حضرت عثمان کی خلافت صحابہ کرام کو ناگوار تھی کہ وہ کنبہ پرور تھے۔(ریاض النصرہ، عادلانہ دفاع)

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر شیعہ کا الزام نمبر۔15

🔺شیعہ الزام👇👇
حضرت عثمان کی خلافت صحابہ کرام کو ناگوار تھی کہ وہ کنبہ پرور تھے۔
(ریاض النصرہ، عادلانہ دفاع)

🔹(الجواب اہلسنّت)🔹

اول تو کسی صحابی سے ایسی کوئی بات منقول نہیں جس سے یہ معلوم ہو سکے کہ وہ خلافت عثمان سے نالاں تھے، بلکہ صحابہ کرام مکمل طور پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر اسلامی مملکت کو وسیع سے وسیع تر کرنے میں مصروف رہے چنانچہ یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ امیر المومنین بنے تو ۲۲ لاکھ مربع میل پر اسلامی حکومت قائم تھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں ۴۴ لاکھ مربع میل تک اسلامی حکومت پھیل گئی۔ اکیلے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ حکومت میں ۲۲ لاکھ مربع میل تک اسلامی حکومت کا وسیع وعریض ہو جانا صحابہ کرام کے باہمی اتفاق و اتحاد کے بغیر ممکن نہ تھا اگر صحابہ کرام حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے مطمئن نہ ہوتے تو نہ وہ اتفاق و اتحاد رہتا اور نہ فتوحات کا یہ سلسلہ جاری رہ سکتا جو تمام اہل اسلام پر باخوبی واضح ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں آپس میں لڑائیاں رہیں جس کی وجہ سے فتوحات نہ ہو سکیں۔
معلوم ہوا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا زمانہ خلافت اتفاق و اتحاد، باہمی محبت و الفت کا نمونہ تھا کہ جس کی برکت سے ۲۲ لاکھ مربع میل کا علاقہ فتح ہو کر اسلامی سلطنت میں شامل ہو۔
🔸(٢) حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے عدم اطمینان کا کوئی ارشاد کسی صحابی سے تو منقول نہیں البتہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر اعتراض کرنے والوں کو صحابہ کرام کا جواب دینا اور ان کا دفاع کرنا اور وضاحت کرنا موجود ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے تمام کام ہمارے مشورے سے انجام پاتے تھے چنانچہ احراق مصاحف کے الزام پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا اے لوگو! حضرت عثمان کو کلمہ خیر کے سوا یاد نہ کرو مصاحف اور احراق مصاحف کے بارے میں انہوں نے جو کیا وہ ہمارے مشورے سے ہی کیا تھا۔ (کتاب الصاحف لابی داؤد السجتانی صفحہ ۲۲-۳۳)
اگر کسی طرف سے کوئی شکایت آئی تو بھی اکابر صحابہ کرام سے مشورہ کے بعد ہی فیصلہ صادر کیا جاتا تھا نہ کہ بس مشورہ اپنی طرف سے کوئی حکم نافذ کیا جاتا۔
🔸(٣) یہودی دماغ جو مسلسل اسلامی فتوحات سے خائف اور کھلے میدان میں لڑنے سے عاجز آگیا تھا انہوں نے اسلامی صفوں میں داخل ہوکر سرد جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا اور ابن سباء مسلمانوں میں داخل ہوا گورنری اور عہدے کا طالب بنا تو اسے ناکامی ہوئی چنانچہ کوفہ و بصرہ وغیره مدینہ سے دور دراز علاقوں میں سازشیں کرنے لگا اور جب آل رسول کی آڑ میں چراغ اسلام کو گل کرنے کیلئے زور دار تحریک شروع کی اور حضرت عثمان پر احراق مصاحف سمیت اقرباء نوازی اور طرح طرح کی الزام تراشیاں کر کے عامتہ الناس کو مشتعل کرتا رہا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سمیت اکابر صحابہ کی طرف منسوب کر کے بے شمار خطوط تحریر کیے حالانکہ ان حضرات کو بالکل اس کی خبر تک نہ تھی جن کی طرف یہ خطوط منسوب کیے گئے یہ روایات جو مذکورہ کتابوں میں درج ہیں اس دور کی ایجاد کردہ ہیں جنہیں خاص مہارت سے اطراف و اکناف میں پھیلایا گیا۔
