حضرت علی و عباس دونوں حضرت ابو بکر و عمر کو کاذب خائن سمجھتے تھے۔ (صحیح مسلم ، مسند الامام احمد بن حنبل، مسند ابی عوانہ نیل الاوطار)

شیعہ افتراء
حضرت علی و عباس دونوں حضرت ابو بکر و عمر کو کاذب خائن سمجھتے تھے۔
(صحیح مسلم ، مسند الامام احمد بن حنبل، مسند ابی عوانہ نیل الاوطار)

(الجواب)

حضرت مولانا محمد نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں اس واقعہ کو نقل کرنے والے بعض رواۃ نے روایت بالمعنی ذکر کرتے ہوئے بطور ادراج کے بعض شدید الفاظ کا اضافہ کر دیا ہے جن کو معترضین نے اپنے اعتراض کی بنیاد قرار دیا ہے اصل واقعہ میں یہ الفاظ شدید منقول نہیں ہیں اور اس چیز پر قرائن و شواہد پائے جاتے ہیں۔ بہت سے محدثین نے واقعہ ہذا کو اپنی اپنی تصانیف میں درج کیا ہے لیکن مذکور و الفاظ شدید ( کاذبا اثما غادرا خائنا ، ظالم فاجر ) ان میں بالکل مذکور نہیں ہیں۔
مثلاً
(١) مسند احمد جلد ١ صفحہ ۲۰۸، تحت مسندات عمر (رض)

(٢) مسند احمد جلد ١ صفحہ ٦٠، تحت مسندات عثمان (رض) طبع قدیم مصری۔

(٣) بخاری شریف جلد ا صفحہ ۴۳۵-۳۳۶، باب فرض الخمس طبع نورمحمد دہلی۔

(٤) بخاری شریف جلد ۲ صفحہ ۹۹۲ کتاب الفرائض ۔

(٥)السنن لابی داؤد الجستانی جلد۲، صفحه ۵۵-۵۲ باب في صفایا رسول اللہ من الاموال طبع مجتبائی دہلی.

(٦) ترمذی شریف صفحہ ۲۵۰ طبع قدیم لکھنو، باب ما جاءفی تركتہ النبی (ص) ۔

(٧)شمائل جامع ترمذی صفحه ٦٠١ تحت باب ماجاء فی میراث رسول اللہ (ص) .

(٨) السنن الکبری جلد ٤ صفحہ ٦٥.٦٨ کتاب الفرائض ذکر مواریث الانبیاء طبع بیروت۔

(٩) السنن الکبری للبیہقی جلد ٦ صفحہ ۲۹۸-۲۲۹ تحت بیان مصرف اربعہ اخماس الفئی بعد رسول اللہ۔

مذکورہ حضرات نے یہ روایت ذکر کی ہے مگر مذکورہ الفاظ ذکر نہیں کیے اور یہ چیز ادراج راوی پر مشتمل قرینہ ہے۔ اور امام نووی نے شرح مسلم میں الماذری کے حوالہ سے یہی توجیہہ بحث ہذا کے تحت نقل کی ہے۔
(فوائد نافع حصہ اول صفحہ ٢٠٩)

(٢) حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ جیسے حضرات کے بارے میں یہ گمان کہ وہ کسی صحابی کو خائن اور کاذب جانتے ہوں بڑی جرات کی بات ہے اس لئے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ جس مقدس دین کے عظیم پشوا ہیں دین ایسے اخلاق کو پسند نہیں کرتا بلکہ اس دین میں کسی کو کاذب یا خائن کہنا بہت بڑا جرم ہے محدثین نے زبان کی حفاظت اور بدگوئی سے بچنے پرمشتمل روایات کے مستقل ابواب قائم کیے ہیں امام بیہقی نے شعب الایمان میں زبان کی حفاظت کو ایمان کا شعبہ قرار دے کر اس عنوان پرمفصل گفتگو کی ہے صاحب مشکوة نے بھی مستقل باب قائم کر کے روایات جمع فرمائی ہیں ایک ایسا فعل جس سے بچنے کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ترغیب دی ہو ان ممنوع امور کا انکار حیدر کرار اور عم رسول حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے بھلا کیسے ممکن ہے؟

