حضرت عمر نے نبی علیہ السلام کی نبوت میں شک کیا۔ (معالم التنزیل، درمنثور، تاریخ الخميس )

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر شیعہ کا الزام نمبر۔20

🔺شیعہ الزام👇👇
حضرت عمر نے نبی علیہ السلام کی نبوت میں شک کیا۔ (معالم التنزیل، درمنثور، تاریخ الخميس )

🔹(الجواب اہلسنّت)🔹

🔸(١)صلح حدیبیہ کے موقع پر جو صبر آزما احوال پیش آئے اور جس طرح مسلمان ہو کر آنے والے ابو جندل اور ابو بصیر کی حالت زار کو صحابہ کرام نے سینے پر پتھر رکھ کر برداشت کیا یہ ان کا ہی جگرا تھا اس موقع پر دیگر صحابہ کرام کی طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی شدید پریشانی اور اضطراب میں مبتلا تھے صلح حدیبیہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کا اضطراب اور یہاں کے پیش آنے والے احوال کو دیگر محدثین کی طرح امام مسلم رضی اللہ عنہ اور امام بخاری رحمہ اللہ نے بھی نقل فرمایا ہے۔

🔸(٢)مذکورہ تینوں کتابوں میں جس جملہ کو نشانہ بنا کر تحقیقی دستاویز والوں نے الزام دھرا ہے وہ ہے۔ و الله ما شككت منذ أسلمت الايومئذ یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ اللہ کی قسم مجھے اسلام لانے کے بعد آج سے پہلے کبھی شک نہیں ہوا مگر آج کے دن ۔ مگر یہ الفاظ کسی صحیح روایت میں موجود نہیں بخاری ومسلم میں ان الفاظ کا کسی روایت کے اندر ذکر نہیں پایا جاتا۔ ان الفاظ کا بنیادی ماخذ ابن جریر طبری متوفی ٣١۰ ہے جس نے سورۃ فتح کی تفسیر میں یہ روایت با سند ذکر کی ہے، جس میں ایک راوی ابن شہاب الزہری ہے اور راوی جب روایت ذکر کرتا ہے تو قال الزهري قال الزهری کا جملہ متعدد بار دہرایا ہے جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ الفاظ (والله ما شككت الخ) زہری کی طرف سے درج شدہ ہیں یعنی یہ الفاظ اصل روایت میں بالکل نہیں بلکہ زہری نے یہ الفاظ اپنی طرف سے اضافی داخل کر دیئے ہیں اور یہ ادراج کا کارنامہ زہری کا کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ مطالبہ فدک والی روایت میں ، قال الزھری “فهجرته فاطمة فلم تکلمه حتی مانت” کا ادراج بھی ان سے واقع ہو چکا ہے جس کی تفصیل محقق العصر حضرت مولانا محمد نافع رحمہ اللہ نے رحم بینهم حصہ صدیقی بحث فدک میں صفحہ ١٢٥ تا ١٣٧ پر ذکر فرمائی ہے۔ لہذا اس فدک والے ادراج کی طرح یہاں بھی زہری نے یہ متنازعہ الفاظ اضافہ کر دیے ہیں اصل روایت میں یہ الفاظ موجود نہیں ہیں بعد کے مفسرین نے جو یہ الفاظ نقل کئے ہیں یہ اسی ابن جریر الطبری سے حاصل کیے ہوئے ہیں۔

🔸(٤)حافظ علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں کافی ساری روایات نقل کرنے کے بعد لکھا ہے۔ عبد الرزاق نے معمر سے اور معمر نے الزہری سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے اور اس روایت میں بہت ساری چیزیں دوسروں سے مختلف ذکر کی ہیں ۔ اور یہ بہت ہی زیادہ غریب ہیں اور معروف روایات کے خلاف ہیں۔
👈تفسیر ابن کثیر صفحہ ۱۹۷ جلد ٤ پارہ٢٦ سورة فتح )
“اس وضاحت سے معلوم ہوا کہ یہ الفاظ کی قابل اعتماد روایت کے نہیں ہیں”

🔸(٥) باقی رہا حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا حدیبیہ کے موقعہ پر اضطراب اور پریشانی جس کا اظہار انہوں نے مختلف الفاظ میں صدیق اکبر رضی اللہ عنہ وغیرہ کے سامنے کیا تو یہ ان کے کمال ایمان کی دلیل ہے کہ اہل اسلام اور کفار مکہ کے درمیان مصالحت و معاہدہ ایسی شرائط پر ہوا تھا جس میں بظاہر اہل اسلام مغلوب اور کفار غالب تھے یہ شرائط ان کے حق میں بظاہر بہت مفید تھیں اسی مغلوبانہ شرائط کو دیکھ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ملی غیرت اور دینی حمیت کی بنا پر پریشانی لاحق ہوئی جو ایک فطری عمل تھا لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نر کو اسلام یا نبوت و رسالت میں ہرگز کوئی شک نہیں ہوا تھا جس کو وضاحت سے شارحین حدیث نے بیان فرمایا ہے، ملاحظہ ہو۔
👈(فتح الباری شرح بخاری صفحہ ۲۲۵ باب الشروط فی الجهاد والمصالحت مع اہل الحرب)

🔸(٦)حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اضطراب اور دکھ ضرور تھا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت میں شک کی ہرگز نہیں تھا حضرت مولانا محمد نافع رحمہ اللہ فوائد نافع میں فرماتے ہیں، اضطراب کی حالت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہاں تشریف لائے اور اپنی پریشانی کا اظہار فرمایا تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا انی اشهد انه رسول الله یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ (نے بھی جواب میں یہ الفاظ دہرائے انى اشهد انه رسول الله
👈(فوائد نافع حصہ اول صفحہ ۲۰۲)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا رسول اللہ کی نبوت و رسالت کی گواہی دینا اور اقرار کرنا باوجود اپنی حد درجہ کی اس پریشانی کے۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ پریشان ضرور تھے کہ ملت اسلامیہ کی عزت و وقار کا خیال پیش نظر تھا مگر اس کا وہ مطلب نہیں جو ابن شہاب زہری نے پھیلا دیا بلکہ یہ قومی وقار کی بنا پر پریشان تھے کہ ہم یوں دب کر صلح کر رہے ہیں جبکہ حقیقی صورت حال کا علم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تھا کہ بظاہر اگرچہ اس صلح میں ان کفار مکہ کا فائدہ ہے مگر اس صلح کی تہہ میں مسلمانوں کی فتح کا راز پہاں ہے۔ نیز اگر شک کا لفظ بھی ہوتو یہ وسوسہ کے درجہ میں ہوگا کہ وسوسہ آیا مگر فوراً رفع ہوگیا اور وسوسہ پر پکڑ ہی نہیں۔