حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی تائید میں نزولِ قرآن

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی تائید میں نزولِ قرآن

سوال یہ ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی کس رائے کے حق میں قرآن میں آیتیں نازل ہوئیں؟

الجواب:

حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو یہ سعادت کئی مرتبہ حاصل ہوئی کہ وحیِ خداوندی نے ان کی رائے کی تائید کی۔ حافظ جلال الدین سیوطی نے “تاریخ الخلفاء” میں ایسے بیس اکیس مواقع کی نشاندہی کی ہے، اور امام الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلوی قدس سرہ نے “ازالة الخفاء عن خلافة الخلفاء” میں دس گیارہ واقعات کا ذکر کیا ہے، ان میں سے چند یہ ہیں:
۱:…حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے یہ تھی کہ جنگِ بدر کے قیدیوں کو قتل کیا جائے، اس کی تائید میں سورة الانفال کی آیت:۶۷ نازل ہوئی۔
۲:…منافقوں کا سرغنہ، عبداللہ بن اُبیّ مرا تو آپ کی رائے تھی کہ اس منافق کا جنازہ نہ پڑھایا جائے، اس کی تائید میں سورة التوبہ کی آیت:۸۴ نازل ہوئی۔
۳:…آپ مقامِ ابراہیم کو نمازگاہ بنانے کے حق میں تھے، اس کی تائید میں سورہٴ بقرہ کی آیت:۱۲۵ نازل ہوئی۔
۴:…آپ ازواجِ مطہرات کو پردہ میں رہنے کا مشورہ دیتے تھے، اس پر سورہٴ احزاب کی آیت:۵۳ نازل ہوئی اور پردہ لازم کردیا گیا۔
۵:…ام الموٴمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر جب بدباطن منافقوں نے نارَوا تہمت لگائی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے (دیگر صحابہَؓ کے علاوہ) حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بھی رائے طلب کی، آپ نے سنتے ہی بے ساختہ کہا: “توبہ! توبہ! یہ تو کھلا بہتان ہے!” اور بعد میں انہی الفاظ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی برأت نازل ہوئی۔
۶:…ایک موقع پر آپ نے ازواجِ مطہرات کو فہمائش کرتے ہوئے ان سے کہا کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں طلاق دے دیں تو اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تم سے بہتر بیویاں عطا کردے گا، اس کی تائید میں سورة التحریم کی آیت نمبر:۵ نازل ہوئی، وغیرہ وغیرہ۔

(بشکریہ ذیشان سلیم)

ڈاؤن لوڈ