حضرت عمر نے بحالت روزہ جماع کیا. (کنز الایمان)

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر شیعہ کا الزام نمبر۔7

🔺شیعہ الزام👇👇
حضرت عمر نے بحالت روزہ جماع کیا. (کنز الایمان)

🔹(الجواب اہلسنّت)🔹
اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنی چاہئے کہ بندہ اللہ پاک کی نظر سے گر جائے ورنہ دنیا کی کوئی چیز بھی دنیا و آخرت کے خسارے سے نہیں بچا سکتی جب بندہ کی مت ماری جائے اور خدا تعالیٰ کی نظر سے گر جائے تو پھر دھوکہ دہی فراڈ اور جھوٹ بولنا بہت ہی ہلکا سا کام لگتا ہے محترم قارئین اندازہ فرمایئے برسات کا موسم ہے بادل چھائے ہوئے ہیں ، گھڑیوں کا رواج نہیں تھا. صحابہ کرام نے روزہ رکھا ہوا تھا بادل کی وجہ سے وقت کا اندازہ نہیں ہو سکا حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے اس اندازے سے کہ سورج غروب ہو گیا ہے لہذا انہوں نے روزہ افطار کر لیا اور اپنی بشری ضرورت کو اپنی اہلیہ سے پورا کر لیا مگر اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ بادل اسی وقت چھٹ گیا اور سورج کی موجودگی کا پتہ چل گیا کہ ابھی سورج غروب نہیں ہوا تو حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے حیدر کرار سے مسئلہ دریافت فرمایا کہ اب کیا کرنا چاہئے حیدر کرار رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ نے حلال سے روزہ افطار فرما لیا ہے، و یوم مكان يوم اب اس ایک دن کے بدلے ایک دن کا روزہ رکھ لو۔ یہ تھا وہ واقعہ جو رافضی مہربان کے ہاں قابل اعتراض قرار پایا ہے حالانکہ اس واقعہ میں ایک شرعی مسئلہ کا حل امت کو معلوم ہوا ہے کہ کوئی شخص بھول کر روزہ افطار کر بیٹھے خواہ وہ بیوی سے قربت کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو تو اس پر صرف قضاء ہے کفارہ نہیں ہیں، اس واقعہ کا پیش آنا یا کتاب میں لکھا ہوا ہو یا نہ گستاخی ہے نہ ہی توہین آمیز جملہ ، خود قرآن کریم میں روزہ کے وقت شروع ہونے کی جو آیت ہے اس میں موجود ہے۔ علم الله انكم كنتم تختانون انفسکم۔ (البقرہ)
فالان باشروهن۔ الخ (بقرہ آیت نمبر ۱۸۷) کا مطالعہ کر کے حقیقت حال سے آگاہی حاصل کی جاسکتی ہے مختصر سی اس سلسلے کی گزارش یہ ہے کہ ابتدائے اسلام میں روزہ کا آغاز رات سونے کے بعد سے ہو جاتا تھا بعض صحابہ کرام سے غلطی ہو گئی کہ سونے کے بعد اپنی گھر والی سے بشری ضرورت پوری کر لی پریشان ہو کر بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے تو یہ آیت نازل فرما کر اللہ تعالیٰ نے صرف صحابہ کو تسلی دی کہ کوئی بات نہیں تم سے غلطی ہوگئی ہے تو میں نے تمہیں معاف کر دیا بلکہ ہدیہ کہ صحابہ کرام کی اس غلطی کو اللہ تعالی نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم شرعیت بنا دیا۔
(ملاحظہ فرمائیں معارف القرآن وغیره)

اللہ تعالیٰ تو صحابہ کرام کے ایسے گھریلو واقعات کو نقل فرما کر اس “وابتغوا ما كتب الله “کا حکم دئیے اور اسے اچھائی قرار دے مگر ایک رافضی ہے جو اللہ تعالی کے اس ارشاد کے برعکس اس بشری ضرورت کی تکمیل کو اعتراض بنا کر پیش کرے
جبکہ حیدر کرار بھی فرما رہے ہوں کہ حلال سے روزہ افطار کیا ہے لہذا کوئی حرج نہیں آپ اگلے دن اس کی جگہ روزہ رکھ لینا۔ اب بھلا یہ کون سی ایسی بات ہے جس کو الزام بنایا جائے ۔