حضرت علیؓ کی محبت میں پندرہ وضع کردہ روایات

*حضرت علیؓ کی محبت میں پندرہ وضع کردہ روایات*

محبت کے پیمانے بیشتر چھلکتے ہوئے دیکھے گئے ہیں

جب تک عقیدت پر بصیرت غالب نہ ہو محبت کا رشتہ سنبھلتا نہیں ہے

” حبک الشئ یعمی ویعصم”

تیرا کسی چیز کو محبت کرنا تجھے اندھا اور بہرا بنا دیتا ہے

رافضیوں نے بغیر بصیرت کے بغیر سوچے سمجھے  حضرت سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ سے نام نہاد محبت کے جوش میں کئی جھوٹے فضائل گھڑ لئے ہیں۔۔!!!

محبت کو تسکین اس وقت تک نہیں ہوتی  جب تک  رافضی  کوئی نئی سے نئی بات گھڑ کر حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی شان میں مبالغہ نہ کریں!!!

شاعر اپنے محبوب کے ذکر میں مبالغے کی منزل  دلیری سے پھاندتا ہے یہ اہل ادب پر مخفی نہیں ہے

تاہم سچ ایسی حقیقت ہے کہ اس کی کرن کہیں نہ کہیں سے پھوٹ ہی پڑتی ہے اور جھوٹ برسرِ چرواہے پر پھوٹتا ہے

حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے محبت تو پوری امت مسلمہ کرتی ہے۔۔۔

اور یہ کیوں نہ کریں کہ مومن کامل کی نشانی اور ایمان ہے

لیکن عربوں اور عجمیوں کی محبت کی جہت ہمیشہ مختلف رہی ہے

عربی ذہن والوں نے کمالات کی جھلک آپ کی صفات میں دیکھی

اور عجمیوں نے اسے آپ کی ذات میں گمان کیا

صفات کمالات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور تربیت سے ابھرتے ہیں

اور ذاتی وہ جو کسی مربی کے فیض کا نتیجہ نہیں ہوتے !!!!

مثلاً یہ کہ آپ کس مٹی سے پیدا کیے گئے یا یہ کہ آپ پیدا ہی اسلام پر ہوئے

آپ کا اسلام لانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیضان نہ تھا آپ کا علم لدنی تھا

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو تعلیم نہیں دی ہے

آج ہم چند ایسی باتوں کی نشاندہی کریں گے جو حضرت سیدنا علی رضی اللہ کی عقیدت میں جوش محبت سے شیعہ (روافض) زور خطابت سے کہہ جاتے ہیں لیکن ان کے پیچھے کوئی روایت !!!! کوئی سند کوئی ثقاہت نہیں ہوتی

 شیعہ “کتب احادیث” عام کتب حدیث سے مختلف ہیں

عام مسلمانوں میں سیاست اور ان سے ملحق چند اور کتابیں ہیں جو شارحین حدیث کے ہاں اپنی جگہ مستند سمجھی جاتی ہیں

، جیسے المصنف عبد الرزاق المصنف لابن ابی شیبہ،  موطا امام مالک،  موطا امام محمد،  مسند امام دارمی،  مسند امام احمد،  مسند ابی داود ، مسند ابی یعلی،  مسند ابی عوانہ،  شرح مشکل الآثار شرح معنی الاثار،  سنن کبریٰ ، معجم طبرانی ، مستدرک امام حاکم کو جمہور اہل اسلام  کے نزدیک اسلام کا دوسرا علمی ماخذ سمجھتے ہیں۔

وہ کئی احادیث و سنت انہیں کتب حدیث سے کشید کرتے ہیں لیکن ۔۔۔۔۔

کسی بھی حدیث کو قبول کرنے سے پہلے  صحیح، ضعیف، ناسخ  ومنسوخ  اور خاص و عام کے تمام فاصلے دیکھے جاتے ہیں۔

!!!موضوع روایات کو سمجھا جاتا ہے کیونکہ  وہاں اہل علم کے معیار و ثبوت کے سارے پیمانے آزمائے جاتے ہیں اور جھوٹ سورج کی طرح نمایاں ہوجاتا ہے

