حضرت عثمان کے دو غلاموں کی ٹانگیں کتے گھسیٹ کر لے گئے۔ (تاریخ طبری)

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر شیعہ کا الزام نمبر۔10

🔺شیعہ الزام 👇👇
حضرت عثمان کے دو غلاموں کی ٹانگیں کتے گھسیٹ کر لے گئے۔ (تاریخ طبری)

🔹(الجواب اہلسنّت)🔹

یہ رافضی مزاج ہے کہ عزت و توقیر کی بات کو بھی بھونڈے انداز میں پیش کر کے اپنے اندر جلنے والے حسد کی آگ کو تسکین دیتے یا مزید بھڑکاتے ہیں ورنہ ہر شخص جانتا ہے کہ میدان میں آدمی شہید ہو جائے اور اس کے جسم کو نقصان پہنچایا
جائے تو یہ جسم کو نقصان پہنچایا جانا اس شہید کے مرتبہ میں اضافہ کا باعث ہوتا ہے ارباب علم سے مخفی نہیں حضرت حمزہ عم رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسم مبارک کا مثلہ کیا گیا اور انکا کلیجہ نکال کر چبایا گیا اس واقعہ کو بھونڈے انداز میں بیان کرنا کہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے کلیجہ کو نکال کر عورتوں نے چبا ڈالا۔

یا کربلا کے شہدا کے اجساد اطہر کی اہانت کو بھونڈے طریقے سے بیان کرنا خود اپنے ایمان کو نذر آتش کرنا ہے۔

جیسے میدان جہاد میں مختلف مجاہدین کے جسموں کی اہانت کی گئی اور دور حاضر میں بھی کئی مقامات پر ایسا کیا جاتا ہے تو اگر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے غلاموں نے ان کے دفاع میں جان کی بازی لگا دی اور اپنے محبوب پر قربان ہو کر خالق حقیقی سے جا ملے اور اغیار نے ان کی لاشوں سے ناروا سلوک کیا تو یہ بات کوئی قابل الزام نہ تھی مگر کیا کیا جائے جن کا مرض سبقت کر چکا ہو دلیل عظمت بھی اسے عیب نظر آۓ ایسوں کا علاج کیا ہوسکتا ہے۔

ان غلاموں کی عظمت کیلئے ان کی شہادت اور بے مثال قربانی کے علاوہ یہ بھی ہے کہ ایک ان دو میں سے ایک نہج (کامیاب ہونے والا) ہے اور دوسرا صبیح ہے جس کا معنی ہے (بہت زیادہ حسین چہرے والا) یہ تو ہے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے غلاموں کی پروانہ وار شہادت اور اغیار کا ان سے سلوک جو عام طور پر دشمن روا رکھا کرتے ہیں جو صاحب مرتبہ کے لیے نہ تو باعث عار ہے اور نہ ہی ذلّت خواری ہاں البتہ اپنوں کے ہاتھوں لاش کا پاؤں میں روندا جانا واقعی قابل عبرت بھی ہے اور بہترین درس بھی تسلی کیلئے روزنامہ جنگ لندن کے اخبار کا مطالعہ بے حد مفید رہے گا خمینی کی وفات کے بعد جو شائع ہوا جس میں قبرستان میں تدفین کے وقت پیش آنے والے احوال اور کفن کا پھاڑ دیا جانا ، لاش کا بھگدڑ میں روندا جانا اور رات 2 بجے کے بعد احمد خمینی کا اپنے باپ کو دفن کرنا وغیرہ احوال پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں کرم فرماؤں کو تو ذرا ذرا یاد ہوگا ہم نے صرف اشارہ کر دیا ہے تا کہ پردہ داری باقی رہے، باقی جن کو بات سمجھانا تھی وہ خوب سمجھ گئے ہوں گے۔


مزید پڑھیں

ایرانی انقلاب کا بانی خمینی کون تھا؟