🔸(٤)اقرباء نوازی کا الزام عائد کر کے مذکورہ کتابوں میں یہ کہا گیا ہے کہ انہیں عہدے دئے گئے صحابہ کو عہدے نہ دئیے گئے۔ حالانکہ یہ بات سراسر جھوٹ ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں صحابہ کرام مناصب پر فائز نہ تھے حقیقت یہ ہے کہ اہم اور ذمہ دارانہ مناصب صحابہ کرام کے پاس ہی تھے جس کی تفصیل بیان کرنا یہاں پر ممکن نہیں البتہ ان میں سے بعض حضرات کے اسماء گرامی عرض کر دیتے ہیں جو صحابی تھے اور عثمانی دور میں عامل و ذمہ دار تھے، ولید بن عقبہ، سعید بن العاص، عبد اللہ بن عامر ابوموسیٰ اشعری، زید بن ثابت انصاری ، خالد بن العاص مغیرہ بن شعبہ، سعد بن ابی وقاص، عبد الله بن ارقم علی بن عدی بن ربیعہ جریر بن عبد الله عبد اللہ بن ربیعہ، حضرت امیر معاویہ، قاسم بن ربیعہ عبد اللہ بن عردہ الحضرمی، قاسم بن ربيعہ ثقفی، عبداللہ بن الحارث ہاشمی یہ حضرات صحابہ کرام حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں مختلف ذمہ داریوں پر مامور تھے لہذا یہ سراسر بہتان ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں صحابہ کرام کو عہدے اور مناصب نہ دیے جاتے تھے۔
🔸(٥)حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ تک فتوحات بہت زیادہ ہو گئیں اور عہدہ دینے کیلئے اعتماد کی ضرورت ہے لہذا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے اعتماد پر جس کو مناسب جانا کسی منصب پر فائز فرما دیا نظام مملکت چلانے کیلئے با اعتماد افراد کو ہی ذمہ داریاں دی جاسکتی ہیں چنانچہ اس اعتماد کا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی لحاظ رکھا یہ بات ہرگز قابل اعتراض نہیں اور نہ ہی عقل دانش رکھنے والا کوئی شخص اسے معیوب قرار دے سکتا ہے کیونکہ نظام کو درست رکھنے کیلئے با اعتماد افراد کا ہی سہارا لینا عقل و دانش کے مطابق ہے۔
🔸(٦)یہ بات بھی خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ اسلامی شریعت نے حاکم وقت پر کوئی ایسی پابندی عائد نہیں کی کہ اس کے خاندان کا کوئی فرد عامل یا عہدیدار نہیں بن سکتا اگر بالفرض قرآن وسنت میں کوئی ایسی نص موجود ہوتی جس سے یہ ثابت ہوتا کہ خلیفہ کے خاندان یا قبیلہ کا کوئی فرد عامل یا عہدیدار نہیں بن سکتا تو البتہ یہ اعتراض قابل توجہ ضرور ہوتا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے اقرباء و اعزا کو عہدہ اور منصب دے کر اس نص کی مخالفت کی ہے، جب یہ بات واضح ہے کہ اپنے اعزا میں سے با اعتماد لوگوں کو بھی کوئی منصب یا عہدہ دیا ہے جیسے کہ دوسرے اہل لوگوں کو بعض مناصب پر نگران بنایا گیا تو اس میں انہوں نے کسی قانون شرعی اور حکم خدا و رسول کی نافرمانی نہیں کی اور اس بات کا اعتراف ناقدین کو بھی ہے تو پھر آخر اس عنوان کو اچھال کر کس کی خدمت کی جا رہی ہے؟ اہل دین کی یا دشمنانِ دین کی؟
🔸(٧) ہم عرض گزار ہیں کہ اقرباء پروری کا الزام رافضی خانہ ساز فیکٹری کا ایجاد شدہ ہے اور یہ سبائی روایات کے جنگل میں پیدا ہونے والی رقوم بوٹی ہے اہلسنّت کے نزدیک ان کی کوئی حیثیت نہیں کہ یہ روایات اسلام دشمنوں کی گھڑی ہوئی ہیں۔
جواب کے ہمارے یہ صفحات تفصیل کے متحمل نہیں جو حضرات مزید تفصیل کے طالب ہوں وہ حضرت مولانا محمد نافع رحمہ اللہ کی رحماء بينهم حصہ چہارم، حضرت علامہ خالد محمود صاحب پی ایچ ڈی مدظلہ کی خلفائے راشدین کا مطالعہ فرمائیں۔