ان کے برعکس ۔۔۔

شیعہ کی کتب حدیث ان کے اصول اربعہ ہیں ان کتابوں کے جمہور اہل اسلام کسی طرح ذمہ دار نہیں ہیں اور نہ وہ انہیں کسی درجہ میں مستند سمجھتے ہیں ۔

شیعہ کی کتب مدتوں معرض خفا میں رہیں یہ اپنے مصنفین تک متواتر نہیں پہنچتیں

لیکن اہل سنت کی کتب وہ ہیں جو مصنفین سے لے کر اب تک پوری شہرت سے مروی ہوتی آرہی ہیں

گو ان میں بھی ہر درجہ کی احادیث روایات ہوئی ہیں لیکن ان کے وسیع علم رجال نے اس باب میں امت کی بہت رہنمائی کی ہے

اہلسنت اپنی ابتدائی تاریخ میں بہت روادار رہے ان کا ذہن کسی طور پر فرقہ وارانہ نہ تھا

شیعہ ابتدا سے ہی اپنے آپ کو عام مسلمانوں سے کٹا ہوا یا ہٹا ہوا سمجھتے تھے اور ان میں سے بعض اپنے آپ کو اہل سنت میں ملا کر رکھتے تھے اور ایسا بھی بہت ہوا کہ بعض اہلسنت روایات کو ان کی روایات کردہ حدیثوں میں ملا کر اسی سند سے آگے بھی روایت کر دیتے تھے!!!

ان کی ایسی روایات ہمارے ہاں بھی نچلے درجے کی کتب حدیث میں اور کتب تاریخ میں ملتی ہیں جنہیں یہ مؤلفین از راه تساہل یا بناء تغافل ذکر کر گئے !!

موضوع حدیث کو جانتے ہوئے آگے بیان کرنا شرعا حرام ہے اور ایسے شخص کے ایمان کے ضائع ہونے کا خطرہ ہے جو جان بوجھ کر پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم  پر افتراء باندھے ہاں اس کے موضوع ہونے کے اظہارکی غرض سے اسے کوئی روایت کرے تو یہ بے شک پیغمبر پر اس طرح نہ ہوگا صرف ایک غیر دانشمندانہ تساہل ہوگا جن حضرات سے یہ غیر دانستہ غلطی ہوئی ہم ان کے لئے اللہ رب العزت کے حضور معافی کی درخواست کے سوا اور کیا کر سکتے ہیں

اہل سنت کی بلند پایاں کتب حدیث میں جس طرح حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل و مناقب کے ابواب باندھے ہیں حضرت عثمان اور علی رضی اللہ عنہما کے فضائل بھی اسی طرح ان میں مروی ہیں ان میں فضائل صحابہ اور فضائل اہلبیت دونوں ،  موجود ہیں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت مذکور ہے تو حضرت سیدہ فاطمہ زہراء رضی اللہ عنہا کی منقبت بھی ان میں مروی ہے

1. *خلقت انا وعلی من نور وکنا علی یمین العرش ان یخلق آدم بالفی عام*

  میں اور علی ایک نور سے پیدا کیے گیے اور ہم آدم ؑ کی پیدائش سے دو ہزار سال پہلے عرش کے دائیں جانب نشین تھے 

رافضی عقیدہ:

اس حدیث سے شیعہ راٖضی نے یہ عقیدہ بنایا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نور ہونے میں رسول اللہ کے فیضان کا کوئی دخل نہیں ہے حضرت علیؓ پہلے سے نوری ہیں آپ نے تعلیم وتزکیہ رسول اللہ ؐ سے نہیں پایا بلکہ پہلے سے ہی برابر کے نور چلے آ رہے ہیں

دنیا علم میں یہ آفت *جعفر بن احمد بن علی المعروف بابن علی العلاء* سے آئی

۔ابن عدی کہتے ہیں یہ حدیثیں گھڑتا تھا

کنا نتھمہ بوضعھا بل نتیقن ذلک رافضیا وذکرہ ابن یونس

فقل کان رافضیا یضع الحدیث

ترجمہ ہم اس پر وضع حدیث کا الزام رکھتے ہیں اور یہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ رافضی تھا ابن یونس نے بھی اس کو رافضی کہا ہے اور حدیث گھڑنے والا دیکھا آپ نے اس نے ایک ہی حدیث ایسی گھڑی کے اس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مرید اور شاگرد کے بجائے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو منبع نور قرار دیا

