حضرت عمر زمانہ جاہلیت میں ظالم اور بعد از اسلام ذلیل تھے۔ نعوذباللہ (ازالۃ الخفاء )

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر شیعہ کا الزام نمبر۔17

🔺شیعہ الزام👇👇
حضرت عمر زمانہ جاہلیت میں ظالم اور بعد از اسلام ذلیل تھے۔ نعوذباللہ (ازالۃ الخفاء )

🔹(الجواب اہلسنّت)🔹

🔸(1) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب منکرین زکوٰة سے نرمی کرنے کا مشورہ دیا کہ حالات کی نزاکت کے پیش نظر منکرین زکوٰۃ کو کچھ رعایت دے دی جائے اس موقعہ پر حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ زمانہ جاہلیت میں تو آپ بڑے سخت گیر اور جابر تھے اور اب اسلام لانے کے بعد نرم پڑ گئے ہو۔ اس عبارت میں جابر کا معنی یار لوگوں نے ظالم کر لیا ہے۔ یہی کچھ ہمارے کرم فرماؤں روافض شیعہ کے دامن میں ہے کہ یا تو عبارت کا مطلب خراب کر کے دھوکہ دیں گے اور یا پھر اپنی کتابوں کا گند دوسروں پر انڈیل دیں گے ملاحظہ فرمائیں جبار کا لغت میں معنی ہے۔ زبردست، عظیم مغرور، کھجور کا لمبا درخت جس کو ہاتھ نہ چھو سکے، متکبر۔ (القاموس، الوحید صفحہ ۳۳٠)
جبار کا معنی ظالم کہیں بھی نہیں ہے، پھر الجبار الله تعالی کا اسم مبارک بھی ہے اگر رافضی لوگوں کا کیا ہوا یہ ترجمہ مان لیا جائے تو خود ہی غور فرمائے کہ پھر بات کہاں سے کہاں جا پہنچے گی ۔ اے ارباب انصاف! ملاحظہ فرمایئے سادہ لوح لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے کیا کیا حربے آزمائے جارہے ہیں نہ خدا کا خوف نہ آخرت کا ڈر بس دھوکہ اور فراڈ کا ہی ایک راہ ہے منہ اٹھا کر اسی پر چلے جارہے ہیں اور کسی ناصح کی درد بھری صدا پر لبیک کہنا تو كجا الٹا ناصح کو ہی ظالم و خائن اور پتہ نہیں کیا سے کیا کہے جاتے ہیں۔

🔸(٢) اسی طرح خوار کا معنی کمزور، نرم ہے، نہ کہ ذلیل ۔ ارباب لغت نے کہیں بھی خوار کا معنی ذلیل نہیں لکھا جیسے جبار کا معنی ظالم نہیں لکھا۔ اب دیکھے اس موقعہ پر عبارت کا بے غبار مطلب تو یہ بنتا ہے کہ اے حضرت عمر رضی اللہ عنہ زمانہ جاہلیت میں آپ بڑے زبردست تھے اور اسلام لانے کے بعد کمزور پڑ گئے ہو۔“ مگر فکر آخرت سے بے بہرہ اور عاری کرم فرماؤں شیعہ نے عبارت کا حلیہ بی بگاڑ کر رکھ دیا۔