حضرت عمر جنگ احد میں پہاڑی بکری کی طرح بھاگ کھڑے ہوئے۔ (درمنثور)

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر شیعہ کا الزام نمبر۔18

🔺شیعہ الزام👇👇
حضرت عمر جنگ احد میں پہاڑی بکری کی طرح بھاگ کھڑے ہوئے۔ (درمنثور)

🔹(الجواب اہلسنّت)🔹
یار لوگوں کا دجل اور اندر کی غلاظت کے سوا اس عنوان میں کچھ نہیں رکھا۔ حقیقت حال یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ احد میں استقامت کے ساتھ جمے رہے محقق العصر حضرت مولانا محمد نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں علماء مفسرین و محدثین نے اس مقام میں تشریح کی ہے کہ اس موقع پر جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تقریباً چودہ آدمی ثابت قدم رہے ھے جن میں سات عدد مہاجرین اور سات عدد انصار میں سے تھے اور مہاجرین میں سے جو حضرات ثابت قدم رہے ان کے اسماء ذکر کیے ہیں وہ حضرات جناب ابوبکر ، عمر، علی، طلحہ، عبید الله، عبد الرحمن بن عوف، الزبیر اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم اجمعین تھے، پھر تفسیر خازن اور فتح الباری سے حوالا نقل فرما کر وضاحت فرمائی کہ شیخین حضرات مع دیگر اکابر کے آپ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی رفاقت میں ثابت قدم رہنے والوں میں شامل رہے۔
👈(فوائد نافع حصہ تحت باب محاذ جنگ سے فرار کا جواب، صفحہ ١٠٨)

🔸(٢) صاحب سیرۃ ابن ہشام فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور مہاجرین کی ایک جماعت نے کفار کے دستہ سے جنگ کی یہاں تک کہ ان کو پہاڑ سے اتار دیا.
👈(سیرت ابن ہشام، جلد ٣ صفحہ ٩١)

🔸(٣) سيرة المصطفی جلد اصفحہ ۵۵۷ پر بھی مذکور ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سمیت سات مہاجرین استقامت کے ساتھ میدان احد میں کفار کے مقابلے پر جمے رہے، اب ذرا درمنثور کی روایت ملاحظہ فرمائیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرمایا اور ان الذين تولوا منکم یوم التقى الجمعان (آل عمران ل) تلاوت فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ میں احد والے دن تیزی کے ساتھ احد پہاڑ پر چڑھ گیا تھا۔
( شیعہ تحقیقی دستاویز عکسی صفحہ) محترم حضرات یہی وہ الفاظ ہیں جس کو یار لوگوں نے طوفان بنا کر پیش کیا ہے اگر دشمن سے لڑنے کے لئے محفوظ جگہ اور لڑائی کے مناسب مقام پر چڑھنا بھاگ کھڑا ہونا ہے تو اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھ لینا چاہے کہ اپنے پلے میں کوئی رتی ایمان کی بچتی بھی ہے یا نہیں کیونکہ احد کی اسی لڑائی میں خود رحمت عالم پہاڑ پر چڑھ گئے تھے اور دوبارہ مسلمانوں کا اکٹھا ہونا اور کفار سے ٹکرانا بھی اسی احد کے میدان میں واقع ہوا تھا!

🔸(٤) علامہ ندوی رحمہ اللہ نے اپنی تاریخ اسلام میں احد کے احوال نقل کیے ہیں ۔ انہوں نے لکھا ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کی خبر پھیل گئی تو ابو سفیان نے پہاڑ پر چڑھ کر اس کی تصدیق کے لیے آواز لگائی کہ محمد یہاں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو جواب دینے سے منع فرما دیا۔ جب ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو کوئی جواب نہ ملا تو اس نے پھر کہا کیا تم میں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہ ہیں مگر جواب نہ ملا تو وہ کہنے لگا سب مارے گئے اسلام کا خاتمہ ہو گیا ۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اجازت سے بولے کہ اے دشمن خدا ہم تینوں زندہ ہیں! یہ سن کر اس نے هبل کا نعرہ لگایا اور مسلمانوں نے اللہ اعلى و اجل کا نعرہ بلند کیا۔ الخ۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب مشرکین مکہ اپنے کو فاتح قرار دے رہے تھے۔ اس وقت ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہی جواب دے رہے تھے اگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھاگ گئے تھے تو پھر یہاں جواب کون دے رہا تھا؟


مزید پڑھیں

غزوہ احد (تحقیق)

حضرت عمر فاروق اور جنگ احد

غزوہ احد اور صحابہ کرام پر رافضی خیر طلب کے اعتراضات (مولانا علی معاویہ)

غزوہ احد: کوئی بھی صحابی جنگ سے نہیں بھاگا! دلائل