حضرت عمر سنت رسول کی مخالفت کرنے سے بھی دریغ نہ کرتے تھے۔ (حضرت عمر کے سرکاری خطوط ، از ڈاکٹر خورشید احمد فاروق)

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر روافض شیعہ کا الزام نمبر۔6

🔺شیعہ الزام👇👇
حضرت عمر سنت رسول کی مخالفت کرنے سے بھی دریغ نہ کرتے تھے۔
(حضرت عمر کے سرکاری خطوط ، از ڈاکٹر خورشید احمد فاروق)

🔹(الجواب اہلسنت)🔹
حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی ذات گرامی پر رائے زنی کیلئے ارباب علم کی پوری جماعت کو چھوڑ کر اب یار لوگ ڈاکٹروں کے حضور جا کھڑے ہوئے اور اس مذکورہ ڈاکٹر صاحب کی تصنیف کردہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سرکاری خطوط تامی کتاب لائے ہیں، ہم عرض کرتے ہیں کہ مذکورہ صاحب کی رائے ڈاکٹری میں تو معتبر ہوگی مگر سیرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے بارے میں ان کی رائے ایسی ہی ہو گی جیسے کسی لوہار کی رائے جہاز کے پرزه جات فٹ کرنے میں! جبکہ وہ جہاز کے پرزه جات کے بارے میں کچھ نہیں جانتا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے بارے میں کتاب اللہ اور ارشاد رسول معلومات حاصل کرنے کا بہتر راستہ ہے ڈاکٹر صاحب کو شاید علم نہیں کہ مدینہ منورہ کے باسی دہلی کے سٹوڈنٹ نہیں تھے رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے تربیت یافتہ تھے یہاں تو قرآن پاک یا سنت نبویہ کے خلاف کوئی بات سنائی دیتی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسے نڈر خلیفہ کے سامنے عورت اور دیہاتی کھڑے ہو جاتے تھے اور بالآخر حضرت عمر رضی اللہ عنہ یہ فرماتے تھے کہ ایک عورت کو بھی اس خاص مسئلہ میں ) اتنا علم ہے کہ عمر کو اتنا علم نہیں۔ پھر شاید ڈاکٹر جی کی معلومات اتنی کمزور ہیں کہ اللہ تعالی کے نزدیک جو مرتبہ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو حاصل ہے اس کو بھی نہیں جانتے کہ فاروق اعظم عرض کریں اے اللہ کے رسول عبد اللہ ابن ابی منافق کا جنازہ نہ پڑھائے اور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم” اپنی شفقت اور کمال عنائت سے جنازہ پڑھا دیں تو آسمانوں سے حکم آجاتا ہے ولا تصل على احد منهم مات ابدا ۔ کہ ان منافقین میں سے کوئی مر جائے تو ان کا جنازہ مت پڑھائے۔ اگر فاروق اعظم عرض کریں بدر کے قیدیوں کو کر دیا جائے اور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی کمال رحم دلی سے فدیہ لے کر چھوڑ دیں تو حکم آ جاتا ہے کہ ما كان للنبي أن يكون له اسرئ۔ کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیلئے ان قیدیوں کا رہا کرنا مناسب نہ تھا الغرض علامہ سیوطی ۲۷ آیات کی نشاندہی فرماتے ہیں کہ زمین پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا تو اللہ رب العزت نے اسے قرآن بنا دیا اب جس ڈاکٹر صاحب کو یہ موٹی موٹی باتیں بھی معلوم نہ ہوں ان کی رائے فاروق اعظم رضی اللہ عنہ جیسی عظیم المرتبت ذات کے بارے میں کیا خاک وزن رکھیں گی لہذا تحقیقی دستاویز والے حیاء کو ہاتھ ماریں ہر مودودی و ڈاکٹر کو جو کچھ لکھنے کے شوق میں قلم ہاتھ میں لے بیٹھے اسے اہل سنت کا نمائندہ بنا کر پیش نہ کریں۔ کسی بھی مسلک کے ماہرین علوم دینیہ کی بات معتبر و مقبول ہوتی ہے نہ کہ ادھر ادھر کے ڈاکٹر کی۔