(٣)حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مشرک قوم کو مسئلہ توحید سمجھانے کی غرض سے ستاروں کے بارے میں فرمایا ہٰذا ربی پھر
چاند کے بارے میں فرمایا ہٰذا ربی پھر سورج کے بارے میں فرمایا ہٰذا ربی ہٰذا اکبر ۔ کہ یہ میرا رب ہے یہ (بہت) بڑا ہے۔ یہ ہذا بغیر استفہام کے ہوتو لازم آئے گا کہ موحد پیغمبر نے ایسا جملہ استعمال فرمایا جو شرکیہ ہے حالانکہ یہ شان
ابراہیمی کے خلاف ہے لہذا ارباب علم فرماتے ہیں یہاں ہمزہ استفہام کا مخذوف ہے یعنی اللہ کے پیغمبر فرماتے تھے اہذا ربی کیا یہ میرا رب ہے؟ وغیرہ اسی طرح زیر بحث حدیث میں بھی حضرت عمر (رض کی حضرت علی رضی اللہ عنہ و حضرت
عباس رضی اللہ عنہ سے گفتگو استفہامی انداز میں تھی اس صورت میں عبارت کا مطلب یہ ہوگا کہ کیا تم مجھے جھوٹا، گنہگار، دھوکہ
دینے والا خائن جاتے ہو؟ اب اس استفہام کا یہ مطلب ہرگز نہ ہوگا کہ واقع میں یہ دونوں حضرات ایسا ہی جانتے
تھے بلکہ یہ ایک قسم کی تشبیہ ہے کہ آپ کا انداز ایسا ہے جیسے آپ کے نزدیک میں خائن ہوں حالانکہ اللہ تعالی جانتے ہیں کہ میں ہرگز ایسا نہیں ہوں ۔ لہذا جیسے قرآن کریم میں ہمزہ استفہام کا مخدوف ہے یہاں زیر بحث حدیث میں بھی ہمزه استفہام کا مخدوف ہے۔
روایت کے مذکور و الفاظ کو اگر وہی مفہوم پہنا دیا جائے جو یار لوگوں کا تراشہ ہوا ہے تو اس صورت میں ان حضرات سے لوگوں کا اعتماد اٹھانے کی یہ ایک جسارت ہو گی اس لئے کہ دوسرے مقام پر ان حضرات کی زبانوں سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زبردست تعریف ، راست گوئی فضل و کمال اور علو مرتبہ کا اعلان و اظہار نشر ہو رہا ہے مثلاً حضرت محمد بن
حنیفہ نے حضرت عبداللہ کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں سخت لفظ بولا تو حضرت علی (رض) نے ابن حنفیہ کو مخاطب کر کے فرمایا: اس کے باپ کو برائی کے کلمات سے مت یاد کرو ان کے حق میں صرف خیر کا کلمہ ہی بولو الله تعالی ان کے باپ پر رحمت نازل فرمائے۔ (شرح نہج البلاغہ لا بن ابی الحدید شیعی بروایت نصر بن مزاحم جلد ١ صفحہ ٦٤٤ طبع بیروت تحت عنوان فی بعض شمائلہ)
حضرت علی و عباس رضی اللہ عنہ کے فاروق اعظم سے محبوبانہ تعلقات “تذکرہ خیر اور باہمی بھائی چارہ کے عنوان پر مستقل کتابیں موجود ہیں محقق العصر حضرت مولانا محمد نافع محمدی شریف ضلع جھنگ کی رحماء بينهم حصہ دوم ملاحظہ فرما کرتسلی کی جاسکتی ہے۔
جب صورت حال یہ ہے کہ ایک طرف تو یہ حضرات سیدنا فاروق اعظم کی تعریف میں رطب اللسان ہیں تو دوسری جانب بزعم روافض وہ حضرات شیخین کو غاصب و خائن بھی جانتے ہیں ان دو متضاد باتوں میں سے کون سی بات بات درست ہے؟
ہم اہل سنت عرض کرتے ہیں کہ مذکورہ کتابوں کی وہی تعبیر آل رسول کی صدق مقالی کے ساتھ ان کی دیانت وعظمت کی محافظ ہیں جو اوپر مذکورہ ہوئی اہل سنت و الجماعت ان کی مدد و نصرت سے نہ صرف اصحاب رسول اللہ بلکہ خاندان نبوی کی عزت و توقیر کی حفاظت پر بھی اپنا زور صرف کرتے ہیں یہ یار لوگ ہیں جو منہ میں دعویٰ کچھ اور رکھتے ہیں اور دل میں خاندان نبویہ کے لیے کچھ اور ہوتا ہے۔