میزان الاعتدال ج٢/١٢۴

استغفراللہ العظیم

ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں

وعامة حدیثة موضوعة کان قلیل الحیاء دعاویہ علی قوم لم یلحقھم

فی وضع مثل ھذا الحدیث الرکیکہ وفیہ مالا یشبہ کلام رسول اللہ عندہ عن یحیی بن بکیر احادیث مستقیمة ولکن یشبہ بھا بتلک الاباطیل”

اور اس کی روایات زیادہ تر موضوع ہوتی ہیں جن لوگوں سے اس کی ملاقات تک نہ تھی ان سے روایت کرتے ہیں اور اس قسم کی کمزور احادیث وضع کرنے میں اور وہ روایات لانے میں جو کلام نبوت سے ہرگز دکھائی نہ دیتی،  یہ شخص کم حیا کرتا تھا اس کے پاس درست احادیث بھی موجود تھیں لیکن ان میں بھی وہ اس طرح کے جھوٹ ملا دیتا تھا

لسان المیزان ج2 ص 109

2۔نور کے بعد ایک مٹی سے پیدا ہونے کی روایت بھی ملاحظہ کریں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

خلقت انا ہارون عمران یحی بن زکریا و علی بن ابی طالب من طینة واحدة

میں حضرت ہارون حضرت عمران حضرت یحیی بن زکریا اور حضرت علی بن ابی طالب ایک ہی مٹی سے پیدا کیے گئے ہیں.

رافضی عقیدہ پنجتن ایک ہی مٹی سے بنے اور مٹی نے نور کا نام پایا

ہمارے لٹریچر میں یہ آفت محمد بن خلف المروزی سے آئی ہے

علامہ ذہبی لکھتے ہیں

ہذا موضوع میزان الاعتدال جلد 6 صفحہ 135 موضوعات ابن جوزی جلد 1 صفحہ 229

حافظ ابن حجر اسے ان الفاظ میں لکھتے ہیں اور فرماتے ہیں یہ موضوع ہے

خلافت انا وہارون و یحیی وعلی مین طنة واحدة ھذا موضوع

 میں اور ہارون اور یحییٰ اور علی ایک ہی مٹی سے پیدا کیے گئے یہاں حضرت عمران کو نکال دیا گیا ہے دروغ گورا حافظ نباشد

وقال دارالقطنی متروک

لسان المیزان جلد 5 صفحہ 157

 

3۔من لم یقل علی خیر الناس فقد کفر

جو شخص یہ نہ کہے کہ علی رضی اللہ عنہ تمام لوگوں سے اچھے ہیں وہ کفر کر چکا

یہ آفت محمد ابن کثیر سے آئی ہے

یحییٰ بن معین کہتے ہیں یہ شیعہ تھا

میزان الاعتدال جلد 6 صفحہ 310

قاضی نور اللہ شوستری کہتا ہے شیعی بودن اہل کوفہ حاجت باقامت دلیل ندار

امام بخاری کہتے ہیں کوفی منکرالحدیث تھا اور امام علی ابن مدینی کہتے ہیں کتبنا عنہ عجائب وخططت علی حدیثہ وکذبہ یحیی بن معین

ترجمہ ہم نے اس سے عجیب عجیب روایات لکھیں اور اس کی روایات کو نشان ضد کرتے رہے اسے یحیی ابن معین میں جھوٹا ٹھہرایا ہے

لسان المیزان جلد ٣/ ٣۵٢

4۔۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بارے میں کہا میں صدیق اکبر ہوں معاذاللہ کیا آپ ایسی بات کہہ سکتے تھے ہرگز نہیں اپنے آپ کو بڑا کہنا اللہ والوں کے عادت نہیں ہے بہرحال روایت یہ ہے

انا عبداللہ واخو رسول اللہ ووانا الصدیق الاکبر لایقولھا بعدی الا کاذب صلیت قبل الناس سبع سنین

