالك و المسلمون ابی بابی کا معنی نا پسند کرنا تحریف اور دجل کے سوا کچھ نہیں۔ دنیا بھر سے عربی کا واقف کار کوئی مائی کا لال ایسا نہیں پیدا ہوا جو یہ معنی کرے جو یار لوگوں نے تراشا ہے حدیث کا معنی بدلنا اور عوام کو فریب دینا ہی تو رافضی کی اساس ہے۔

(2) حضرات قارئین کرام ایک ہوتا ہے انکار کرنا اور ایک ہوتا ہے نا پسند کرنا ۔ انکار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ مثلا ایک حافظ اور ایک شیخ الحدیث ایک ہی مسجد میں موجود ہیں تو اب حافظ صاحب نماز پڑھانے کے لئے آگے بڑھیں گے تو لوگ انکار کریں گے کہ شیخ الحدیث جو بزرگ اور عالم ہیں ان کو نماز پڑھانے دیں حالانکہ اس سے پہلے وہی مسجد لوگ اس محافظ صاحب کی اقتدا میں نماز پڑھتے رہے تھے مگر اب چونکہ ان سے بڑے مرتبہ کے بزرگ موجود ہیں اس لئے لوگ ان کی اقتدا میں نماز پڑھنے کے خواہش مند ہوں گے جبکہ نا پسند کرنا یہ ہے کہ مثلاً ایک شخص امام ہے اور وہ ٹی وی بھی دیکھتا ہے یا کسی گناہ کبیرہ کا مرتکب ہے یا بد اخلاق ہے تو ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنے کو لوگ ناپسند کرتے ہیں کہ کبھی بھی یہ شخص نماز نہ پڑھائے یہاں الفاظ یابی کے استعمال ہوئے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ اگرچہ عظیم المرتبت شخص ہیں مگر ان سے بڑے مرتبہ کے بزرگ موجود ہیں لوگ بھی ان کی اقتداء چاہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بھی انہیں کو مقتدا بنانا چاہتے ہیں انکار کا مطلب یہ ہے نا کہ وہ جو روافض نے اختیار کیا۔
اب ارباب انصاف خود ہی فیصلہ فرمائیں کہ اس لفظ سے کون سا پہلو لائق الزام ہے۔