حضرت عمر فاروق کا قبول اسلام (ایک رافضی سےفیس بک پر مکالمہ)

شیعہ پوسٹ:

حضرت عمر فاروق نے اپنی بہن کو قرآن پڑھتے سنا تو اسلام قبول کیا۔


اہلسنت:

یہ روایت جھوٹی ہے۔ اسے صحیح ثابت کریں۔
شیعہ:

تم اس روایت کو ضعیف ثابت کرو۔
اہلسنت:

ٹھیک ہے۔ روایت کا حوالا اور سند پیش کریں۔ ۔
شیعہ:

🤐😴❎❎
شیعہ:

حضرت عمر فاروق کے قبول اسلام پر صحیح روایات دکھاؤ۔
♦️اہلسنت صحیح روایات قبول کروگے؟
شیعہ :

اگر صحیح ہوئیں تو ضرور قبول کروں گا۔
♦️دو صحیح روایات دکھادیں۔

Musnad Ahmed – 105411️⃣
کتاب:سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات
باب:سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے اسلام اور اس کے سبب کا بیان
ARABIC:
۔ (۱۰۵۴۱)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ: ((اَللّٰھُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِأَحَبِّ ھٰذَیْنِ الرَّجُلَیْنِ اِلَیْکَ بِأَبِیْ جَھْلٍ اَوْ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ۔)) فَکَانَ أَحَبُّھُمَا اِلَی اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ۔ (مسند احمد: ۵۶۹۶)
TRANSLATION:
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! ابو جہل اور عمر بن خطاب میں جو آدمی تجھے زیادہ محبوب ہے، اس کے ذریعے اسلام کو غلبہ عطا فرما۔ پس سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب تھے۔
2️⃣ حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا فرمائی : اے اﷲ! ابو جہل بن ہشام یا عمر بن خطاب دونوں میں سے کسی ایک کے ذریعے اسلام کو غلبہ و عزت عطا فرما، چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اگلے دن علی الصبح حاضر ہوئے اور مشرف بہ اسلام ہو گئے۔ ترمذی فی الجامع الصحيح، کتا المناقب، باب فی مناقب عمر، 5 / 618، الحديث رقم : 3683، و أحمد بن حنبل في فضائل الصحابة، 1 / 249، الحديث رقم : 311، و الهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 61، الحاکم فی المستدرک علی الصحيحين، 3 / 89، الحديث رقم : 4484، الطبرانی فی المعجم الکبير، 2 / 97، الحديث رقم : 1428.

♦️ شیعہ :

تسلیم نہیں کروں گا کیونکہ جگہ تو بیان ہی نہیں ہوئی کہ کہاں اسلام قبول کیا تھا۔ 😀