  میں اللہ کا بندہ ہوں میں رسول اللہ کا بھائی ہوں میں صدیق اکبر ہوں میرے بعد جو شخص بھی اپنے آپ کو صدیق اکبر کہے وہ جھوٹا ہوگا میں دوسرے لوگوں سے سات سال پہلے اسلام لایا

اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ آپ کے اسلام لانے کے بعد سات سال تک کوئی مسلمان نہ ہوا سات سال صرف آپ اکیلے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر ہیں

سوخت عقل زحیرت کہ ایں چہ بواتعجبیت

اس کے دو راوی قابل نظر ہیں

*عباد بن عبداللہ الاسدی الکوفی

زید بن وہاب الجہنی ابو سلیمان الکوفی

5۔۔۔عن زازان عن سلمان قال رائت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضرب فخذ علی ابن ابی طالب وصدرہ سمعتہ یقول محبک محبی ومحبی محب اللہ و مبغضک مبغضی و مبغضی مبغضب اللہ

 حضرت سلمان کہتے ہیں میں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ران اور سینے پر ایک ضرب سی لگائی اور میں نے آپ کو انہیں یہ کہتے ہوئے سنا تیرا محب میرا محب ہے اور میرا محب اللہ کا محب ہے اور تجھ سے بغض رکھنے والا مجھ سے بغض رکھنے والا ہے اور مجھ سے بغض رکھنے والا اللہ سے بغض رکھنے والا ہے

احادیث میں یہ آفت عمرو بن خالد سے آئی ہے۔

امام احمد کہتے ہیں یہ کذاب ہے۔

یحیی بن معین بھی کہتے ہیں کہ یہ کذاب ہے۔

ابو حاتم کہتے ہیں متروک الحدیث اور زاہب الحدیث ہے

اسحاق بن راھویہ اور ابو ذرعہ کہتے ہیں کان یضع الحدیث

قال وکیع کان جارنا فطہرنا منہ علی کزب فانتقل ورماہ ابن العرقی بالکزب

وہ احادیث وضع کرتا تھا وکیع کہتے ہیں وہ ہمارے پڑوس میں رہتا تھا پھر ہم اس کے کذب کو پا گئے تو وہاں سے چلا گیا

تہذیب ج 8/37

ابن العراقی نے اس کے کذب ہونے کی نشاندہی کی ہے

6۔۔۔عن انس مرفوعا ان اخی ووزیری وخلیفتی فی اہل و خیر من اترک من بعدی علی

حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں حضور رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے فرمایا میرا بھائی میرا وزیر اور میرا میرے گھر میں جانشین اور میرے بعد سب سے بہتر آدمی علی ہے اس نے خلیفتی فی اھلی کہہ کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو صرف حضور رسول اللہ صلی اللہ وسلم کے گھروں تک جانشین رکھا اور آپ سے امت کے خلافت کی یکسر نفی کر دی۔

احادیث میں یہ عافت مطر بن میمون اسکاف سے آئی ہے۔

علامہ ذہبی لکھتے ہیں کہ یہ روایت موضوع ہے

میزان الاعتدال جلد 6 صفحہ 442

امام بخاری ابو حاتم اور امام نسائی کہتے ہیں یہ شخص منکر حدیث تھا کرنل جوزی نے اس روایت کو موضوعات میں لکھا ہے

7۔۔۔عن انس قال رسول اللہ ؐ النظر الی وجہ علی عبادہ

انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ علی رضی اللہ عنہ کے چہرے کو دیکھنا عبادت ہے

المستدرک ج ١/ ١۴١۔ ۴٢

راوی حدیث یہاں یہ واضح نہیں کر سکا کہ عبادت کس کی ہو گی

اللہ تعالی کی یا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی

یہ روایت مطر ابن میمون کی خدمت کا نتیجہ اور فکر ہے

حافظ  ذہبی رحمہ اللہ اس حدیث اور محدث کے بارے میں لکھتے ہیں

کلاہما موضوعان

۔ حدیث بھی اور بیان کرنے والا بھی ۔ دونوں ہی موضوع ہیں

میزان الاعتدال ج6/442

8۔ مطربن میمون نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف سے یہ روایت بھی گھڑی ہے

قال کنت عنہ النی صلی اللہ علیہ وسلم فرای علیا مقبلا فقل انس ھذاحجتی علی امتی یوم القیامة

ترجمہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو حضور علیہ السلام نے آتے ہوئے دیکھا اور فرمایا اے انس رضی اللہ عنہ میری امت پر یہ شخص اللہ کی طرف سے حجت ہوگا قیامت کے دن

حافظ عباس کی اس روایت کو بھی باطل ٹھہراتے ہیں

میزان الاعتدال ج6/442

9۔۔۔۔مطر بن میمون کی ایک اور کارروائی

عن انس قال کنت جالس مع النبیؐ من ھذا قلت ھذا علی ابن ابی طالب یا انس انا وھذا حجة علی خلقہ اخرجہ ابن عدی الکامل

ترجمہ ۔۔حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ علی رضی اللہ تعالی عنہ ادھر آ نکلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے انس یہ کون ہے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ علی بن ابی طالب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے انس میں اور یہ مخلوق پر اللہ کی حجت ہیں

10 ۔ مطر ابن میمون کی ایک اور واردات

عن انس مرفوعا علی اخی وصاحبی وابن عمی وخیر من اترک بعدی یقضی دینی وینجز موعدی میزان الاعتدال ج6۔446

ترجمہ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا علی میرا بھائی ہے علی میرا صحابی ہے علی میرے چچا کا بیٹا ہے اور جو بھی میرے بعد رہیں گے ان میں خیر الناس ہے میرے قرض یہی اتارے گا اور میرے عہد یہی پورا کرے گا

١٣…..عن ابن عباس عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہ قال یا ام سلمة ان علیا لحمہ لحمی وھو بمنزلة ھارون بن موسی منی غیر انی لانبی بعدی اخرجہ عقیلی فی الضعفاء

ترجمہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ سے روایت کی کہ اے ام سلمہ علی رضی اللہ عنہ کا چمڑہ میرا چمڑا ہے وہ بمنزلہ ھارون کے موسی کے لیےتھا میرے لیے میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے عقیلی نے اس کو کتاب الضعفاء میں زکر کیا ہے

اس میں آفت داہر بن یحیی الزاری کی طرف سے آئی ہے۔

حافظ زہبی اس کے بارے لکھتے ہیں

رافضی بغیض لایتابع علی بلایاہ

میزان الاعتدال ج٣ حرف دال

لیکن اس روایت کا دوسرا حصہ

ھو بمنزلة ھارون من موسی

یہ صحیح ہے اخرجہ البخاری

اکثر شیعہ اس سے حضرت علیؓ کی خلافت اول بھی ثابت کرتے ہیں تو ہم پوچھتے ہیں حضرت ہارون علیہ السلام تو حضرت موسی علیہ السلام کی زندگی میں ہی فوت ہو گئے تھے پھر حضرت علیؓ حضرت ہارون علیہ السلام کی طرح کیسے ہوئے؟

11 اولکم وردا علی الحوض اولکم اسلاماعلی ابن ابی طالب

رواہ ابن عدی الکامل

  تم میں سب سے پہلے حوض پر وہ وارد ہو گا جو سب سے پہلے اسلام لایا اور وہ علی ابن ابی طالب ہے

اس روایت میں عبدالرحمن ابن قیس الزعفرانی صاحب سازش ہے

حافظ ذہبی لکھتے ہیں

کذبہ ابن مھدی وابو زرعة قال البخاری ذہب حدیثہ وقال احمد لم یکن شئی واخرجہ الحاکم حدیثا منکراً

میزان الاعتدال ج۴/ ٣٠٩

  عبدالرحمان ابن مھدی اور ابو زرعہ کہتے ہیں کہ وہ چھوٹا تھا اس کی حدیث قبول کے لائق نہیں۔

احمد کہتے ہیں وہ کوئی شئی ما تھا حاکم کہتے ہیں وہ منکر الحدیث تھا حاکم نے سہل انگاری سے اسے صحیح کہ دیا تو امام ذہبی نے اس کا تعاقب کیا ہے اور فرمایا

