حضرت عمر نے حضرت ابوہریرہ کو کتاب وسنت کا دشمن کہا۔ (اعلاءالسنن )

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر شیعہ کا الزام نمبر۔11

🔺شیعہ الزام 👇👇
حضرت عمر نے حضرت ابوہریرہ کو کتاب وسنت کا دشمن کہا۔ (اعلاءالسنن )

🔹(الجواب اہلسنّت)🔹

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے گورنر بنا کر بھیجا اس وقت ان کے پاس مال نہیں تھا جب گورنری سے واپس آئے تو 10 ہزار درہم تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خیال ہوا کہ مسلمانوں کے مال میں سے یہ 10 ہزار حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے رکھ لیے ہیں اس اندیشہ کی تحقیق وتفتیش کیلئے حضرت عمر رضی اللہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرمایا اے دشمن خدا اور اللہ کی کتاب کے دشمن کیا تو نے اللہ کا مال چرایا ہے؟ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے براءت کا اظہار کیا اور مال حاصل ہونے کی تفصیل بیان فرمائی کہ میرے کھوڑوں کی نسل پھیلی جس سے مجھے یہ رقم حاصل ہوئی نیز دوست احباب کے عطیات سے بھی مجھے مال حاصل ہوا اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ مطمئن ہو گئے ۔ کسی اپنے جماعتی فرد کی غلطی دیکھ کر اصلاح کیلئے ڈانٹنا اور اس کی اصلاح کرنا بھی کیا قابل اعتراض ہے؟ یہ تو ایسا ہی ہے جیسے کوئی باپ بیٹے کو چوری کرنے پر ڈانٹے کہ اے دشمن خدا و رسول تو نے اللہ کا حکم توڑ کر چوری کی راہ اختیار کر لی ہے؟ اور رافضی کرم فرما یہ خبر نشر کر دے کہ باپ نے بیٹے کو دشمن خدا کہہ دیا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے اموال پر نگران تھے اور بظاہر ان کے پاس مال کی موجودگی نے یہ شک پیدا کر دیا تھا کہ یہ مسلمانوں کے اموال سے حاصل کیا گیا ہو گا ایسی صورت میں سختی کے یہ الفاظ عین حکمت کے مطابق نہیں تا کہ مسلمانوں کے اجتماعی اموال پوری طرح سے محفوظ رہیں اور کوئی شخص خیانت کا بوجھ کندھوں پر اٹھا کر اخروی سزا کا مستحق نہ بن جائے یہ تو سوچ و فکر کا درست زاویہ ہے اس کے مقابلے میں یار لوگوں کا ارشاد ہے کہ یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے دشمنی کی دلیل ہے۔ اور یہ کہ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ اچھے اخلاق کے مالک نہ تھے۔ حالانکہ اس خیال باطل کا مذکورہ واقعہ میں شائبہ تک نہیں۔