حضرت عمر بعد از اسلام بھی پیتے تھے۔ (الستطرب)

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر شیعہ کا الزام نمبر۔9

🔺شیعہ الزام 👇👇
حضرت عمر بعد از اسلام بھی پیتے تھے۔ (الستطرب)

🔹(الجواب اہلسنت)🔹
شراب کی حرمت کا حکم بتدریج نازل ہوا اول صرف اس کی برائی بیان کی گئی پھر ارشاد فرمایا گیا کہ کچھ تھوڑا بہت نفع ہے اور نقصان اس کا زیادہ ہے پھر شراب پی کر نماز پڑھنے سے روکا گیا اس کے بعد شراب کے حرام ہونے کا فیصلہ سنایا گیا مذکورہ واقعہ حرمت کا حکم نازل ہونے سے پہلے کا ہے پھر جب حرمت کا حکم نازل ہوا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا انتهينا انتهينا یعنی ہم باز آ گئے ہم باز آ گئے ۔ تو جب تک حرمت شراب کا حکم ہی نازل نہ ہوا تھا اس وقت کے کسی واقعہ نقل کر کے یہ الزام دینا کہ وہ اسلام لانے کے بعد بھی پیتے تھے فریب کاری اور دجل ہے۔“
🔸ارباب دانش ملاحظہ فرمائیں المستطرب کے صفحہ 340 پر جس واقع کا ذکر ہے وہ حرمت شراب کا حکم نازل ہونے سے قبل کا ہے یہ ان دنوں کی بات ہے جب قرآن کریم نے نشہ کی حالت میں نماز پڑھنے سے روکا تھا ، جبکہ شراب کا پینا اس وقت تک حرام نہ ہوا تھا۔
اب جو چیز حرام ہی نہ ہوئی تھی اس کے استعمال پر الزام دینا کسی دیانت دار آدمی کے بس میں نہیں ۔ البتہ قہر حشر کے خوف سے عاری لوگ کچھ بھی کہہ اور کر سکتے ہیں.
🔸 جاننا چاہئے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ مکہ میں اسلام لا چکے تھے اور شراب کی حرمت کا حکم مدینہ منورہ میں نازل ہوا تھا اسی کو کہتے ہیں دھوکہ بازی۔