لیس بصیحح قال ابو زرعة عبدالرحمان بن قیس کزاب

  ۔۔یہ روایت صحیح نہیں ہے اس کا راوی عبدالرحمان ابن قیس کذاب ہے

مستدرک

12۔ وصی وموضع سری وخلیفتی فی اھلی خیر من اخلف بعدی علی

  ۔۔میرا وصی میرا رازدان میرا خلیفہ مرے اہل میں جن لوگوں کو میں پیچھے چھوڑ رہا ہوں ان میں سب سے بہتر علی ہے

الفوائد المجوعہ

قاضی شوکانی اس روایت پر لکھتے ہیں

ساتھ ہی ایک روایت اور اس کی طرف نظر کر لیتے ہیں

عن عبدالرحمن عن سعد ابن ابی الوقاص قال سمعت رسول اللہ من کنت مولاہ فعلی مولاہ

سنن ابن ماجہ عبدالرحمن حضرت سعد بن ابی وقاص سے روایت کرتا ہے وہ فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ نے کو مجھے دوست رکھے علی بھی اس کا دوست ہو

یہ روایت موسی بن الحزامی طحان المعروف موسی صغیر نے عبدالرحمان ابن سابط سے رویت کی ہے اور عبدالرحمان ابن سابط اسے سعد ابن ابی وقاص سے روایت کرتے ہیں

امام یحیی بن معین سے پوچھا گیا عبدالحمان ابن سابط کا سماع سعد ابن ابی وقاصؓ سے ثابت ہے انہو ں نے کہا نہیں

روی عن عمرو بن سعد بن ابی وقاص عباس ابن عبدالمطلب

عباس ابن ربیعہ معاذ بن جبل ابی ثعلبہ الخشنی قیل لم یدرک واحد منھم

تہزیب التہذیب ج٢/ ١٨٠

  اس عبدالرحمان بن سابط نے سیدنا عباس کو سیدنا عمرو بن سعد کو نا عباس بن ربیعہ کو نا معاز بن جبل ؓ کو نا ابو ثعلبہ کو انحضرات میں سے کسی کو بھی نہیں پایا

امام ترمذی نے اس سند سے بیان کیا ہے

محمد ابن جعفر ابن شعبة عن سلمة ابن کہیل قال سمعت ابا الطفیل یحدث عن ابی سریحة او زید بن ارقم

ترمذی ج٢/ ٢١٣

اس سند میں سلمہ ابن کہیل ہیں یہ صاحب کون ہیں شعبہ نے اسے میمون ابن ابی عبداللہ عن زید بن ارقم سے بھی روایت کیا ہے

یہ میمون ابن ابی عبداللہ کون ہے اسے بھی جان لیجیے

یہ بصرہ کا رہنے والا بنی کندہ میں سے ہے اس نے حدیث کن کن سے روایت کی سن لیجیے حافظ ابن حجر رح فرماتے ہیں

روی براء ابن العاذب زید ابن ارقم و ابن عباس و عبداللہ ابن بریدة

اس کے علاوہ کئی لوگوں نے اس سے روایت لی ہے

وعنہ ابناہ محمد وعبدالرحمان وقتادة وخالد الحداء وعوف الاعرابی شعبة

تہذیب ج١٠/ ٣۴٩

اب میمون ابی عبداللہ کا حال سن لیجیے

کان یحیی لایحدث عبہ قال الاثرم ممن احمد احادیث مناکیر وقال اسحاق بن منصور عن یحیی بن معین لا شئ وقال ابو داود نکلم فیہ

تہذیب ج١٠۔ ٣٩۴

اس قسم کے راویوں سے یہ حدیث کسی پایا کو نہیں پہنچتی

یعقوب بن شیبہ کہتے ہیں ثبت علی تشیعہ وہ اپنی شخصیت پر پکا رہا

قال ابو داود کا ن سلمة تشیع

تہذیب ج۴۔ ١۵٧

اور جتنے بھی سنا دے جمع کرتے جائیں یہ حدیث من کنت مولاہ فہذا علی مولا کی سند سے بھی درجہ صحت کو نہیں پہنچتی گو عقیدت کے جوش میں بعض لوگوں نے اس کے متواتر ہونے کا دعوی کیا ہے بلکہ اس کی سندھی جتنی بڑھتی جائیں گی اس کا ذوق اتنا اور نمایاں ہوتا جائے گا جلیل القدر محدث حافظ جمال الدین زیلعی 762 ہ نے اس قاعدہ قد لا یزید الحدیث کثرة الطرق الاضعفا

