حضرت عمر ابوقتادہ انصاری اور دیگر صحابہ جنگ حنین میں بھاگ کھڑے ہوئے (بخاری)

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر شیعہ کا الزام نمبر۔21

🔺شیعہ الزام👇👇
حضرت عمر ابوقتادہ انصاری اور دیگر صحابہ جنگ حنین میں بھاگ کھڑے ہوئے (بخاری)

🔹(الجواب اہلسنّت)🔹

🔸(1) بخاری شریف کے مذکورہ عکسی صفحہ سے جو غزوہ حنین کا نقشہ رافضی دماغ کی سکرین پیش کر رہی ہے وہ خالص دھوکہ اور روایتی فراڈ بازی ہے۔ صورت حال کچھ یوں ہے کہ ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ نے ایک کافر کو قتل کیا لڑائی کے بعد ابھی قتل کر کے فارغ ہی ہوئے کہ مسلمانوں کو پسپائی ہوگئی اس صورت حال سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ پریشان تھے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ یہ مسلمانوں پر کیا حالت گزر گئی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ کا فیصلہ ایسے ہی تھا فرماتے ہیں کہ ہم اس وقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہی تھے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما ہوئے اور فرمایا جس مسلمان نے جس کافر کو قتل کیا اس کا
سامان قاتل کو ملے گا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی گواہی سے میرے ہاتھوں مقتول کافر کا سامان وغیرہ مجھے مل گیا جس کو فروخت کر کے میں نے باغ خریدا۔
(از بخاری عکسی صفحہ )
اس صفحہ پر نہ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا فرار ہونا معلوم ہوتا ہے اور نہ ہی ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کا بلکہ ان حضرات کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہونا معلوم ہوتا ہے۔ مگر ناس ہو حسد کا جو حق بات کو قبول کرنے کی بجائے اُلٹے راستے سوجھاتا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور ابو قتادہ اظہار افسوس فرما رہے ہیں اور ”ثم تراجع الناس کہ پھر پسپا ہونے والے حضرات لوٹ آتے ہیں یہ لفظ صاف صاف رافضی جھوٹ کے منہ پر طماچہ رسید کر رہا ہے کہ یہ دونوں حضرات تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہی موجود تھے البتہ کچھ لوگ پسپا ہو گئے تھے جو دوبارہ لوٹ آئے۔
🔸(٢) یہاں بھی روایتی دجل سے کام چلاتے ہوئے رافضی فریب کاروں کے نمبردار نے انہزام کا معنی انفرار سے کیا ہے۔ حالانکہ ہزم کا معنی فزیفر ہرگز نہیں بلکہ ان دونوں معنوں میں بڑا فرق ہے ہم قاموس الوحید کے حوالے سے الہزیمتہ کا معنی بوضاحت لکھ چکے ہیں کہ اس کا معنی فرار ہونا یا بھاگ جانا نہیں جیسا کہ رافضی مکاروں نے عامتہ الناس کو ورغلایا ہے بلکہ مطلب یہ ہے جو ہم عرض کر چکے ہیں کہ بعض حضرات کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے پھر پسپائی کے بعد دوباره صحابہ کرام جمع ہوئے اور ان کفار پر حملہ کر کے ان کی اصل ان کو یاد دلا ڈالی۔