حضرت عمر فاروقؓ کی زوجہ ام کلثوم بنت علی یا ام کلثوم بنت ابوبکر: اصل حقائق (فاطمہ علی)

شیعہ یہ تو مانتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ کانکاح ام کلثوم سے ہوا اور یہ نکاح حضرت علی رضی اللہ نے خود کروایاتھا مگر یہ ام کلثوم بنت علی و فاطمہ رضی اللہ نہیں تھی بلکہ بنت ابو بکر رضی اللہ تھی جو صدیق اکبر کی وفات کے بعد پیدا ہوئیں تھی ان کی والدہ اسمابنت عمیس جو کہ حضرت ابوبکر کی وفات کے بعد حضرت علی کے نکاح میں آئیں اور یہ ام کلثوم ربیبہ علی ہونے کی وجہ سے بنت علی مشہور ہوگئیں اور مورخین نے غلطی سے ام کلثوم بنت علی لکھ دیا جبکہ حقیقتاً یہ ام کلثوم بنت ابوبکر تھی جو حضرت ابوبکر کی وفات کے چھ دن بعد پیدا ہوئی تھی
یہ تو تھا اہل تشیع کا جھوٹ اور کذب بیانی
ام کلثوم بنت ابوبکر رضی اللہ کی والدہ کانام اسمابنت عمیس نہیں بلکہ یہ ام کلثوم بنت ابوبکر زوجہ حبیبہ بنت خارجہ بن زید بن ابی زبیر بن مالک بن امراالقیس بن ثعلبہ بن کعب خزرج تھیں
جیساکہ شیعہ کی معتبر کتاب ناسخ التواریخ صفحہ 217اور 215پر لکھاہے
حبیبہ دختر خارجہ دروقت وفات ابوبکر حاملہ بود پس ازودخترپیداشد نام ام کلثوم است
اس کا مطلب کہ حضرت ابوبکر کی زوجہ حبیبہ بنت خارجہ حضرت ابوبکر کی وفات پر حاملہ تھی ان کے بعد جولڑکی پیدا ہوئی اس کا نام ام کلثوم رکھا گیاتھا
ام کلثوم بنت ابوبکر کی والدہ کانام اسمابنت عمیس نہیں تھا اور ناہی ام کلثوم کی والدہ کانکاح حضرت علی رضی اللہ سے ہواتھا اور نایہ ام کلثوم حضرت علی کے گھر گئی اور ناہی ربیبہ علی کی نسبت اسے ملی
ناسخ التواریخ کے ص 178پر اسمابنت عمیس کاحال کچھ اسطرح لکھاہے کہ اسمابنت عمیس کاپہلانکاح حضرت علی کے بھائی حضرت جعفر بن ابی طالب سے ہواتھا اور وقت ہجرت حبشہ یہ حضرت جعفر کے ہمراہ تھیں حضرت جعفر کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر صدیق کے نکاح میں آئیں
ناسخ التواریخ صاحب کے الفاظ ہیں
اسما سے محمد بن ابی بکر پیداہوئے صدیق کی وفات کے بعد علی علیہ السلام نے نکاح کیا اور علی علیہ السلام سے یحییٰ پیداہوئے
اس سے یہ ثابت ہوتاہے کہ اگر حضرت علی سے نکاح کرنے کے بعد کہ محمد بن ابی بکر اپنی ماں کے ہمراہحضرت علی کے گھر آیا تھا ناکہ ام کلثوم بنت ابوبکر
کیونکہ ام کلثوم بنت ابوبکر کی والدہ حضرت اسمابنت عمیس نہیں بلکہ حبیبہ دختر خارجہ تھی اور حبیبہ دختر خارجہ کانکاح (بعد ازوفات ابوبکر رضی اللہ) حبیب بن ساخر کے ساتھ ہواتھا
ناسخ التواریخ ص 721پر لکھاہے
بعد وفات ابوبکر حبیبہ بنت خارجہ حبیب بن ساخر کے نکاح میں آئیں

آئیے اب دیکھتے ہیں کہ ام کلثوم بنت ابوبکر کانکاح کس سے ہواتھا؟

ناسخ التواریخ 721پر لکھاہے
بہرحال ام کلثوم بنت ابی بکر طلحہ بن عبد اللہ کے نکاح میں آئیں ان سے دوبچے بھی پیداہوئے لڑکے کانام زکریا اور لڑکی کانام عائشہ رکھاتھا
شیعہ کاجھوٹ اور مکروفریب ظاہر ہوگیا کہ ام کلثوم بنت ابوبکر حضرت عمر کے نکاح میں نہیں تھی بلکہ طلحہ بن عبد اللہ کے نکاح میں تھی اور اسی کتاب میں مصنف لکھتاہے کہ حضرت عمر نے دوعورتوں سے نکاح کرناچاہا مگر وہ دونوں راضی ناہوئیں
اول ام ابان دختر عتبہ. دوم. ام کلثوم بنت ابوبکر
حضرت عمر رضی اللہ نے ام کلثوم بنت ابوبکر رضی اللہ سے نکاح کرناچاہا مگر نہیں ہوا
معارف شیعہ کی چوٹی کی کتاب ہے معارف مطبوعہ مصری ص85پرجسکے مصنف ابراہیم بن قتیبہ ہے لکھتے ہیں کہ حضرت عمر نے حضرت عائشہ کو ان کی بہن ام کلثوم بنت ابی بکر سے نکاح کرنے کاپیغام دیا انہوں نے اقرار توکرلیامگر خود ام کلثوم راضی ناہوئی تو حضرت عائشہ نے حیلہ کرکے ٹال دیا
اسی کتاب معارف میں لکھاہے کہ ام کلثوم بنت فاطمہ کی شادی عمر ابن الخطاب سے ہوئی اوران سے اولاد بھی پیدا ہوئی
اصول کافی شیعہ کی بلند پایہ کی کتاب ہے جس میں ان کے امام جعفر صادق بھی اس عقد کی تائید کرتے ہیں
شیعہ اور سنی کتابوں سے متفقہ طور پر حضرت عمر رضی اللہ اور ام کلثوم بنت علی رضی اللہ کانکاح ثابت ہے
ناسخ التواریخ میں موجود ہے کہ حضرت عمر نے آٹھ شادیاں کیں اوران میں آٹھویں بیوی کانام ام کلثوم بنت علی لکھاہے

رافضی قوم ازلی ڈھیٹ اور خبیث ہے جو وقت آنے پر اپنی کتابوں اپنے مجتہدین اور اپنے باپ کابھی انکار کردیتے ہیں