قیمت علمی اس حدیث من کنت مولاہ کو بھی پیش کیا ہے

محدث زیلعی لکھتے ہیں

کم من حدیث کثرت رواتہ تعددت طرقہ وھو حدیث ضعیف کحدیث الطیر حدیث الحاجم والمحجوم وحدیث من کنت مولاہ۔فعلی مولاہ بل قد لا یزید کثرة الطرق الا ضعفاء وانمایرجح بکثرة الرواة اذاکانت الرواة محتجا بھم من الطرفین

تہذیب

ترجمہ ۔۔٣ کتنی ہیں حدیثیں ہیں جن کے راوی بہت ہیں اور اس کے کئی کئی طریق ہے اور پھر بھی ضعیف ہیں درجہ صحت کو نہیں پہنچتی ہیں جیسے حدیث طیر حدیث الحاجم والمحجوم اور حدیث من کنت مولاہ فعلی مولاہ بلکہ ان کے جس قدر طرق بڑھیں گے اتنا ہی ضعف بڑھے گا

کثرت رواة سے وہاں ترجیح ہوتی ہے جہاں راوی دونوں طرف سے قابل الاحتجاج ہوں حافظ ابن تیمیہ بھی اسی صدی کے ہیں وہ بھی اس روایت پر مطمئن نہیں ہیں

آپ لکھتے ہیں

فلایصح من طرق الثقات اصلا

منہاج السنہ جلد ۴/ ٨٢

یہ روایت ثقہ روایوں کی روایت سے کہیں درجہ صحت کو نہیں پنہچتی یہ حدیث اس قدر درجہ ضعف میں ہے کہ اس سے کسی عقیدے کے اثبات میں حجت نہیں پکڑی جا سکتی چہ جائیکہ اس سے خلافت جیسے اہم مسلے میں نص قرار دیا جائے

عقیدہ قائم کرنے کے لیے دلیل قطعی کی ضرورت ہوتی ہے ظنی دلیل سے اعمال تو ترتیب پا سکتے ہیں عقائد نہیں بنتے خبر واحد صحیح بھی عقیدہ ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں اور یہاں یہ روایت ایک صحیح سند متصل سے بھی ثابت نہیں ہے

14….عبداللہ ابن داہر شعبی کی سند سے ایک روایت یہ بھی ملتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر فرمایا

ھذا اول من آمن بی واول من یصافخی یوم القیامۃ وھو فاروق والباطل وھویعسوب ھذہ الامۃ بین الحق و الباطل وھو یعسوب المومنین المال یعسوب الظلمة وھو الصدیق الاکبروھو خلیفتی من بعدی

 یہ پہلا شخص ہے جو مجھ پر ایمان لایا اور یہ پہلا شخص ہے جو مجھ سے قیامت کے دن مصافحہ کرے گا یہ فاروق ہے جو میری امت میں حق اور باطل میں فیصلہ کرنے والا ہے یہ مومنین کا سردار ہیں یعنی صدیق اکبر ہے جو میرے بعد خلیفہ ہوگا

اس پر علامہ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں

فھذا باطل لم اراحدا ذکرا داھراً ولاابن ابی حاتم وانما البلاء من ابنہ عبداللہ فانہ متروک

یہ روایت باطل ہے اور میں نے نہیں دیکھا کہ کسی نے داہر کا نام لیا ہو ابی حاتم کہتے ہیں کہ اس کا بیٹا متروک ہے

میزان الاعتدال جلد ٣/ ۴۴

15 روی ابو داود الرھاوی انہ سمع شریکا یقول علی خیر البشرفمن ابی فقد کفر

اخرجہ الخطیب فی التاریخ ج۴/ ۴٢١

ابن جوزی موضوعات ج١/ ٣٧٨

حافظ زہبی لکھتے ہیں

قلت بعض الکذابین یرویہ مرفوعا

  میں کہتا ہوں بعض کذاب اس کو مرفوع بھی روایت کرتے ہیں

میزان الاعتدال ج ٣/ ٣٧۴